السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3131. -- باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك
-- باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 15320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحَمَدٍ التَّاجِرُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا⦗٦٥٨⦘ بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَهْلٌ: وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى. وَمِنْهُمْ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے“، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ ان دونوں کی جدائی بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے سنت بن گئی، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ حاملہ تھی اور بیٹے کو ماں کی جانب منسوب کیا جاتا تھا، پھر یہی طریقہ جاری ہو گیا کہ ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہو جو اللہ نے ان کے حصے مقرر کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15320]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15321
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الصَّيْرَفِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ" قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، وَكَانَتِ السُّنَّةُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا. قَالَ أَبُو يَعْلَى:" قَدْ قُضِيَ فِيكَ" قَالَ هُوَ وَالْحَسَنُ: فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا" وَقَالَا: فَكَانَتْ سُنَّةً بَيْنَهُمْ، وَحَدِيثُهُمْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَاحِدٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَمِنْهُمْ عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ.
امام زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو آپ اس کو (قصاص میں) قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ اللہ رب العزت نے لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں حکم نازل فرما دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان دونوں کے لعان کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، اس نے اس کو جدا کر دیا اور سنت بھی یہی ہے کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ عورت حاملہ تھی، خاوند نے حمل کا انکار کر دیا، بچے کی نسبت ماں کی طرف کر دی گئی اور اللہ نے جو حصہ وراثت میں ماں بیٹے کا رکھا ہے، وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ ابو یعلیٰ کہتے ہیں: ”تیرے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے“، ابو یعلیٰ اور حسن کہتے ہیں: اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں۔ اور ان دونوں نے کہا: پھر یہ ان میں سنت بن گئی، اور باقی باتوں میں ان کی روایت ایک ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15321]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15322
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَصَارَ مَا صُنِعَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةً، قَالَ سَهْلٌ: وَحَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا" وَمِنْهُمْ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، وَزَادَ فِيهِ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ بھی فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیے گئے کام کو سنت ٹھہرا دیا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے یہی سنت مقرر کر دی گئی کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی جائے گی، پھر وہ کبھی جمع نہ ہوں گے۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15322]
حدیث نمبر: 15323
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّعْدِيَّ يَقُولُ:" شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَنَا أَمْسَكْتُهَا" ⦗٦٥٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
امام زہری رحمہ اللہ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، ان میں تفریق کروا دی گئی۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس کو بیوی بنا کر رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15323]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يُتَابِعِ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِذَلِكَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ.
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی کسی ایک نے بھی متابعت نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے ان کی مراد زہری کی سہل بن سعد سے روایت ہے، سوائے اس کے جو ہم نے زبیدی عن زہری سے روایت کیا ہے۔ رہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث، تو وہ یوں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15324]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے ان کی مراد زہری کی سہل بن سعد سے روایت ہے، سوائے اس کے جو ہم نے زبیدی عن زہری سے روایت کیا ہے۔ رہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث، تو وہ یوں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15324]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15325
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي عَجْلَانَ، وَقَالَ هَكَذَا بِأُصْبُعِهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى فَقَرَنَهُمَا، الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا يَعْنِي الْمُسَبِّحَةَ، وَقَالَ:" إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ. وَرَوَاهُ عَزْرَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دو بھائیوں میں تفریق کروائی۔
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور وسطیٰ کو ملایا اور فرمایا: ”بلاشبہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کے لیے تیار ہے؟“
(ج) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15325]
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت والی انگلی اور وسطیٰ کو ملایا اور فرمایا: ”بلاشبہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کے لیے تیار ہے؟“
(ج) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15325]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15326
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي، قَالَ:" لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا أَوْ مِنْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کو فرمایا: ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تیرا اپنی بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کوئی مال نہیں۔ اگر تو نے اس پر سچ بولا ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے عوض ختم۔ اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ تو پھر اس سے بھی دور کی بات ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15326]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15327
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ⦗٦٦٠⦘ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" قَدْ فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
عذرہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کروائی۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15327]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15328
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا" فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُحْتَمَلُ طَلَاقُهُ ثَلَاثًا، يَعْنِي فِي حَدِيثِ سَهْلٍ أَنْ يَكُونَ بِمَا وَجَدَ فِي نَفْسِهِ بِعِلْمِهِ بِصِدْقِهِ وَكَذِبِهَا وَجُرْأَتِهَا عَلَى النَّهْيِ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَاهِلًا بِأَنَّ اللِّعَانَ فُرْقَةٌ، فَكَانَ كَمَنْ طَلَّقَ مَنْ طَلَّقَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ طَلَاقِهِ وَكَمَنْ شَرَطَ الْعُهْدَةَ فِي الْبَيْعِ، وَالضَّمَانَ فِي السَّلَفِ، وَهُوَ يَلْزَمُهُ شَرَطَ أَوْ لَمْ يَشْرِطْ، قَالَ: وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَتَفْرِيقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ فُرْقَةِ الزَّوْجِ إِنَّمَا هُوَ تَفْرِيقُ حُكْمٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا فِي حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ، وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى؛ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا"، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُؤَكِّدُ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اپنے بچے کا انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔
نوٹ: سہل کی حدیث میں تین طلاقوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سچائی کا علم تھا اور بیوی کے جھوٹے ہونے کا یقین اور اس کے انکار پر جرأت کی وجہ سے انہوں نے تین طلاقیں لاعلمی کی وجہ سے دے دیں، کیونکہ لعان بذاتِ خود جدائی ہے۔ تو وہ اس شخص کی طرح ہوئے جو ایسی عورت کو طلاق دے جو اس کی طلاق کے بغیر ہی اس سے جدا ہو چکی ہو، اور جیسا کہ بیع میں عہد کی شرط لگانا اور سلف میں ضمانت کی شرط لگانا حالانکہ یہ لازم ہی ہوتا ہے شرط لگائے یا نہ لگائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تفریق کروانا یہ خاوند کے الگ کرنے کے علاوہ ہے، یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفریق کا حکم دیا ہے۔
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہلال بن امیہ کے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ والدہ اور بچے کو عار نہ دلائی جائے اور جو کوئی تہمت لگائے اسے حد لگائی جائے اور اس عورت کے لیے خوراک، رہائش نہ ہوگی؛ کیونکہ ان کے درمیان تفریق طلاق اور وفات کے بغیر ہوئی ہے۔
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی تائید کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15328]
نوٹ: سہل کی حدیث میں تین طلاقوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سچائی کا علم تھا اور بیوی کے جھوٹے ہونے کا یقین اور اس کے انکار پر جرأت کی وجہ سے انہوں نے تین طلاقیں لاعلمی کی وجہ سے دے دیں، کیونکہ لعان بذاتِ خود جدائی ہے۔ تو وہ اس شخص کی طرح ہوئے جو ایسی عورت کو طلاق دے جو اس کی طلاق کے بغیر ہی اس سے جدا ہو چکی ہو، اور جیسا کہ بیع میں عہد کی شرط لگانا اور سلف میں ضمانت کی شرط لگانا حالانکہ یہ لازم ہی ہوتا ہے شرط لگائے یا نہ لگائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تفریق کروانا یہ خاوند کے الگ کرنے کے علاوہ ہے، یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تفریق کا حکم دیا ہے۔
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہلال بن امیہ کے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ والدہ اور بچے کو عار نہ دلائی جائے اور جو کوئی تہمت لگائے اسے حد لگائی جائے اور اس عورت کے لیے خوراک، رہائش نہ ہوگی؛ کیونکہ ان کے درمیان تفریق طلاق اور وفات کے بغیر ہوئی ہے۔
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی تائید کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15328]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح