السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3140. -- باب: لا لعان حتى يقذف الرجل زوجته بالزنا صريحا
-- باب: اس بیان میں کہ لعان نہیں ہوتا یہاں تک کہ مرد اپنی بیوی پر صریح الفاظ میں زنا کی تہمت لگائے۔
حدیث نمبر: 15361
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا عَبْدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ جُمُعَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ فَقَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا" قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ.
علقمہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے کہا: اس نے اپنی عورت کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو دیکھا ہے، کیا وہ اس کو قتل کرے تو تم اس کو قصاصاً قتل کر دو گے؟ اگر بات کرے گا تو تم کوڑے لگاؤ گے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کروں گا، تو اس کے بیان کے بعد اللہ نے لعان کی آیت نازل فرمائی۔ پھر اس شخص نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کروا دیا اور فرمایا: ”شاید وہ سخت سیاہ بچہ جنم دے۔“ راوی کہتے ہیں: اس نے سخت سیاہ بچہ جنم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1495»
الحكم على الحديث: صحيح