السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3151. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: {ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن}
-- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اسے چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے“ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15413
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ بَيِّنًا فِي الْآيَةِ بِالتَّنْزِيلِ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِلْمُطَلَّقَةِ أَنْ تَكْتُمَ مَا فِي رَحِمِهَا مِنَ الْمَحِيضِ وَذَلِكَ يَحْتَمِلُ الْحَمْلَ مَعَ الْحَيْضِ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ⦗690⦘: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: 228] الْمَرْأَةُ الْمُطَلَّقَةُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَقُولَ أَنَا حُبْلَى وَلَيْسَتْ بِحُبْلَى وَلَا لَسْتُ بِحُبْلَى وَهِيَ حُبْلَى وَلَا أَنَا حَائِضٌ وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ وَلَا لَسْتُ بِحَائِضٍ وَهِيَ حَائِضٌ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور آیت کے نزول سے یہ بات واضح تھی کہ طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے رحم میں موجود حیض کو چھپائے، اور اس میں حیض کے ساتھ حمل کا بھی احتمال ہے۔“
اور سعید بن سالم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھپائیں۔“ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرمایا: ”طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ کہے: میں حاملہ ہوں، حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حاملہ نہیں ہوں، حالانکہ وہ حاملہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی ہوں، حالانکہ وہ حیض والی نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی نہیں ہوں، حالانکہ وہ حیض والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: Q15413]
اور سعید بن سالم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ ”اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھپائیں۔“ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرمایا: ”طلاق یافتہ عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ کہے: میں حاملہ ہوں، حالانکہ وہ حاملہ نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حاملہ نہیں ہوں، حالانکہ وہ حاملہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی ہوں، حالانکہ وہ حیض والی نہ ہو، اور نہ یہ کہ میں حیض والی نہیں ہوں، حالانکہ وہ حیض والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: Q15413]
حدیث نمبر: 15413
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ:" أَكْثَرُ مَا عُنِيَ بِهِ الْحَيْضُ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے اکثر جو مراد لیا گیا ہے وہ حیض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15413]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15414
قَالَ: وَنا سَعِيدٌ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" الْحَيْضُ".
عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حیض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15414]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15415
قَالَ: وَنا سَعِيدٌ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ إِنِّي حَائِضٌ وَلَيْسَتْ بِحَائِضٍ أَوْ تَقُولَ: إِنِّي لَسْتُ بِحَائِضٍ وَهِيَ حَائِضٌ أَوْ تَقُولَ: إِنِّي حُبْلَى وَلَيْسَتْ بِحُبْلَى أَوْ تَقُولَ: إِنِّي لَسْتُ بِحُبْلَى وَهِيَ حُبْلَى، وَكُلُّ ذَلِكَ فِي بُغْضِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا وَحُبِّهِ".
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ کہے: میں حائضہ ہوں اور حائضہ نہ ہو، یا وہ کہے کہ میں حائضہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حائضہ ہو، یا وہ یہ کہے کہ میں حاملہ ہوں اور وہ حاملہ نہ ہو، یا وہ کہے کہ میں حاملہ نہیں ہوں حالانکہ وہ حاملہ ہو۔ یہ تمام (عمل) عورت کے اپنے خاوند سے بغض یا اس سے محبت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15415]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره