الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5741. وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (1) فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (3) فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا (4) فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (5) إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (6) وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (8) أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (9) وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (10) إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَخَبِيرٌ (11)
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے تیزی سے دوڑتے ہیں، پھر اپنی ٹاپوں کی ضرب سے چنگاریاں نکالتے ہیں، پھر صبح کے وقت اچانک حملہ آور ہوتے ہیں، پھر اس ہنگامے میں گرد و غبار اڑاتے ہیں، پھر اسی حالت میں دشمن کے مجمع کے درمیان جا گھستے ہیں، بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے، اور یقیناً وہ خود بھی اس حقیقت پر گواہ ہے، اور بلا شبہ وہ مال و دولت کی محبت میں بہت شدید ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ ہے اسے نکال کر باہر بکھیر دیا جائے گا، اور سینوں کے تمام پوشیدہ بھید ظاہر کر دیے جائیں گے، یقیناً ان کا رب اس دن ان کے تمام احوال سے بخوبی واقف ہو گا۔
حدیث نمبر: A700
قوله: وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا جمع العادية، وهو اسم فاعل من العدو والسير السريع، ولذا قال جمع من المفسرين من الصحابة والتابعين وغيرهم: هي الخيل العادية في سبيل الله.
تخریج الحدیث: «»