السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
275. -- باب: قدر القلتين
-- باب: دو قلہ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1255
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ⦗٤٠٠⦘ قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ: سَأَلْنَا ابْنَ إِسْحَاقَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْقُلَّتَيْنِ فَقَالَ:" هَذِهِ الْجِرَارُ الَّتِي يُسْتَقَى فِيهَا الْمَاءُ وَالدَّوَارِيقُ".
عبدالرحیم بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ سے «قُلَّتَيْنِ» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ وہی مٹکے ہیں جن میں پانی بھرا جاتا ہے، اور بڑے بڑے برتن (دواریق)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1256
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَكِيلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هُشَيْمًا، يَقُولُ:" الْقُلَّتَيْنِ يَعْنِي الْجَرَّتَيْنِ الْكِبَارَ".
حسن بن عرفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشیم رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: «قُلَّتَيْنِ» سے مراد دو بڑے بڑے مٹکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/19»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1257
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ:" يَعْنِي بِالْقُلَّةِ الْجَرَّةَ".
وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «قُلَّةٌ» سے مراد مٹکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1258
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ:" الْقُلَّةُ الْجَرَّةُ".
یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ کہتے ہیں: «قُلَّة» سے مراد مٹکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ أنا عَبْدُ الْوَهَّابٍ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ الْخَفَّافَ، أنا سَعِيد يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ وَفِيهِ:" ثُمَّ رُفِعْتُ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى" فَحَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ وَرَقَهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَأَنَّ نَبْقَهَا مِثْلَ قِلَالِ هَجَرَ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج والی حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر ہجر شہر کے مٹکوں کی طرح تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3674»
الحكم على الحديث: صحيح
276. -- باب: صفة بئر بضاعة
-- باب: بئرِ بضاعہ (بضاعہ نامی کنویں) کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، قَالَ:" أَمَّا حَدِيثُ بِئْرِ بُضَاعَةَ فَإِنَّ بِئْرَ بُضَاعَةَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ وَاسِعَةٌ كَانَ يُطْرَحُ فِيهَا مِنَ الْأَنْجَاسِ مَا لَا يُغَيِّرُ لَهَا لَوْنًا وَلَا طَعْمًا وَلَا يَظْهَرُ لَهُ فِيهَا رِيحٌ فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجِيبًا:" الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" وَبَيَّنَ أَنَّهُ فِي الْمَاءِ مِثْلُهَا إِذْ كَانَ مُجِيبًا عَلَيْهَا".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بضاعہ کنویں والی حدیث جس میں ہے کہ بضاعہ کنویں میں بہت زیادہ گہرا پانی ہوتا تھا اور اس میں گندگیاں پھینکی جاتی تھیں جو اس کے رنگ اور ذائقے کو تبدیل نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی اس میں بدبو ظاہر ہوتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: آپ بضاعہ کنویں سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں اس طرح کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ اس سے واضح ہو گیا کہ وہ پانی میں اسی طرح تھا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ⦗٤٠١⦘ قَالَ: قَالَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِهَا، فَقَالَ:" أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيهَا الْمَاءُ إِلَى الْعَانَةِ قُلْتُ: فَإِذَا نَقَصَ، قَالَ: دُونَ الْعَوْرَةِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَرَعْتُهُ فَإِذَا عَرْضُهَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتْحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْهِ هَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُهَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: لَا، وَرَأَيْتُ فِيهَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ..
قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قَیِّم سے بئرِ بضاعہ کی گہرائی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: زیادہ سے زیادہ پانی زیرِ ناف تک ہوتا ہے۔ میں نے کہا: جب کم ہو جائے؟ انہوں نے کہا: شرمگاہ سے نیچے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بئرِ بضاعہ کا میں نے اپنی چادر سے اندازہ لگایا، میں نے اس کو اس پر پھیلایا پھر اس کی پیمائش کی تو اس کا عرض چھ ہاتھ تھا۔ جس شخص نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور مجھے اندر لے گیا، میں نے اس سے پوچھا: کیا اس کی بنیادیں تبدیل کر دی گئی ہیں جس پر وہ پہلے تھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں نے اس میں پانی دیکھا جس کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
277. -- باب: ما جاء في نزح زمزم
-- باب: آبِ زمزم کا پانی نکالنے (خالی کرنے) کے حوالے سے وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 1262
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ يَعْنِي فَمَاتَ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ قَالَ: فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءَتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ فَأَمَرَ بِهَا فَدُسَّتْ بِالْقَبَاطِيِّ وَالْمَطَارفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ" وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَأَمَرَهُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِنَزْحِهِ وَهَذَا بَلَاغٌ بَلَغَهُمَا فَإِنَّهُمَا لَمْ يَلْقَيَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَسْمَعَا مِنْهُ، ⦗٤٠٢⦘ وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ مَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَرَّةً عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ نَفْسِهِ أَنَّ غُلَامًا وَقَعَ فِي زَمْزَمَ فَنُزِحَتْ وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: لَا نَعْرِفُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَمْزَمُ عِنْدَنَا مَا سَمِعْنَا بِهَذَا.
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر کر مر گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کو نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کنویں کا سارا پانی نکالا جائے۔ کہتے ہیں کہ وہ چشمہ ان پر غالب آ گیا جو رکن کی جانب سے پھوٹ رہا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حکم پر اس چشمے کو قبطی کپڑوں اور ریشمی چادروں کے ساتھ بند کر دیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے کنویں کو خالی کر لیا۔ جب انہوں نے اسے خالی کر لیا تو وہ (چشمہ) ان پر پھوٹ کر بہنے لگا۔
(ب) ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس (کنویں) کا پانی نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو (بلاغاً) پہنچی ہے۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہ ملاقات ہوئی ہے اور نہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ (د) جابر جعفی کبھی ابوالطفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوالطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گر گیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابلِ حجت نہیں۔ (ر) ابن لہیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لہیعہ قابلِ حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرنا معلوم نہیں، زمزم ہمارے پاس ہے اور اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1262]
(ب) ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ ایک حبشی زمزم میں گر گیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس (کنویں) کا پانی نکالنے کا حکم دیا۔ یہ خبر ان دونوں کو (بلاغاً) پہنچی ہے۔ (ج) ان دونوں کی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نہ ملاقات ہوئی ہے اور نہ انہوں نے ان سے سنا ہے۔ (د) جابر جعفی کبھی ابوالطفیل عن ابن عباس سے اور کبھی ابوالطفیل خود ہی روایت کرتا ہے کہ ایک غلام زمزم میں گر گیا تو اس کو کھینچ کر نکالا گیا۔ جابر جعفی قابلِ حجت نہیں۔ (ر) ابن لہیعہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور ابن لہیعہ قابلِ حجت نہیں۔ (س) زعفرانی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرنا معلوم نہیں، زمزم ہمارے پاس ہے اور اس کے متعلق کوئی ایسا واقعہ نہیں سنا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/33»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1263
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ:" إِنَّا بِمَكَّةَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً لَمْ أَرَ أَحَدًا صَغِيرًا وَلَا كَبِيرًا يَعْرِفُ حَدِيثَ الزَّنْجِيِّ الَّذِي قَالُوا إِنَّهُ وَقَعَ فِي زَمْزَمَ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ: نُزِحَ زَمْزَمُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَكَذَلِكَ لَا يَنْبَغِي لِأَنَّ الْآثَارَ قَدْ جَاءَتْ فِي نَعْتِهَا أَنَّهَا لَا تُنْزَحُ وَلَا تُذَمُّ لَا أَدْرِي أَبُو قُدَامَةَ حَكَاهُ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ الشَّافِعِيُّ لِمُخَالِفِيهِ: قَدْ رَوَيْتُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ أَفَتَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرًا وَيَتْرُكُهُ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ رِوَايَتُهُ وَتَرْوُونَ عَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ غَدِيرٍ يُدَافِعُ جِيفَةً، وَتَرْوُونَ عَنْهُ: الْمَاءُ لَا يَنْجُسُ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ مِنْ هَذَا صَحِيحًا فَهُوَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْزَحْ ⦗٤٠٣⦘ زَمْزَمَ لِلنَّجَاسَةِ وَلَكِنْ لِلتَّنْظِيفِ إِنْ كَانَ فَعَلَ وَزَمْزَمُ لِلشُّرْبِ وَقَدْ يَكُونُ الدَّمُ ظَهَرَ عَلَى الْمَاءِ حَتَّى رُئِيَ فِيهِ.
ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ستر سال سے مکہ میں تھا، میں نے چھوٹے اور بڑے کسی کو نہیں دیکھا جو زنجی کی حدیث کو جانتا ہو اور وہ (حدیث) جو انہوں نے بیان کی کہ کوئی زمزم میں گر گیا تھا۔ میں نے کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ زمزم کو خالی کیا گیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زمزم کے بارے میں تو آثار ہیں کہ اس کا پانی نہیں نکالا جائے گا اور نہ اس کی بے حرمتی ہو گی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ابو قدامہ نے اس کو ابو عبید عن ابو ولید فقیہ رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے مخالفین سے کہا: تم خود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث بیان کرتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ کیا تمہارا خیال ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کریں اور پھر خود اسے چھوڑ دیں، اگر یہ واقعی ان کی روایت ہے؟ اور تم ان سے یہ بھی روایت کرتے ہو کہ انہوں نے ایک ایسے تالاب سے وضو کیا جس میں مردار تیر رہا تھا، اور یہ بھی روایت کرتے ہو کہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ اگر ان میں سے کوئی بات صحیح ہو تو یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر انہوں نے زمزم کا پانی نکالا بھی تھا تو نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ صفائی کے لیے نکالا تھا، زمزم پینے کے لیے ہے اور ہو سکتا ہے کہ پانی پر خون ظاہر ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس میں دکھائی دینے لگا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ بِمَاءٍ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَحَمَّتْ بِهِ فُلَانَةُ الْآنَ يَعْنِي امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ قَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ابھی فلاں نے، یعنی آپ کی بیویوں میں سے ایک نے، اس سے غسل کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه عبد الرزاق 396»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ