السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
650. -- باب: الصلاة في الرداء
-- باب: چادر میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3298
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، ⦗٣٤١⦘ عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَأَطْلَقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ وَطَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ وَاشْتَمَلَ بِهَا، وَقَامَ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟" وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي رُوِّينَاهَا فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ الْمُرَادُ بِهِ الرِّدَاءُ أَوْ مَا يُشْبِهُ الرِّدَاءَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
قیس بن طلق اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ازار بند کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ اپنی چادر بھی چھوڑ دی اور اس چادر کو لپیٹ لیا اور کھڑے ہو گئے، پھر ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا چکے تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟“
وہ احادیث جو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان سے مراد چادر یا اس جیسا کوئی اور کپڑا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3298]
وہ احادیث جو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنے کے بارے میں بیان کی گئی ہیں ان سے مراد چادر یا اس جیسا کوئی اور کپڑا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني تخريجه في 3388»
الحكم على الحديث: صحيح
651. -- باب: الصلاة في الإزار وعقده على القفاء
-- باب: تہبند میں نماز پڑھنے اور اسے گدی (گردن کے پچھلے حصے) پر باندھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3299
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وَثِيَابُهُ مَوْضُوعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِي أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے تہبند میں نماز پڑھی، اس تہبند کو انہوں نے اپنی گدی پر رکھ کر گرہ لگا دی اور ان کے کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے۔ کسی نے کہا: کیا آپ (کپڑے ہونے کے باوجود) ایک کپڑے میں نماز ادا کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”سنو! میں نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ تمہاری طرح کے بے وقوف مجھے دیکھ لیں۔ ذرا بتاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (فقر و غربت کی وجہ سے) ہم میں سے کس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 355»
الحكم على الحديث: صحيح
652. -- باب: ظهور العورة من أسفل الإزار عند السجود
-- باب: سجدے کے وقت تہبند کے نیچے سے ستر ظاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ عَاقِدُونَ أُزُرَهُمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى تَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تو اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے نماز ادا کرتے اور عورتوں کو کہا گیا: ”تم نماز میں اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھاؤ جب تک مرد حضرات سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3300]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِينَ أُزُرَهُمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلٌ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے۔ کسی نے کہا: اے خواتین کی جماعت! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھایا کرو جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 851»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3302
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ ⦗٣٤٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كَانَتْ مِنْكُنَّ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخَرِ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَيْنَ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے جو عورت اللہ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک مرد اپنے سر نہ اٹھا لیں، کہیں ان کی نظر مردوں کے ستر پر نہ پڑ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 431۔ ابوداود 851»
الحكم على الحديث: صحيح
653. -- باب: من جمع ثوبه بيده كراهية أن تبدو عورته
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے ستر ظاہر ہونے کی ناپسندیدگی کے باعث اپنے کپڑے کو ہاتھ سے اکٹھا کر لیا
حدیث نمبر: 3303
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، إِمَّا بُرْدَةٌ وَإِمَّا كِسَاءٌ قَدْ رَبَطُوهَا فِي أَعْنَاقِهِمْ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقِ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَبْدُوَ عَوْرَتُهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عِيسَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے صفہ کے ستر طالب علموں کو دیکھا، ان میں سے کسی کے پاس بھی چادر نہ تھی سوائے دھاری دار چادر کے یا موٹے کمبل کے اور اس کو انہوں نے اپنی گردنوں میں باندھا ہوتا، ان میں سے کچھ کی نصف پنڈلی تک ہوتی اور کچھ کی ٹخنوں تک، وہ کپڑے کو اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کر لیتے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔
یہی حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یوسف بن عیسیٰ کے واسطے سے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3303]
یہی حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں یوسف بن عیسیٰ کے واسطے سے نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3303]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 638»
الحكم على الحديث: ضعيف
654. -- باب: كراهية إسبال الإزار في الصلاة
-- باب: نماز میں تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3304
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ" فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ"" هَكَذَا رَوَاهُ أَبَانُ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى وَخَالَفَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ وہ شخص گیا اور وضو کر کے حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ وہ شخص گیا اور دوبارہ وضو کر کے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں دیا، پھر آپ اس کے بارے میں خاموش ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور جو شخص تہبند لٹکا کر نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3304]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3305
كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْمَدَنِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ" فَتَوَضَّأَ ثُمَّ عَادَ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شَأْنُكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ:" إِنِّي إِنَّمَا أَمَرْتُهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ إِنَّهُ كَانَ مُسْبِلًا إِزَارَهُ وَلَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ" رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، فَأَسْقَطَ مَنْ بَيْنَ يَحْيَى وَعَطَاءٍ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”جاؤ جا کر وضو کرو۔“ اس نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ اسے وضو کرنے کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس لیے اس کو وضو کرنے کا کہتا تھا کہ تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جو تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه ابوداود الطيالسي 351»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ثَابِتٌ أَنَّهُ رَأَى أَعْرَابِيًّا عَلَيْهِ شَمْلَةٌ قَدْ ذَيَّلَهَا وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ فِي الصَّلَاةِ لَيْسَ مِنَ اللهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: رَوَى هَذَا جِمَاعَةٌ، عَنْ عَاصِمٍ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَأَبُو الْأَحْوَصِ وَأَبُومُعَاوِيَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي الْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ الْمُطْلَقَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ جَرِّ الْإِزَارِ دَلِيلٌ عَلَى كَرَاهِيَتِهِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دیہاتی کو دیکھا جو ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا اور اسے ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز میں ازراہِ تکبر اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکایا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ نہ جنت حلال کرے گا نہ جہنم حرام۔“
امام ابوداود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عاصم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے، ان میں حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابو احوص اور ابو معاویہ رحمہم اللہ ہیں۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ تہبند لٹکانے کی ممانعت میں ثابت اور مطلق احادیث اس کی نماز اور عام حالت میں کراہت کی دلیل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3306]
امام ابوداود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کو راویوں کی ایک جماعت نے عاصم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے، ان میں حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابو احوص اور ابو معاویہ رحمہم اللہ ہیں۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ تہبند لٹکانے کی ممانعت میں ثابت اور مطلق احادیث اس کی نماز اور عام حالت میں کراہت کی دلیل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 743»
الحكم على الحديث: منكر
655. -- باب: كراهية السدل في الصلاة وتغطية الفم
-- باب: نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے) اور منہ ڈھانپنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ أَبُو الْحَسَنِ الْبَزَّارُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3307]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر