السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
885. -- باب: ذكر البيان أن هذا النهي مخصوص ببعض الأمكنة دون بعض
-- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت بعض جگہوں کے ساتھ خاص ہے نہ کہ تمام کے ساتھ
حدیث نمبر: 4419
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا طَافُوا بِالْبَيْتِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ جَلَسُوا إِلَى الْمُذَكِّرِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" قَعَدُوا حَتَّى إِذَا حَانَتْ سَاعَةٌ يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فجر کے بعد لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، پھر ذکر کے لیے بیٹھ جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ممنوع وقت شروع ہوتا تو اٹھ کر نماز پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1628»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ:" رَأَيْتُ أَنَا وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ابْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَصَلَّى قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
عمرو بن دینار فرماتے ہیں: میں نے اور عطاء بن ابی رباح نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ فجر کے بعد طواف کرتے اور طلوعِ آفتاب سے پہلے نماز پڑھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4421
وَأنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ:" رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِنَافِعٍ، فَقَالَ نَافِعٌ:" كَذَبَ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ".
عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے طواف کرتے دیکھا، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کا تذکرہ میں نے نافع رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو نافع رحمہ اللہ فرمانے لگے: مکہ والوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق غلطی لگ گئی ہے۔
نافع رحمہ اللہ کی یہ تکذیب مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے۔ جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مکہ والوں سے روایت ہے، اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرتے تکذیب نہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما عصر اور صبح کے بعد نمازِ جنازہ پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح طواف کی دو رکعات بھی، لیکن طلوعِ شمس اور غروب کے وقت ان کے نزدیک نماز ممنوع ہے اور اہل مکہ جو ان سے روایت کرتے ہیں، ممکن ہے وہ ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہو۔ ( «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ») [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4421]
نافع رحمہ اللہ کی یہ تکذیب مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کی عدالت کے متعلق نہیں جانتے۔ جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مکہ والوں سے روایت ہے، اگر وہ جانتے تو اس کی تصدیق کرتے تکذیب نہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما عصر اور صبح کے بعد نمازِ جنازہ پڑھ لیتے تھے۔ اسی طرح طواف کی دو رکعات بھی، لیکن طلوعِ شمس اور غروب کے وقت ان کے نزدیک نماز ممنوع ہے اور اہل مکہ جو ان سے روایت کرتے ہیں، ممکن ہے وہ ان کے اپنے مذہب کے مطابق ہو۔ ( «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ») [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح تقدم
حدیث نمبر: 4422
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ" أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ،" طَافَا بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّيَا".
ابو سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد کا طواف کیا اور نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4423
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّى".
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو عصر کے بعد طواف کرتے دیکھا اور انہوں نے نماز بھی پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4424
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ مَغَارِبِ الشَّمْسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُونَ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْبَلْدَةَ بَلْدَةٌ لَيْسَتْ كَغَيْرِهَا".
ابو درداء رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے کے وقت طواف کیا اور غروبِ شمس سے پہلے دو رکعت ادا کر لیں، ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور خود فرماتے ہیں کہ ”عصر کے بعد غروبِ شمس تک کوئی نماز نہیں ہے۔“ ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ شہر دوسرے شہروں کی طرح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4424]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4425
أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَدَائِنِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ:" صَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي طُوًى وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبد الرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں صبح کی نماز پڑھی، پھر بیت اللہ کے سات چکر کاٹے۔ پھر چلے اور مدینہ منورہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، جب «ذِي طُوًى» نامی جگہ پر پہنچے تو سورج طلوع ہو گیا، انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4425]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4426
وَأنبأ أَبُو النَّصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أنه طَافَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْكَعْبَةِ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ فَرَكِبَ حَتَّى أَنَاخَ بِذِي طُوًى فَسَبَّحَ رَكْعَتَيْنِ" وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَغَيْرُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
عبدالرحمن بن عبدالقاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طواف مکمل کیا تو سورج کو دیکھا، وہ ابھی طلوع نہیں ہوا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور ذی طویٰ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں دو رکعت نفل ادا کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قِرَاءَةً، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٦٥١⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ الْمَدَائِنِيِّ قَالَ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى: قَالَ لِي الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: اتَّبَعَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي قَوْلِهِ لِلزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمِجَرَّةَ، يُرِيدُ لُزُومَ الطَّرِيقِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَذَلِكَ أَنَّ مَالِكًا وَيُونُسَ وَغَيْرَهُمَا رَوَوَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيِّ، عَنْ عُمَرَ، فَأَرَادَ الشَّافِعِيُّ أَنَّ سُفْيَانَ وَهِمَ، وَأَنَّ الصَّحِيحَ مَا رَوَاهُ مَالِكٌ.
ایضاً۔
یونس بن عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں مجھ سے فرمایا: سفیان بن عیینہ نے «زہری عن عروہ عن عبدالرحمن» کہنے میں عام راستے کی پیروی کی ہے، یعنی معروف سند پر چل پڑے۔ عبدالرحمن بن محمد کہتے ہیں: اس لیے کہ مالک، یونس اور دیگر نے یہ حدیث زہری سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمن القاری سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، تو امام شافعی کی مراد یہ تھی کہ سفیان کو وہم ہوا ہے اور صحیح وہی ہے جو مالک نے روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4427]
یونس بن عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں مجھ سے فرمایا: سفیان بن عیینہ نے «زہری عن عروہ عن عبدالرحمن» کہنے میں عام راستے کی پیروی کی ہے، یعنی معروف سند پر چل پڑے۔ عبدالرحمن بن محمد کہتے ہیں: اس لیے کہ مالک، یونس اور دیگر نے یہ حدیث زہری سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمن القاری سے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، تو امام شافعی کی مراد یہ تھی کہ سفیان کو وہم ہوا ہے اور صحیح وہی ہے جو مالک نے روایت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4427]
حدیث نمبر: 4428
أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَطَافَ بَعْدَ الصُّبْحِ، فَقُلْنَا: انْظُرُوا الْآنَ كَيْفَ يَصْنَعُ، أَيُصَلِّي أَمْ لَا؟ قَالَ:" فَجَلَسَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى".
ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) ہمارے پاس آئے اور صبح کی نماز کے بعد طواف کیا، ہم نے دیکھا کہ کیا وہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔ ابوسعید خدری (رضی اللہ عنہ) بیٹھے رہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر انہوں نے نماز پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح