السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
414. -- باب: فضل التأذين على الإمامة
-- باب: امامت پر اذان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2029
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ ⦗٦٣٤⦘ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَهُ" وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَرُوِّينَا الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن کو اس کی اذان کی بقدر معاف کر دیا جاتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز اس کے لیے گواہی دیتی ہے جس نے اس کو سنا۔“ (ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت منقول ہے۔ پہلی حدیث حسن بصری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2030
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ أنبأ يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللهُ الْأَئِمَّةَ وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِينَ أَوْ قَالَ: غَفَرَ اللهُ للْأَئِمَّةِ وَأَرْشَدَ الْمُؤَذِّنِينَ" شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ.
حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ تعالیٰ اماموں کی راہنمائی کرے اور مؤذنوں کو معاف کر دے“ یا فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اماموں کو معاف کر دے اور مؤذنوں کی راہنمائی کرے۔“ ابن ابی عدی کو شک ہوا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2030]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 2031
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَاءُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَلَاتِهِمْ وَحَاجَتِهِمْ" أَوْ حَاجَاتِهِمْ وَقَدْ رُوِيَ إِجَازَةُ ذَلِكَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ.
حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن مسلمانوں کی نمازوں پر اور حاجتوں پر امین ہیں۔“
یہ روایت یونس کے واسطے سے حسن سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2031]
یہ روایت یونس کے واسطے سے حسن سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2032
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو غَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ:" الْمُؤَذِّنُونَ أُمَنَاءُ الْمُسْلِمِينَ وَالْأَئِمَّةُ ضُمَنَاءُ" قَالَ: وَالْأَذَانُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الْإِمَامَةِ".
ابو غالب کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ”مؤذن مسلمانوں کے امین ہیں اور امام ضامن ہیں“ اور فرمایا: مجھے اذان امامت سے زیادہ پسند ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2032]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
415. -- باب: الترغيب في الأذان
-- باب: اذان دینے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 2033
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو يَعْلَى الْمُهَلَّبِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أنبأ مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرْ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى" ⦗٦٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْمُرَادُ بِالتَّثْوِيبِ هَاهُنَا الْإِقَامَةُ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی آواز دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور اس کی ہوا آواز کے ساتھ خارج ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اذان کی آواز نہیں سنتا اور جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو دوبارہ آ جاتا ہے، اور جب تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور جب تکبیر پوری ہو جاتی ہے تو دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو کہتا ہے: فلاں فلاں یاد کر جو اس کو اس سے پہلے یاد نہیں ہوتا، یہاں تک کہ نمازی اسی بات میں مشغول رہتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 583»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2034
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَحَالَ يَعْنِي لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا سَمِعَ الْإِقَامَةَ ذَهَبَ حَتَّى لَا يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَفِي رِوَايَةِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَدْبَرَ وَلَهُ حُصَاصٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کی آواز نہیں سنتا، جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ کر وسوسے ڈالتا ہے اور جب اقامت سنتا ہے تو پھر چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی آواز نہیں سنتا، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ" وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء جگہ پر پہنچ جاتا ہے اور یہ جگہ مدینہ سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ثنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں لوگوں سے لمبی ہوں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 387»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2037
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" لَيْسَ أَنَّ أَعْنَاقَهُمْ تَطُولُ وَذَلِكَ إِنَّ النَّاسَ يَعْطَشُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا عَطِشَ الْإِنْسَانُ انْطَوَتْ عُنُقُهُ وَالْمُؤَذِّنُونُ لَا يَعْطَشُونَ فَأَعْنَاقُهُمْ قَائِمَةٌ".
سیدنا ابوبکر بن ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہوں گی“، یہ مراد نہیں کہ ان کی گردنیں لمبی ہوں گی اور یہ ایسے ہے کہ قیامت کے دن لوگ پیاسے ہوں گے اور جب انسان پیاسا ہوگا اس کی گردن لپٹ جائے گی اور مؤذن پیاسے نہیں ہوں گے اور ان کی گردنیں صحیح ہوں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِإِقَامَتِهِ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ لَهِيعَةَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَهَذَا أَشْبَهُ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ لَهِيعَةَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَذَّنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِكُلِّ أَذَانٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَبِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُونَ حَسَنَةً.
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بارہ سال اذان دی تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی اور ہر مرتبہ اس کی اذان پر ساٹھ نیکیاں اور اس کی اقامت پر تیس نیکیاں لکھ دی جائیں گی۔“
(ب) ابو عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن متوکل نے ابن جریج سے، انہوں نے اپنے کسی بیان کرنے والے سے، اس نے نافع سے نقل کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ (د) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بارہ سال اذان دی تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی، اس کو ہر اذان کے بدلے 60 نیکیاں اور اقامت کے بدلے تیس نیکیاں ملیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2038]
(ب) ابو عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن متوکل نے ابن جریج سے، انہوں نے اپنے کسی بیان کرنے والے سے، اس نے نافع سے نقل کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ (د) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بارہ سال اذان دی تو جنت اس کے لیے واجب ہوگئی، اس کو ہر اذان کے بدلے 60 نیکیاں اور اقامت کے بدلے تیس نیکیاں ملیں گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الحاكم 1/322»
الحكم على الحديث: منكر