السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1125. -- باب: من دخل المسجد يوم الجمعة والإمام على المنبر ولم يركع ركع ركعتين
-- باب: جو شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہو اور امام منبر پر ہو اور اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے
حدیث نمبر: 5691
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ:" جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَكَعْتَ الرَّكْعَتَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْهُمَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ.
ابو زبیر، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ افروز تھے۔ وہ نماز پڑھے بغیر بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے دو رکعت پڑھی ہیں؟“ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5691]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 875»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5692
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ؟" فَقَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا" وَقَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا". لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
ابو سفیان، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سلیک غطفانی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے دو رکعت نماز پڑھی ہے؟“ وہ کہنے لگے: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور دو ہلکی رکعات ادا کرو“ اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو ہلکی سی رکعات پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 113»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5693
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى حَتَّى صَلَّى ⦗٢٧٦⦘ الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَقَعُوا بِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا كُنْتُ لِأَدَعَهُمَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" ثُمَّ دَخَلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
عیاض بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے اور مروان خطبہ دے رہا تھا۔ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی۔ ان کے پاس شاہی محافظ آیا تاکہ ان کو بٹھا دے، انہوں نے انکار کر دیا یہاں تک کہ دو رکعت پڑھ لیں۔ جب ہم فراغت کے بعد واپس ہوئے تو ہم نے کہا: اے ابو سعید! قریب تھا کہ وہ آپ کو تکلیف دیتے۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا اس کو میں کسی چیز کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا؛ میں نے ایک شخص کو بگڑی ہوئی حالت والا دیکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھ لے۔“ پھر یہی شخص دوسرے جمعہ داخل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الترمذي 511»
الحكم على الحديث: صحيح
1126. -- باب: من دخل المسجد لا يجلس حتى يركع ركعتين
-- باب: جو شخص مسجد میں داخل ہو وہ نہ بیٹھے جب تک کہ دو رکعتیں نہ پڑھ لے
حدیث نمبر: 5694
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
عمرو بن سلیم، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعات پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5694]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5692»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ بْنِ خَلْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانِي النَّاسِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجْلِسَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُكَ جَالِسًا وَالنَّاسُ جُلُوسٌ قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَجْلِسَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عمرو بن سلیم رحمہ اللہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو بیٹھے ہوئے دیکھا اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھنے سے پہلے نہ بیٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5695]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 714»
الحكم على الحديث: صحيح
1127. -- باب: مقام الإمام في الخطبة
-- باب: خطبے میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
حدیث نمبر: 5696
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ الْبُخَارِيُّ أنبأ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" كَانَ الْمَسْجِدُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْقُوفًا عَلَى جُذُوعٍ مِنْ نَخْلٍ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ كَانَ عَلَيْهِ فَسَمِعْنَا لِذَلِكَ الْجِذْعِ صَوْتًا كَصَوْتِ الْعِشَارِ، حَتَّى جَاءَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ". ⦗٢٧٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ أَخِيهِ أَبِي بَكْرٍ.
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ مسجد کی چھت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو تنے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔ جب منبر بنا لیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر ہوتے۔ ہم نے اس تنے سے حاملہ اونٹنیوں کی آواز جیسی آواز سنی۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو وہ خاموش ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5696]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3392»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أِيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمَلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَحَدِّثْنَا، فَقَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: إِنَّهُ سَمَّاهَا يَوْمَئِذٍ:" انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا لِأُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَيْهَا" فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَعْنِي ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عبد العزیز بن ابی حازم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک گروہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی طرف آیا، وہ منبر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ وہ کس لکڑی کا تھا؟ وہ فرمانے لگے: میں جانتا ہوں وہ کس لکڑی کا ہے اور کس نے بنایا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے دن سے دیکھا وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عباس! ہمیں بیان کیجیے۔ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو پیغام دیا (ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہوں نے اس کا نام بھی لیا) کہ ”وہ اپنے بڑھئی غلام کو حکم دے کہ وہ میرے لیے لکڑی کا منبر تیار کر دے تاکہ میں اس پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ کروں۔“ اس نے اس کی تین سیڑھیاں بنائیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا۔ یہ جھاؤ کی لکڑی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس پر کھڑے ہو کر تکبیر یعنی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو لوگوں نے بھی «اَللهُ اَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور الٹے پاؤں منبر سے نیچے اترے اور سجدہ منبر کی جڑ میں کیا، پھر لوٹ گئے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوئے۔ پھر لوگوں پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز کو سیکھ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5229»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5698
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَجَرَةٍ أَوْ نَخْلَةٍ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَجْعَلُ لَكَ مِنْبَرًا؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ فَاجْعَلُوهُ" فَجَعَلُوا لَهُ مِنْبَرًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ صِيَاحَ الصَّبِيِّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، كَانَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يَسْكُتُ، قَالَ: كَانَتْ تَبْكِي عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ عِنْدَهَا". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک درخت کے پاس کھڑے ہوئے۔ انصار کی ایک عورت یا مرد نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم منبر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو بنا دو۔“ انہوں نے منبر بنا دیا۔ جب جمعہ کا دن ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف گئے تو وہ کھجور کا تنا بچے کی طرح رونے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ ملایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ فرماتے ہیں کہ وہ اس بنا پر رو رہا تھا جو وہ ذکر سنا کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5698]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3391»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5699
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْجَهْمِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقُرَشِيُّ ثنا شُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو الضُّبَعِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ: أَلَا نَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا تَحْمِلُ، أَوْ تَجْمَعُ، أَوْ كَلِمَةٌ تُشْبِهُهَا، عِظَامَكَ، فَاتُّخِذَ لَهُ مِرْقَاتَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَنَّ جِذْعٌ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَتْ أَسَاطِينُ الْمَسْجِدِ جُذُوْعًا وَسَقَائِفُهُ جَرِيدًا". ⦗٢٧٨⦘ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَى أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَذَكَرَهُ.
سیدنا نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجھل ہو گئے: ”کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منبر نہ بنا دوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہڈیوں کو اٹھائے (یا کہا: جمع کرے، یا اس جیسا کوئی اور کلمہ کہا)؟“ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو یا تین سیڑھیاں بنا دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تو وہ تنا رویا جو مسجد میں تھا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا اور اس سے کچھ بات کی، میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چلے گئے، ان دنوں مسجد کے ستون تنوں کے تھے اور چھت چھڑیوں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5699]
تخریج الحدیث: «قوي۔ ابو داؤد 1081»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 5700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَالْتَزَمَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الْحَمِيدِ: أَنْبَأَ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ.
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوا لیا تو وہ تنا رویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ساتھ لگایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5700]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3390»
الحكم على الحديث: صحيح