السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1193. -- باب: التغدية والقائلة بعد الجمعة
-- باب: جمعہ کے بعد دوپہر کا کھانا کھانے اور قیلولہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5948
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ:" كُنَّا نُبَكِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ ثُمَّ نَقِيلُ بَعْدَهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے جمعہ کے لیے چلے جاتے، پھر جمعہ پڑھ کر قیلولہ کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5948]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 863»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ⦗٣٤٢⦘ الْهَاشِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ:" كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَبْعَثُ إِلَى بِضَاعَةَ فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ وَتُكَرْكِرُهَا مِنْ شَعِيرٍ، فَكُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا انْصَرَفْنَا إِلَيْهَا لِنُسَلِّمَ عَلَيْهَا فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا، فَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنِ الْقَعْنَبِيِّ مُخْتَصَرًا.
عبدالعزیز بن ابی حازم اپنے والد (ابوحازم) سے نقل فرماتے ہیں اور وہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جمعہ کے دن ہم بڑے خوش ہوا کرتے تھے۔“ میں نے کہا: کیوں؟ فرماتے ہیں: ”ایک بڑھیا تھی۔ وہ بضاعہ نامی جگہ جاتی، وہاں سے سلق نامی سبزی لاتی اور اس کو ہنڈیا میں ڈال کر اس میں جو کے دانے شامل کرتی اور پکاتی، جب ہم واپس پلٹ کر ان کے پاس آتے اور سلام عرض کرتے تو وہ ہمیں یہ پیش کر دیتی تھی۔ ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن بڑے خوش ہوتے۔ ہم قیلولہ کرتے اور صبح کا کھانا جمعہ کے بعد ہی کھاتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 896»
الحكم على الحديث: صحيح
1194. -- باب: ما روي في انتظار العصر بعد الجمعة وفيه ضعف
-- باب: جمعہ کے بعد عصر کا انتظار کرنے کے متعلق جو مروی ہے، اور اس (روایت) میں ضعف ہے
حدیث نمبر: 5950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الرَّمْلِيُّ بِمَكَّةَ ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْمَهْدِيِّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعِيدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكُمْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ حَجَّةً وَعُمْرَةً، فَالْحَجَّةُ الْهَجِيرُ لِلْجُمُعَةِ، وَالْعُمْرَةُ انْتِظَارُ الْعَصْرِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَهْدِيٍّ. تَفَرَّدَ بِهِ الْقَاسِمُ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا وَفِيهِمَا جَمِيعًا ضَعْفٌ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے ہر جمعہ میں حج اور عمرہ ہے؛ حج تو یہ ہے کہ جمعہ کے لیے جلدی آنا اور عمرہ جمعہ کے بعد عصر کا انتظار کرنا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں قاسم منفرد ہیں، اور یہ روایت ابو معشر عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور ان دونوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5950]
اس روایت کو بیان کرنے میں قاسم منفرد ہیں، اور یہ روایت ابو معشر عن نافع عن ابن عمر کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور ان دونوں میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5950]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن عدي في الكامل 6/38»
الحكم على الحديث: منكر
1195. ومن جماع أبواب الهيئة للجمعة -- باب: السنة في إعداد الثياب الحسان للجمعة
جمعہ کی تیاری اور ہیئت کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جمعہ کے لیے عمدہ لباس تیار رکھنے کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5951
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ فَقَالَ ⦗٣٤٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا كَانَ بِمَكَّةَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ایک دھاری دار حلہ دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حلہ خرید لیں اور اس کو جمعہ اور آنے والے وفود کے لیے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو وہ زیب تن کرتا ہے جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حلہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ وہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے پہنا دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطارد کے حلے کے بارے میں یہ فرمایا تھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس لیے نہیں دیا تاکہ آپ پہن لیں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مشرک بھائی کو، جو مکہ میں رہتا تھا، اس کو پہنا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 846»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5952
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ، أَوْ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدْتُمْ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ". قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک پر (وسعت ہو) اگر وہ پائے - یا فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک پر جب تم (وسعت) پاؤ تو - جمعہ کے لیے اپنے کام کے کپڑوں کے علاوہ خاص دو کپڑے رکھو۔“ ابن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات منبر پر ارشاد فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5952]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1072»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1196. -- باب: السنة في التنظيف يوم الجمعة بغسل، وأخذ شعر وظفر، وعلاج لما يقطع تغير الريح، وسواك، ومس طيب
-- باب: جمعہ کے دن غسل، بال اور ناخن تراشنے، بو دور کرنے والی چیزوں کے استعمال، مسواک اور خوشبو لگانے کے ذریعے صفائی حاصل کرنے کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ: ذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ. وَهَذَا يَدُلُّ مَعَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ" مَنْ غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ".
(الف) طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا، انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھویا کرو، اگر تم جنبی نہ ہو اور خوشبو لگایا کرو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غسل تو اچھا ہے اور خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
(ب) یہ روایت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ساتھ مل کر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کا معنی ہے: ”جس نے اپنے سر کو دھویا اور غسل کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5953]
(ب) یہ روایت، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ساتھ مل کر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کا معنی ہے: ”جس نے اپنے سر کو دھویا اور غسل کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5953]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 844»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ، وَأَنْ يَسْتَنَّ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ وُجِدَ". قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ:" وَأَشْهَدُ أَنَّ الْغُسْلَ وَاجِبٌ، فَأَمَّا الِاسْتِنَانُ وَالطِّيبُ فَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَكِنْ هَكَذَا سَمِعْتُ". ⦗٣٤٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ.
(الف) عمرو بن سلیم فرماتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل واجب ہے اور یہ کہ مسواک کی جائے۔ اگر خوشبو پاس ہو تو لگائے۔“
(ب) عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ غسل واجب ہے، لیکن مسواک اور خوشبو، واللہ اعلم، البتہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5954]
(ب) عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ غسل واجب ہے، لیکن مسواک اور خوشبو، واللہ اعلم، البتہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5954]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 840»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5955
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَيَسْتَاكُ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ". إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ:" مِنَ الطِّيبِ، وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ.
عبدالرحمٰن بن ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل ہر بالغ پر فرض ہے، لیکن مسواک اور خوشبو اس پر جو اس کی طاقت رکھے۔“ لیکن بکیر نے عبدالرحمٰن کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”خوشبو بھی اگرچہ عورت کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5955]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5956
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنِ عُمَرَ، وَأَبُو النَّضْرِ قَالُوا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ وَدِيعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتَطَهَّرَ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرِهِ، وَمَسَّ مِنْ دُهْنِ بَيْتِهِ أَوْ طِيبِهِ، ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَصَلَّى مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.
(الف) سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کی اور اپنے گھر کا تیل یا خوشبو لگائی، پھر وہ جمعہ کی طرف چلا اور جو اس کے مقدر میں تھی نماز پڑھی، جب امام آ گیا تو غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ب) سلمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر وہ تیل یا خوشبو لگاتا ہے، پھر مسجد میں آ کر دو کے درمیان تفریق نہیں ڈالتا اور دورانِ خطبہ خاموش رہتا ہے تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ج) شبابہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5956]
(ب) سلمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر وہ تیل یا خوشبو لگاتا ہے، پھر مسجد میں آ کر دو کے درمیان تفریق نہیں ڈالتا اور دورانِ خطبہ خاموش رہتا ہے تو دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“
(ج) شبابہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ اپنی طاقت کے مطابق طہارت حاصل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5956]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5892»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5957
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا ⦗٣٤٥⦘ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ اغْتَسَلَ الرَّجُلُ، وَغَسَّلَ رَأْسَهُ، ثُمَّ تَطَيَّبَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمَعَ إِلَى الْإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ". وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنا سر دھوئے، پھر عمدہ قسم کی خوشبو لگائے اور اچھے کپڑے پہنے، پھر نماز کے لیے جائے اور دو کے درمیان تفریق نہ ڈالے، پھر خطبہ غور سے سنے تو دوسرے جمعہ تک بلکہ تین دن مزید بھی اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5849»
الحكم على الحديث: صحيح