السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1774. -- باب: صوم ثلاثة أيام من كل شهر
-- باب: ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8437
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ⦗٤٨٥⦘ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ فَجَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَدَقَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ" فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللهِ.
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک سفر میں تھے۔ جب پڑاؤ کیا تو ان کی طرف کھانے کے لیے پیغام بھیجا گیا مگر وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے ایلچی سے کہا: میں روزے سے ہوں، مگر جب کھانا رکھا گیا اور سب فارغ ہونے کے قریب تھے تو وہ بھی آگئے اور کھانا شروع کر دیا، تو قوم نے ایلچی کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے مجھے ہی بتایا ہے کہ میں روزے سے ہوں۔ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر کے مہینہ کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے پورے سال کے روزے ہیں۔“ سو میں نے مہینے کے تین رکھے ہیں اور میں مفطر ہوں اللہ کی طرف سے دی ہوئی تخفیف کی وجہ سے اور روزے دار ہوں اجر کے اضافے کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8437]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَجُلٌ طَوِيلٌ أَسْوَدُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ عَلَى أِيِّ حَالٍ هُوَ الْيَوْمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَصَائِمٌ أَنْتَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْإِذْنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلُوا فَأُتِينَا بِقِصَاعٍ فَأَكَلَ فَحَرَّكْتُهُ أُذَكِّرُهُ بِيَدِي فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَنْسَ مَا قُلْتُ لَكَ أَخْبَرْتُكَ أَنِّي صَائِمٌ إِنِّي أَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَأَنَا أَبَدًا صَائِمٌ".
عبداللہ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو ایک لمبا آدمی سیاہ رنگ کا دیکھا، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے کہا: آج یہ کس حالت میں ہیں؟ میں ضرور دیکھوں گا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ روزے سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہے تھے، سو وہ داخل ہو گئے۔ ہم کھانے کا برتن وغیرہ لائے تو انہوں نے کھایا، سو میں نے حرکت دی اور اپنے ہاتھ سے یاد کروانا چاہا تو انہوں نے کہا: جو میں نے کہا تھا، میں اس سے بھولا نہیں ہوں۔ میں نے تجھے خبر دی تھی کہ میں صائم ہوں، میں ہر مہینے میں سے تین روزے رکھتا ہوں، بلکہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8438]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
1775. -- باب: من أي الشهر يصوم هذه الأيام الثلاثة
-- باب: مہینے کے کن ایام میں یہ تین روزے رکھے جائیں؟
حدیث نمبر: 8439
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے شروع میں تین روزے رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8439]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8440
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُفْطِرًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
اسی سند کے ساتھ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کبھی افطار کی حالت میں نہیں دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8440]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8441
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّبْعِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: وَقُلْ مَا كَانَ يَفُوتُهُ صَوْمُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ.
ابو حمزہ سکری رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ عاصم بن بہدلہ نے مجھے انہیں معانی میں حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: کم ہی ایسا ہوتا کہ ان کے جمعہ کے دن کا روزہ فوت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8441]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8442
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ وَقَالَ:" هِيَ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ".
عبدالملک بن قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم ایام بیض کے روزے رکھیں یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تواریخ کے۔ انہوں نے کہا: ”یہ سال کے برابر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8442]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 8443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: ⦗٤٨٦⦘ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ أَيَّامِ الْبِيضِ الثَّلَاثَةِ وَيَقُولُ:" هُنَّ صِيَامُ الدَّهْرِ" قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ الْقَيْسِيُّ.
عبدالملک بن منھال اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایامِ بیض کے تین روزوں کا حکم دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ”یہ پورے سال کے روزے ہیں۔“
شیخ کہتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن معین سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: یہ غلط ہے، درحقیقت یہ عبدالملک بن قتادہ بن ملحان قیسی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8443]
شیخ کہتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن معین سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: یہ غلط ہے، درحقیقت یہ عبدالملک بن قتادہ بن ملحان قیسی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8443]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 8444
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ”ایامِ بیض کے تین روزوں کا (تیرہ، چودہ، پندرہ)“ حکم دیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8444]
حدیث نمبر: 8445
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ" وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَقِيلَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مقامِ ربذہ پر سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! جب تو مہینے میں سے تین روزے رکھے تو پھر (تیرہ، چودہ اور پندرہ کے رکھ)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8445]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 8446
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ ⦗٤٨٧⦘ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى".
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرتے تھے: پیر اور جمعرات، اور اگلے ہفتے کا پیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8446]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن