🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1857. -- باب: كراهية من كره القران، والتمتع، والبيان أن جميع ذلك جائز وإن كنا اخترنا الإفراد
-- باب: حجِ قران اور حجِ تمتع کو ناپسند کرنے والوں کی کراہت کا بیان اور اس بات کی وضاحت کہ یہ سب جائز ہے اگرچہ ہم نے حجِ افراد کو ہی اختیار کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ فَقُلْتُ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَّا أَرَادَتْ أَنْ تَضُمَّ مَعَ حَجِّهَا عُمْرَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: ١٩٧] فَلَا أَرَى هَذِهِ إِلَّا أَشْهُرَ الْحَجِّ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ حَتَّى بَيَّنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَوَازَهَا، وَكَرَاهِيَةُ مَنْ كَرِهَ ذَلِكَ أَظُنُّهَا عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: نُسُكَانِ أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَعَثٌ وَسَفَرٌ، فَثَبَتَ بِالسُّنَّةِ الثَّابِتَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَازُ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَالْإِفْرَادِ، وَثَبَتَ بِمُضِيِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ مُفْرَدٍ ثُمَّ بِاخْتِلَافِ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ فِي كَرَاهِيَةِ التَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ دُونَ الْإِفْرَادِ كَوْنُ إِفْرَادِ الْحَجِّ عَنِ الْعُمْرَةِ أَفْضَلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ہم میں سے ایک عورت حج کے ساتھ عمرہ کو ملانا چاہتی ہے تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾ [سورة البقرة: 197] ”حج کے مہینے معلوم ہیں“ اور میں تو ان کو ہی حج کے مہینے سمجھتا ہوں۔
(ب) زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ اسے ناپسند کرتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے جواز کا بیان ہے، کراہت کی وجہ وہ روایت ہے جو ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ یہ دو عبادتیں (حج اور عمرہ) ہیں، مجھے پسند ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ پراگندہ حالی اور الگ سفر ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمتع، قران اور افراد کا جواز ثابت ہے، پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجِ افراد کے بارے میں گزر چکا ہے، شروع میں تمتع اور قران کی کراہیت کا اختلاف گزر چکا ہے۔ حج کو عمرہ سے الگ کر کے (افراد) ادا کرنا افضل ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8887]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1858. -- باب: هدي المتمتع بالعمرة إلى الحج وصومه
-- باب: عمرہ کر کے حجِ تمتع کرنے والے کی قربانی اور اس کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8888
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حدَّثَنِي اللَّيْثُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، ⦗٣٤⦘ حدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَنْ شَيْءٍ حُرِّمَ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک طویل حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو کہا: ”جو شخص قربانی لے کر آیا ہے وہ حج پورا کرنے سے پہلے کسی چیز سے حلال نہ ہو جو حرام ہے اور جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرے، بال کٹوائے اور حلال ہوجائے، پھر حج کا تلبیہ کہے اور قربانی دے اور جس کو قربانی نہیں ملتی وہ تین دن حج کے ایام میں روزے رکھے اور سات گھر جا کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8888]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1606»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاصِلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ أَبُو كَامِلٍ: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ مُتْعَةِ الْحَاجِّ، فَقَالَ: أَهَلَّ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَهْلَلْنَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوا إِهْلَالَكُمْ بِالْحَجِّ عُمْرَةً إِلَّا مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ" وَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَقَالَ:" مَنْ قَلَّدَ الْهَدْيَ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ" ثُمَّ أَمَرَنَا عَشِيَّةَ التَّرْوِيَةِ أَنْ نُهِلَّ بِالْحَجِّ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنَ الْمَنَاسِكِ جِئْنَا فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ تَمَّ حَجُّنَا وَعَلَيْنَا الْهَدْيُ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ} [البقرة: ١٩٦] إِلَى أَمْصَارِكُمْ، وَالشَّاةُ تُجْزِئُ فَجَمَعُوا نُسُكَيْنِ فِي عَامٍ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّ اللهَ أَنْزَلَهُ فِي كِتَابِهِ وَسَنَّهُ نَبِيُّهُ وَأَبَاحَهُ غَيْرُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٩٦] وَأَشْهُرُ الْحَجِّ الَّتِي ذَكَرَ اللهُ: شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ فمَنْ تَمَتَّعَ فِي هَذِهِ الْأَشْهُرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ أَوْ صَوْمٌ وَالرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: الْمَعَاصِي، وَالْجِدَالُ: الْمِرَاءُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا وَقَدْ:.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حجِ تمتع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مہاجرین و انصار اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نے حجۃ الوداع کے موقع پر تلبیہ کہا اور ہم نے بھی کہا، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حج کے تلبیہ کو عمرہ سے بدل دو، سوائے اس شخص کے جو قربانی لے کر آیا ہے۔“ تو ہم نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، عورتوں کے پاس آئے اور کپڑے پہنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قربانی کو قلادہ ڈالا ہے وہ حلال نہ ہو حتیٰ کہ قربانی اپنے ٹھکانے لگ جائے۔“ پھر ہمیں ترویہ کی رات حکم دیا کہ ہم حج کا تلبیہ کہیں، تو جب ہم مناسک سے فارغ ہوئے تو ہم نے آکر بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور ہمارا حج مکمل ہو گیا اور ہمارے ذمہ قربانی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 196] ”جو قربانی بھی میسر آئے وہ دو اور جو قربانی نہیں پاتا تو وہ تین دن حج میں اور سات گھر جا کر روزہ رکھے“ اپنے شہروں میں، اور بکری بھی کفایت کر جائے گی، تو انہوں نے اس سال دونوں کام کیے، حج بھی اور عمرہ بھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اپنے نبی کی سنت میں بھی اور اہل مکہ کے علاوہ (دوسرے لوگوں) کے لیے اسے مباح قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”یہ اس کے لیے ہے جس کا گھر مسجد حرام کے قریب نہیں“ اور حج کے مہینے جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں، جو ان دنوں تمتع کرتا ہے اس پر قربانی یا روزے فرض ہیں اور «الرَّفَثُ» کا معنی ”جماع“ ہے، «الْفُسُوقُ» ”گناہ“، «الْجِدَالُ» ”جھگڑے“ کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8889]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1497»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ الْمُطَرِّزُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَ مَعْنَاهُ بِطُولِهِ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا قَالَ الْقَاسِمُ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8890]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8891
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ⦗٣٥⦘ وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرِهِ إِيَّاهُمْ بِالْإِحْلَالِ بِالْعُمْرَةِ وَخُطْبَتِهِ وَقَوْلِهِ:" وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَحلَلْتُ كَمَا حَلُّوا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَمَنْ وَجَدَ هَدْيًا فَلْيَنْحَرْ" قَالَ: فَكُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج، آپ کے لوگوں کو عمرہ کر کے حلال ہونے کا کہنے اور خطبہ اور آپ کے فرمان: ”اگر مجھے اس بات کا علم پہلے ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور لوگوں کی طرح حلال ہو جاتا، تو جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ تین دن حج میں اور سات دن گھر جا کر روزے رکھے اور جس کے پاس قربانی دستیاب ہو وہ نحر کرے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے نحر کرتے تھے اور ساری حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8891]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن خزيمه 2936۔ حاكم 647»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: مَنِ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فِي شَوَّالٍ، أَوْ ذِي الْقَعْدَةِ، أَوْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَدِ اسْتَمْتَعَ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْهَدْيُ، وَالصِّيَامُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَرَوَيْنَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتْعَةِ: إِنَّهَا لَا تَتِمُّ إِلَّا أَنْ يُهْدِيَ صَاحِبُهَا هَدْيًا، أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ تَتِمُّ بِغَيْرِ هَدْيٍ وَلَا صِيَامٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے حج کے مہینوں، یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں عمرہ کیا تو وہ متمتع ہو گیا اور اس پر قربانی واجب ہے، اگر نہ ملے تو روزے رکھے۔
اس سے پہلے باب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بات جو انہوں نے تمتع کے بارے میں کہی وہ ہم نے بیان کر دی کہ تمتع مکمل نہیں ہوتا مگر یہ کہ قربانی کرے، اگر قربانی نہیں ہے تو روزہ رکھے، تین روزے حج میں اور سات جب گھر واپس لوٹے۔ عمرہ حج کے مہینوں کے علاوہ بغیر قربانی اور روزے کے مکمل ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 450»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1859. -- باب: ما استيسر من الهدي
-- باب: جو قربانی آسانی سے میسر ہو اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْهَا فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَمَرَنِي بِهَا فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي الْمَنَامِ فَقَالَ: عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُئِلَ عَمَّا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَقَالَ: جَزُورٌ، أَوْ بَقَرَةٌ، أَوْ شَاةٌ، أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَذَكَرَ الْبُخَارِيُّ رِوَايَةَ وَهْبٍ.
ابوجمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے تمتع کیا تو لوگوں نے مجھے منع کیا، میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے اس کا حکم دیا، میں گھر آکر سو گیا تو مجھے خواب میں کسی نے کہا: ”حج و عمرہ قبول شدہ ہیں“ تو میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے تکبیر بلند کی اور کہا: ”یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے“ یا فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے“ اور ان سے قربانی کے میسر آنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اونٹ، گائے یا بکری یا قربانی میں شراکت کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1492۔ مسلم1242»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8894
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [سورة البقرة: 196] سے مراد بکری ہے جو کعبہ تک لے جائی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8894]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيعبه: 12785»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8895
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ الْبَعِيرُ، أَوِ الْبَقَرَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [سورة البقرة: 196] سے مراد اونٹ یا گائے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8895]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8896
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٣٦⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ شَاةٌ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ﴿مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [سورة البقرة: 196] بکری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8896]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 861»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں