🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1876. -- باب: الصلاة عند الإحرام
-- باب: احرام کے وقت نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8977
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى مَكَّةَ ادَّهَنَ بِدُهْنٍ لَيْسَ لَهُ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَرْكَبُ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَحْرَمَ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
نافع فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ کی طرف جانے لگتے تو ایسا تیل لگاتے جس کی خوشبو نہ ہوتی، پھر ذوالحلیفہ والی مسجد میں آتے، دو رکعتیں ادا کرتے اور سوار ہوجاتے، تو جب ان کی سواری ان کو لے کر کھڑی ہوجاتی تو تلبیہ کہتے اور فرماتے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8977]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1419»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1877. -- باب: من قال يهل خلف الصلاة
-- باب: ان کا قول جو کہتے ہیں کہ نماز کے بعد احرام باندھا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ قَالُوا: ⦗٥٧⦘ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8978]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ نسائي 2754۔ ابويعلي 2512»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8979
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَهُ فِي مَجْلِسِهِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظَتْهُ عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ" قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ خُصَيْفٌ الْجَزَرِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا أَنَّهُ لَا تَنْفَعُ مُتَابَعَةُ الْوَاقِدِيِّ، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ أَسَانِيدُهَا قَوِيَّةٌ ثَابِتَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اے ابوالعباس! مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے بارے میں اختلاف پر تعجب ہے“، تو وہ کہنے لگے: ”میں لوگوں میں سے اس کو زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی حج کیا اور وہیں سے انہوں نے اختلاف کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کی غرض سے نکلے، جب مسجد ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں تو وہیں سے حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دیا، جب دو رکعتوں سے فارغ ہوئے تو کچھ لوگوں نے اس بات کو یاد کر لیا۔ پھر سوار ہوئے اور جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو آپ نے تلبیہ کہا تو کچھ لوگوں نے آپ کو اس وقت تلبیہ کہتے ہوئے پایا اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ گروہ در گروہ آئے تھے، تو انہوں نے اس وقت آپ کو تلبیہ کہتے سنا جب آپ کو اونٹنی لے کر اٹھی، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کہا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور جب بیداء پر چڑھے تو تلبیہ کہا اور اس وقت بھی کچھ لوگوں نے آپ کو پایا تو انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ کا آغاز کیا جب بیداء کی بلندی پر چڑھے۔ اور اللہ کی قسم! آپ نے اپنی نماز والی جگہ سے ہی تلبیہ شروع کر لیا تھا، اور جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرفِ بیداء پر چڑھے“۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو لیا اس نے اسی وقت تلبیہ کہا جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا۔
خصیف جزری قوی نہیں ہے، اور واقدی نے بھی اپنی ایک سند سے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، مگر واقدی کی متابعت فائدہ نہیں دیتی، اور اس بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو احادیث آئی ہیں ان کی سندیں قوی اور ثابت ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8979]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1878. -- باب: من قال يهل إذا انبعثت به راحلته
-- باب: ان کا قول جو کہتے ہیں کہ جب اس کی سواری اسے لے کر کھڑی ہو جائے تب احرام باندھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ ⦗٥٨⦘ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيَيْنِ، رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ، إِذَا رَأَوَا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا؛ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغُ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
عبیداللہ بن جریج نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ چار ایسے کام کرتے ہیں جو آپ کے دوسرے ساتھی نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ارکان میں سے صرف یمانیوں کو ہی چھوتے ہیں اور بغیر بال کے جوتے پہنتے ہیں اور زردی کے ساتھ رنگ دیتے ہیں اور جب آپ مکہ ہوتے ہیں تو لوگ چاند دیکھ کر تلبیہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آپ یوم ترویہ کو تلبیہ کا آغاز کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو ارکان کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یمانی رکنوں کا استلام کرتے ہی دیکھا ہے اور بے بال جوتوں کی بات تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے دیکھا ہے، جن پر بال نہ ہوتے اور انہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بھی فرماتے اور میں بھی یہی پہننا پسند کرتا ہوں اور رہی زردی کی بات تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے ساتھ رنگ دیتے ہوئے دیکھا ہے تو میں بھی اسی کے ساتھ رنگنا ہی پسند کرتا ہوں اور تلبیہ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر نہ اٹھ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5513۔ مسلم 1187»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں پائیدان میں رکھا اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی تو آپ نے اس وقت مسجد ذوالحلیفہ سے تلبیہ کا آغاز فرمایا۔ [صحیح: بخاری، 2710] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8981]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8982
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ الْحَمَّالِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی تب آپ نے تلبیہ کا آغاز کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8982]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1477۔ مسلم 1187»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8983
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ذوالحلیفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار ہوتے ہوئے دیکھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8983]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8984
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ:" بَيْدَاؤُكُمُ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ" يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم بیداء کا جھوٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر باندھتے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ والی مسجد سے ہی تلبیہ کا آغاز کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1467»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8985]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8986
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ:" الْبَيْدَاءُ الَّتِي يَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیداء کا جھوٹ باندھتے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کے پاس سے ہی تلبیہ کا آغاز کیا تھا جب آپ کا اونٹ آپ کو لے کر کھڑا ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8986]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1186»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں