السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2561. -- باب: لا يرث مع الأب أبواه
-- باب: باپ کے ہوتے ہوئے اس کے والدین (یعنی دادا دادی) وارث نہیں ہوتے
حدیث نمبر: 12282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" لَمْ يَكُنْ يَجْعَلُ لِلْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا مِيرَاثًا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دادی کے لیے حصہ مقرر نہ کرتے تھے جب اس کا بیٹا، یعنی میت کا باپ موجود ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12282]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12283
قَالَ: وَثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَزَيْدًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَا" لَا يَجْعَلَانِ لِلْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا مِيرَاثًا".
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما دونوں وراثت میں سے دادی کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں کرتے تھے جب کہ اس کا بیٹا (میت کا باپ) موجود ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12283]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 12284
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا وَزَيْدًا" كَانَا لَا يُوَرِّثَانِ الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا".
ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما دادی کو اس کے بیٹے کی موجودگی میں وارث نہیں بناتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12284]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12285
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْجَدَّةَ إِذَا كَانَ ابْنُهَا حَيًّا".
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے زندہ بیٹے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12285]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12286
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا أَنَّهُ قَالَ:" أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا، وَابْنُهَا حَيٌّ" فَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ يَتَفَرَّدُ بِهِ هَكَذَا. وَرُوِيَ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: أُنْبِئْتُ، وَعَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٧١⦘ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَحَدِيثُ يُونُسَ وَأَشْعَثَ مُنْقَطِعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَإِنَّمَا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دادی کے بارے میں منقول ہے جبکہ اس کا بیٹا موجود ہو کہ پہلے دادی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا جبکہ اس کا بیٹا بھی زندہ تھا۔
محمد بن سالم اسے اس طرح بیان کرنے میں منفرد ہے۔ یہ یونس سے، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی، اور اشعث بن سوار سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے عبداللہ سے، اور اشعث بن عبدالملک سے، انہوں نے حسن اور ابن سیرین سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ یونس اور اشعث کی حدیث منقطع ہے، اور محمد بن سالم قابلِ حجت نہیں، اس بارے میں صحیح روایت صرف سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12286]
محمد بن سالم اسے اس طرح بیان کرنے میں منفرد ہے۔ یہ یونس سے، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی، اور اشعث بن سوار سے، انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں نے عبداللہ سے، اور اشعث بن عبدالملک سے، انہوں نے حسن اور ابن سیرین سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ یونس اور اشعث کی حدیث منقطع ہے، اور محمد بن سالم قابلِ حجت نہیں، اس بارے میں صحیح روایت صرف سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12286]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12287
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَرَّثَ جَدَّةَ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ مَعَ ابْنِهَا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ثقیف کے ایک آدمی کی دادی کو وارث بنایا اس کے بیٹے کی موجودگی میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12287]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12288
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْهُ" وَرَّثَ جَدَّةً مَعَ ابْنِهَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دادی کو اس کے بیٹے کے ساتھ وارث ٹھہرایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12288]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12289
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ" يُوَرِّثُ الْجَدَّةَ وَابْنُهَا حَيٌّ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ دادی کو اس کے بیٹے کی زندگی میں وارث بناتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12289]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
2562. -- باب: لا ترث مع الأم جدة
-- باب: ماں کے ہوتے ہوئے دادی یا نانی وارث نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 12290
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَقَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَتَكِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَطْعَمَ الْجَدَّةَ السُّدُسَ إِذَا لَمْ تَكُنْ أُمٌّ".
حضرت ابن ابی بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دادی یا نانی کو جب ماں نہ تھی سدس حصہ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12290]
حدیث نمبر: 12291
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْجَدَّاتِ أَنَّ أُمَّ الْأُمِّ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً، وَأَنَّ أُمَّ الْأَبِ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً".
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں اور ان کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے، اس میں ہے کہ نانی، ماں کی موجودگی میں کسی چیز کی حق دار نہیں ہے اور اس کے علاوہ صورتوں میں اس کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ حصہ مقرر کیا جاتا ہے اور دادی، ماں اور باپ کی موجودگی میں کسی چیز کی وارث نہیں ہوگی اور اس کے علاوہ صورتوں میں اس کے لیے «السُّدُسُ» ”سدس“ حصہ مقرر کیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12291]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف