🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2598. -- باب: ميراث ولد الملاعنة
-- باب: لعان کرنے والی عورت کے بچے کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَمُوسَى بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا مَكْحُولٌ قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ وَلِوَرَثَتِهَا مِنْ بَعْدِهَا".
مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ملاعنہ کے بیٹے کی وراثت کا حق دار اس کی ماں کو بنایا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12499]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12500
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ مَكْحُولٍ مُنْقَطِعٌ، وَعِيسَى هُوَ ابْنُ مُوسَى أَبُو مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ فِيهِ نَظَرٌ.
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
مکحول کی حدیث منقطع ہے، اور عیسیٰ جو ابن موسیٰ ابو محمد قرشی ہیں، ان میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12500]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12501
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَخٍ لِي مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: لِمَنْ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ؟ فَقَالَ: قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهِ، قَالَ:" هِيَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ وَمَنْزِلَةِ أُمِّهِ".
سیدنا عبداللہ بن عبید انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائی کو لکھا جو بنی زریق سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ملاعنہ کے بیٹے کے بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اس کی ماں کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا: ”وہ اس کے باپ اور ماں کی مانند ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12501]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12502
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ ⦗٤٢٥⦘ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ عَصَبَتُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ" أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ حَمَلَ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ عَلَى مَا لَوْ كَانَتْ أُمُّهُ مَوْلَاةَ الْعَتَاقَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ رحمہ اللہ نے شام کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملاعنہ کے بیٹے کے عصبہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں۔“
استاذ ابو الولید رحمہ اللہ نے ان اخبار کو اس پر محمول کیا ہے کہ اگر اس کی ماں آزاد کردہ لونڈی ہو۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12502]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2599. -- باب: لا يرث ولد الزنا من الزاني، ولا يرثه الزاني
-- باب: زنا کی اولاد زانی کا وارث نہیں ہوتی اور نہ زانی اس کا وارث ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلْمِ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں لونڈی کی کمائی نہیں ہے، جس نے جاہلیت میں یہ کمائی، پھر اس عورت کا لڑکا ہوا تو اس کا نسب اس کے مولیٰ سے ملے گا اور جو شخص کسی بچے کا دعویٰ کرے بغیر نکاح کے تو نہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ بچے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12503]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى إِلَيْهِ فَادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدُ، فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، لَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَنْ أَدْرَكَ الْمِيرَاثَ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا، فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے بارے میں فیصلہ کیا جو اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے جس کے نام سے پکارا جاتا تھا اور باپ کے وارث اسے ملانا چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”اگر وہ لڑکا لونڈی سے ہے جس کا وہ جماع کے وقت مالک تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گیا، اس میں اس کا حصہ نہ ہو گا اور جو ترکہ تقسیم نہ ہوا ہو اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا لیکن جب وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس کا انکار کرتا ہو تو وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا۔ اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا وہ آزاد عورت کے پیٹ سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ وہ اس کا وارث ہو گا اگرچہ اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ «وَلَدُ الزِّنَا» ”زنا کی اولاد“ ہے اگرچہ آزاد کے پیٹ سے ہو یا لونڈی کے پیٹ سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12504]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادُوا: ذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى.
محمد بن راشد کی سند میں زیادتی ہے اور یہ شروعِ اسلام میں نسب ملایا جاتا تھا، اسلام سے پہلے مال تقسیم کیا جاتا ہے پس وہ گزر چکا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12505]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2600. -- باب: ميراث المجوس
-- باب: مجوسیوں کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12506
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَقُلْنَا:" إِذَا أَسْلَمَ الْمَجُوسِيُّ، وَابْنَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ أُمُّهُ، نَظَرْنَا إِلَى أَعْظَمِ النَّسَبَيْنِ فَوَرَّثْنَاهَا بِهِ، وَأَلْقَيْنَا الْأُخْرَى، وَأَعْظَمُهُمَا أَثْبَتُهُمَا بِكُلِّ حَالٍ، فَإِذَا كَانَتْ أُمًّا أُخْتًا وَرَّثْنَاهَا ⦗٤٢٦⦘ بِأَنَّهَا أُمٌّ، وَذَلِكَ أَنَّ الْأُمَّ قَدْ ثَبَتَتْ فِي كُلِّ حَالٍ، وَالْأُخْتَ قَدْ تَزُولُ، وَهَكَذَا جَمِيعُ فَرَائِضِهِمْ عَلَى هَذِهِ الْمَنَازِلِ". وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: أُوَرِّثُهَا مِنَ الْوَجْهَيْنِ مَعًا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ ہم نے کہا: جب مجوسی اسلام لائے اور آدمی کی بیٹی ہی اس کی بیوی ہو یا اس کی بہن ہی اس کی ماں ہو تو ہم دونوں نسبوں میں سے بڑے نسب کی طرف دیکھیں گے اور اسی کے ذریعے اسے وارث بنائیں گے اور دوسرے کو ساقط کر دیں گے، اور ان دونوں میں سے بڑا وہ ہے جو ہر حال میں زیادہ پختہ ہو۔ پس جب وہ ماں بھی ہو اور بہن بھی تو ہم اسے ماں ہونے کی بنا پر وارث بنائیں گے، کیونکہ ماں ہر حال میں ثابت رہتی ہے اور بہن کبھی زائل بھی ہو جاتی ہے، اور اسی طرح ان کے سارے حصے انہی منازل کے اعتبار سے ہوں گے اور بعض لوگوں نے کہا: میں اسے دونوں اعتبار سے اکٹھا وارث بناؤں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12506]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي مَجُوسِيٍّ تَحْتَهُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ امْرَأَةٌ لَهُ فَيَمُوتُ، قَالَ:" تَرِثُ بِأَدْنَى الْقَرَابَتَيْنِ".
حسن رحمہ اللہ سے ایسے مجوسی کے بارے میں منقول ہے جس کے نکاح میں اس کی بیٹی یا بہن ہو اور وہ فوت ہو جائے، تو وہ دونوں قرابتوں میں سے زیادہ قریبی قرابت کی بنا پر وارث بنے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12507]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12508
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَجُوسِ إِذَا أَسْلَمُوا وَلَهُمْ نَسَبَانٌ، قَالَ:" يُوَرَّثُ بِأَقْرَبِهِمَا".
زہری رحمہ اللہ سے مجوسی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب وہ مسلمان ہو جائیں اور ان کے لیے دو نسب ہوں تو زہری رحمہ اللہ نے کہا: دونوں میں سے قریبی وارث بنایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الفرائض/حدیث: 12508]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں