🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2640. -- باب: من احتاط فأوصى بقضاء ديونه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے احتیاط برتی اور اپنے قرضے ادا کرنے کی وصیت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12681
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ مَقْتَلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهَا: عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، انْظُرْ مَا عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ ثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ"، فَقَالَ:" إِنْ وَفَّى لَهُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَإِنْ لَمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي قُرَيْشٍ، وَلَا تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ، فَأَدِّ عَنِّي هَذَا الْمَالَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى.
حضرت عمرو بن میمون نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کا قصہ بیان کیا اور فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبداللہ! میرے قرض کو دیکھو۔ انہوں نے حساب لگایا تو وہ اسی ہزار تھا یا اس کے قریب قریب۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آل عمر کے مال سے پورا ہو جائے تو ادا کر دینا ورنہ بنی عدی بن کعب سے سوال کر لینا، اگر ان کے مال سے بھی پورا نہ ہو تو قریش سے سوال کر لینا اور ان کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا اور میری طرف سے قرض ادا کر دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12681]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3700»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12682
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يَوْمَ الْجَمَلِ دَعَانِي، فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ:" يَا بُنِيَّ، إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ الْيَوْمَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ مَظْلُومٌ، وَإِنِّي أَرَانِي سَأُقْتَلُ الْيَوْمَ مَظْلُومًا، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ هَمِّي لَدَيْنِي، أَفَتُرَى دَيْنُنَا يُبْقِي مِنْ مَالِنَا شَيْئًا؟ يَا بُنِيَّ، بِعْ مَالَنَا وَاقْضِ دَيْنِي، وَأَوْصِ بِالثُّلُثِ، وَثَلِّثِ الثُّلُثَ لِبَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ". قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ، خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ، قَالَ: وَلَهُ يَوْمَئِذٍ سَبْعُ بَنَاتٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ وَيَقُولُ: يَا بُنَيَّ، إِنْ عَجَزْتَ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِنْ بِمَوْلَايَ، قَالَ: فَوَاللهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى قُلْتُ: يَا أَبَتِ، مَنْ ⦗٤٦٨⦘ مَوْلَاكَ؟ قَالَ:" اللهُ"، قَالَ: فَوَاللهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا قُلْتُ: يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ، اقْضِ عَنْهُ، فَيَقْضِيَهُ، قَالَ: وَقُتِلَ الزُّبَيْرُ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ، مِنْهَا الْغَابَةُ، وَأَحَدَ عَشَرَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ، وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ، وَدَارًا بِالْكُوفَةِ، وَدَارًا بِمِصْرَ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ:" لَا، وَلَكِنْ هُوَ سَلَفٌ؛ إِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ، وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ، وَلَا جِبَايَةً، وَلَا خَرَاجًا، وَلَا شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ" قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، قَالَ: فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ؟ قَالَ: فَكَتَمَ وَقَالَ: مِائَةُ أَلْفٍ، قَالَ حَكِيمٌ: مَا أَرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: أَفَرَأَيْتُكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ؟ قَالَ: مَا أَرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاسْتَعِينُونِي، قَالَ: وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، وَبَاعَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، قَالَ: فَأَتَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا، قَالَ: فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا، قَالَ: فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً، قَالَ: عَبْدُ اللهِ: لَكَ مِنْ هَا هُنَا إِلَى هَا هُنَا، قَالَ: فَبَاعَهَا مِنْهُ، فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ، وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: كَمْ قُوِّمَتِ الْغَابَةُ، قَالَ: سِتُّمِائَةِ أَلْفٍ، أَوْ قَالَ: كُلُّ سَهْمٍ مِائَةُ أَلْفٍ، قَالَ: كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَمْ بَقِيَ؟ قَالَ: سَهْمٌ وَنِصْفٌ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ وَخَمْسِينَ أَلْفًا، وَقَالَ: وَبَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّمِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ قَالَ بَنُو الزُّبَيْرِ: اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ: أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنِي فَلْنَقْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ، فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ مِيرَاثَهُمْ، قَالَ: وَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ، وَرَفَعَ الثُّلُثَ فَأَصَابَ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا، میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، انھوں نے کہا: ”بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم، اور میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے، کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟“ پھر انھوں نے کہا: ”بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کردینا۔“ انھوں نے ایک تہائی کی وصیت کی اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی، یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بچوں کے لیے۔ انھوں نے کہا تھا: ”اس تہائی کے تین حصے کرلینا، اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہوگا۔“ ہشام نے بیان کیا کہ عبداللہ کے بعض لڑکے زبیر کے لڑکوں کے ہم عمر تھے، جیسے خبیب اور عباد، اور زبیر کی اس وقت سات بیٹیاں تھیں، ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر مجھے زبیر رضی اللہ عنہ اپنے قرض کے متعلق وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ ”بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہوجاؤ تو میرے مالک و مولیٰ سے اس میں مدد چاہنا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! میں ان کا مطلب نہ سمجھ سکا یہاں تک کہ میں نے کہا: ”ابا جان! آپ کے مولیٰ کون ہیں؟“ انھوں نے فرمایا: ”اللہ۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی کہ «يَا مَوْلَى زُبَيْرٍ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ» ”اے زبیر کے مولیٰ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے“ اور ادائیگی کی صورت پیدا ہوجاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو انھوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا، اسی میں غابہ کی زمین شامل تھی، گیارہ مکانات مدینہ میں تھے، دو مکان بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا زیادہ قرض ہوگیا تھا، اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے: ”نہیں، بلکہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمہ بطور قرض رہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا بھی خوف ہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کبھی کسی علاقے کے امیر نہ بنے تھے اور نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے تھے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ کبھی قبول کیا تھا، البتہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی تھی۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو ان کی تعداد بائیس لاکھ تھی۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو پوچھا: ”بیٹے! میرے بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے؟“ عبداللہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ”لاکھ“، اس پر حکیم نے کہا: ”میں تو نہیں سمجھتا کہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا“، اب عبداللہ نے کہا: ”اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو آپ کی کیا رائے ہوگی؟“ انھوں نے کہا: ”پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے باہر ہے، خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی، لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی، پھر اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آکر ہم سے مل لے۔ چنانچہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما آئے، ان کا زبیر رضی اللہ عنہ پر چار لاکھ تھا، انھوں نے پیش کش کی کہ ”اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں“، لیکن عبداللہ نے کہا کہ ”نہیں“، پھر انھوں نے کہا: ”اگر تم چاہو تو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس پر کہا کہ ”تاخیر کی ضرورت نہیں ہے۔“ آخر انھوں نے کہا کہ ”پھر اس زمین میں میرے حصہ کا قطعہ مقرر کر دو۔“ عبداللہ نے کہا: ”آپ کا حصہ یہاں سے یہاں تک ہے۔“ عبداللہ نے بیان کیا کہ زبیر کی جائیداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کردیا گیا اور سارے قرض کی ادائیگی ہوگئی اور غابہ کی جائیداد سے ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے، اس لیے عبداللہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس (شام) تشریف لے گئے، وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی کتنی قیمت طے ہوئی؟ انھوں نے بتایا کہ چھ لاکھ یا کہا ہر حصے کی ایک لاکھ طے پائی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اب کتنے باقی رہ گئے ہیں؟“ انھوں نے بتایا: ”ساڑھے چار حصے۔“ اس پر منذر نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، عمرو بن عثمان نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، اس پر ابن زمعہ نے کہا: ”ایک حصہ ایک لاکھ میں میں لیتا ہوں“، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اب کتنے حصے باقی بچے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”ڈیڑھ حصہ۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اسے ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں“، پھر بعد میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے اپنا حصہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا، پھر جب ابن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کرچکے تو زبیر کی اولاد نے کہا کہ ”اب ہماری میراث تقسیم کردیجیے“، لیکن عبداللہ نے کہا: ”ابھی تمہاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کرسکتا جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرلوں کہ جس شخص کا بھی زبیر پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے۔“ راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے تو عبداللہ نے ان کو میراث تقسیم کردی اور زبیر کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے تہائی حصہ بیچی ہوئی رقم سے نکال لیا تھا، پھر بھی ہر بیوی کے حصہ میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی اور کل جائیداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12682]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3129»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2641. -- باب: ما جاء في كتاب الوصية
-- باب: وصیت نامہ تحریر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو ⦗٤٦٩⦘ مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ: هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَوْصَى أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَيُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا وَصَّى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ: {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: ١٣٢] ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی وصیتوں کے شروع میں لکھتے تھے: یہ فلاں بن فلاں کی وصیت ہے، وہ گواہی دیتا ہے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں“ اور «وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“ اور ﴿وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ [سورة الحج: 7] ”قیامت قائم ہونے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ قبروں سے اٹھائے گا“ اور انہوں نے وصیت کی اپنے بعد والوں کو کہ وہ اللہ سے ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [سورة آل عمران: 102] ”اس طرح ڈریں جس طرح ڈرنے کا حق ہے“ اور ﴿وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”اپنے درمیان صلح صفائی سے رہیں“ اور ﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں اگر وہ مومن ہیں“ اور وہ ان کو وہی وصیت کرتے جو ابراہیم علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی: ﴿يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة البقرة: 132] ”اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12683]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 16319»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12684
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: كَانَتْ وَصِيَّةُ ابْنِ سِيرِينَ:" ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَبَنِي أَهْلِهِ، أَنْ يَتَّقُوا اللهَ، وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ يُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا وَصَّى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: ١٣٢] ، وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَدَعُوا أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْأَنْصَارِ وَمَوَالِيَهُمْ؛ فَإِنَّ الْعَفَافَ وَالصِّدْقَ أَتْقَى وَأَكْرَمُ مِنَ الزِّنَا وَالْكَذِبِ، وَأَوْصَاهُمْ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي".
ابن عون کہتے ہیں: ابن سیرین رحمہ اللہ کی وصیت یہ تھی: محمد بن ابی عمرہ نے اپنی اولاد اور اپنے اہل کی اولاد کو وصیت کی کہ وہ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ ”اللہ سے ڈریں اور اپنی اصلاح کریں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں، اگر وہ مومن ہیں“ [سورة الأنفال: 1] اور ان کو وہ وصیت کی جو ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی: ﴿يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ”اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا“ [سورة البقرة: 132] اور ان کو وصیت کی کہ وہ انصار کے بھائی اور ان کے موالی ہونا نہ چھوڑیں، بیشک پاکدامنی اور سچائی، زنا اور جھوٹ سے زیادہ تقویٰ والی اور زیادہ عزت والی ہے، اور ان کو اس (مال) کے بارے میں وصیت کی جو انہوں نے چھوڑا، اگر میری وصیت بدلنے سے پہلے مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12684]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12685
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ:" {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] ، هَذَا مَا أَوْصَى الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ، وَأُشْهِدُ اللهَ عَلَيْهِ، وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ مُثِيبًا، أَنِّي رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ يَعْبُدَ اللهَ فِي الْعَابِدِينَ، وَيَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ، وَأَنْ يَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ".
یحییٰ بن سعید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم رحمہ اللہ نے اپنی وصیت لکھی: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» یہ ربیع بن خثیم کی وصیت ہے اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور وہ گواہی کے لیے کافی ہے اور وہ نیک بندوں کو ثواب کی جزا دینے والا ہے، میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور میں اپنے آپ کو حکم دینے والا ہوں اور جس نے میری اطاعت کی کہ ہم اللہ کی عبادت کریں، بندوں میں اور اس کی حمد کریں حمد کرنے والوں میں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12685]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الدارمي 3187»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں