السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2707. -- باب: ما فرض الله تبارك وتعالى على أهل دينه من المسلمين في أموالهم لغيرهم من أهل دينه المسلمين والمحتاجين إليه
-- باب: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے دین والے مسلمانوں کے اموال میں سے دیگر محتاج اور ضرورت مند مسلمانوں کے لیے جو حصہ فرض کیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 13112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرِايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ:" إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ أَنْ يُوَحِّدُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا صَلَّوْا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَلَاءِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: ”بیشک تو ایسی قوم کے پاس جا رہا ہے جو اہل کتاب ہیں، سب سے پہلی چیز جس کی طرف تو ان کو دعوت دے وہ اللہ کی توحید ہے۔ جب وہ توحید کو پہچان لیں تو ان کو بتاؤ کہ ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض ہیں، جب وہ نمازیں پڑھنے لگ جائیں تو ان کو بتاؤ کہ تمہارے مالوں میں زکوٰۃ بھی فرض ہے جو تم میں سے مال دار لوگوں سے لی جائے گی اور غریبوں میں تقسیم کی جائے گی، جب وہ اس بات کو بھی مان جائیں تو ان سے زکوٰۃ لے لو لیکن ان کے قیمتی مال سے بچ جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13112]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1395، 1496۔ مسلم 19»
الحكم على الحديث: صحيح
2708. -- باب: لا يسع أهل الأموال حبسه عمن أمروا بدفعه إليه
-- باب: مالداروں کے لیے جائز نہیں کہ جنہیں مال دینے کا حکم دیا گیا ہے ان سے اسے روکے رکھیں
حدیث نمبر: 13113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ⦗٤⦘ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ} [آل عمران: ١٨٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہ دی تو قیامت والے دن اس کو «أَقْرَعُ» سانپ کی شکل دی جائے گی، جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس سے لپٹ کر اس کی باچھوں کو پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾ [سورة آل عمران: 180] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1402، 1403۔ مسلم 987»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13114
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجُويْنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السِّنْدِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جَنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَالْإِبِلُ؟ قَالَ": وَلَا صَاحِبَ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهَ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: وَلَا صَاحِبَ غَنَمٍ وَلَا بَقَرٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَا جَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ"، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَولُهُ:" وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا" يُشْبِهُ أنْ يَكُونَ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ سونے یا چاندی والا اپنے مال کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ پھر ان کو آگ پر گرم کیا جائے گا، پھر اس کا ماتھا (پیشانی) اس کا پہلو اور اس کی پیٹھ کو ان سے داغا جائے گا، جب بھی وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو ان کو پھر گرم کردیا جائے گا۔ یہ سزا اس کے لیے اس دن تک جاری رہے گی، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے۔ پھر وہ اپنا ٹھکانا جنت میں یا جہنم میں دیکھے گا“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اگر کسی نے اونٹوں کی زکوۃ نہیں دی تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اونٹوں والا ان کا حق ادا نہیں کرتا اور اس کے پانی پلانے کے دن اس کا دودھ نہیں دوہتا تو قیامت کے دن اس کو ایک ہموار زمین پر اوندھے منہ لٹا دیا جائے گا اور ان میں سے ایک اونٹ بھی وہ کم نہ پائے گا مگر وہ اس کو اپنے کھروں سے روندیں گے اور مونہوں سے کاٹیں گے، جب پہلا جائے گا تو دوسرا آجائے گا، یہ سارا دن ہوتا رہے گا، جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گائے اور بکری کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح گائے اور بکری کا مالک جو ان میں سے حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا اسے ہموار زمین پر لٹا دیا جائے گا تو وہ کسی کو گم نہ پائے گا (یعنی سارے جانور موجود ہوں گے) اور ان میں کوئی بےسینگ نہ ہوگا، نہ ٹوٹے ہوئے سینگ والا اور نہ کوئی عیب دار، پھر وہ اپنے سینگوں سے اس کو نوچیں گے، اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے۔ جب ان کا پہلا (جانور) گزر جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ پر آجائے گا، یہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے“۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ «وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مشابہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13114]
تخریج الحدیث: «بخاري 140۔ مسلم 20»
الحكم على الحديث: بخاري 140
2709. -- باب: لا يسع الولاة تركه لأهل الأموال
-- باب: حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے (زکوٰۃ کو) مالداروں کے پاس چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13115
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ"؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ: عَنَاقًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے بعض لوگوں نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوبکر! تو ان لوگوں سے کیسے لڑائی کرے گا، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”مجھے لوگوں سے لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیں، جس بندے نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچا لی مگر اس کا حق اور حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں اس بندے کے خلاف ضرور لڑائی کروں گا، جس نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا۔ بے شک زکاۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے ایک رسی بھی روک لیں گے جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے لڑائی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے دیکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو اللہ پاک نے لڑائی کے لیے کھول دیا ہے تو میں نے جان لیا کہ یہ حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13115]
تخریج الحدیث: «بخاري 1400۔ 1457»
الحكم على الحديث: بخاري 1400
حدیث نمبر: 13116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عِقَالًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَقَالَ: عِقَالًا، وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَنَاقًا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: عَنَاقًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ قَالَ: عِقَالًا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٦⦘ وَرَوَاهُ عَنْبَسَةُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَنَاقًا، اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقِيلَ عَنْهُ: عَنَاقًا، وَقِيلَ: عِقَالًا.
امام لیث رحمہ اللہ سے پچھلی حدیث کی طرح روایت ہے، مگر اس میں «لَمَنَاقًا» کی جگہ «عِقَالًا» کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13116]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13117
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنِ الْكِسَائِيِّ قَالَ: الْعِقَالُ صَدَقَةُ عَامٍ وَعَنِ الْأَصْمَعِيِّ قَالَ: يُقَالُ بُعِثَ فُلَانٌ عَلَى عِقَالِ بَنِي فُلَانٍ إِذَا بُعِثَ عَلَى صَدَقَاتِهِمْ.
امام کسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عِقَال» عام صدقہ کو کہتے ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فلاں کو فلاں قبیلے کی «عِقَال» لینے کے لیے بھیجا گیا، یہ اس وقت ہے جب اسے زکوۃ لینے کے لیے بھیجا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13117]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13118
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ حِزَامُ بْنُ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَادًّا حَقْوَهُ بِعِقَالٍ، وَهُوَ يُمَارِسُ شَيْئًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ مَنْصُورٌ: حِفْظِي أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُهَا فِيمَنْ يَزِيدُ، كُلَّمَا بَاعَ بَعِيرًا مِنْهَا شَدَّ حَقْوَهُ بِعِقَالِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا يَعْنِي بِتِلْكَ الْعِقَالِ".
حزام بن ہشام بن حبیش خزاعی نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنی کمر کو مضبوطی کے ساتھ رسی سے باندھ لیتے اور وہ ان سے صدقے کے اونٹوں کو باندھنے کی مشقت کرتے تھے، منصور کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ وہ زائد اونٹوں کو بیچ دیتے تھے، جب اونٹ بیچتے تو اس کو اپنی رسی کے ساتھ باندھتے، پھر اس کو صدقہ کر دیتے، یعنی اس رسی کو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13118]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13119
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ" قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْعَنْبَسِ: هَذَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کر لیں اور وہ نماز قائم کرنے لگ جائیں اور زکاۃ کی ادائیگی شروع کر دیں، جب وہ یہ کام کر لیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو گئے لیکن ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13119]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13120
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزْازُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَايُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٧⦘ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمے کا اقرار کر لیں، اور نماز کی ادائیگی شروع کر دیں اور زکوٰۃ دینے لگ جائیں۔ جب وہ یہ کام کرنے لگ جائیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال اور اپنے خون کو بچا لیا مگر اس کا حق اور حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13120]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
2710. -- باب: ما جاء في رب المال يتولى تفرقة زكاة ماله بنفسه
-- باب: مال کے مالک کا خود اپنے مال کی زکوٰۃ تقسیم کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13121
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامِغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ" قَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَخْوَالِكَ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وَإِنِّي رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ، وَأَمَرَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا، وَنَضَعَهُ فِي فُقَرَائِنَا، فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ أَهُوَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ إِنْ كَانَتْ مَحْفُوظَةً دَلَّتْ عَلَى جَوَازِ تَفْرِيقِ رَبِّ الْمَالِ زَكَاةَ مَالِهِ بِنَفْسِهِ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا فِي فُقَرَائِنَا؟ إِسْنَادُهُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”السلام علیکم اے بنو عبدالمطلب کے غلام!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ» ”اور تم پر بھی سلامتی ہو۔“ اس نے کہا: ”میں سعد بن ابوبکر کی اولاد میں سے آپ کے ماموؤں میں سے ہوں اور میں اپنی قوم کا نمائندہ اور وفد ہوں۔“ پھر راوی نے حدیث بیان کی اور یہ الفاظ بھی بیان کیے: ”ہم نے آپ کی کتاب میں پایا اور آپ کے رسولوں نے حکم دیا کہ ہم اپنے زائد مال اپنے فقراء پر خرچ کریں، میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ اگرچہ محفوظ ہیں، لیکن صاحبِ مال کے خود زکوٰۃ والے اموال کو الگ کرنے پر دلالت کرتے ہیں، اس طرح کے قصہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ ”کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اغنیاء سے صدقہ لیں اور ہمارے فقراء پر تقسیم کریں؟“ اس کی اسناد صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13121]
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ اگرچہ محفوظ ہیں، لیکن صاحبِ مال کے خود زکوٰۃ والے اموال کو الگ کرنے پر دلالت کرتے ہیں، اس طرح کے قصہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ ”کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اغنیاء سے صدقہ لیں اور ہمارے فقراء پر تقسیم کریں؟“ اس کی اسناد صحیح ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13121]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف