السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2951. -- باب: ما يستحب من القصد في الصداق
-- باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ خُطِبَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لِي مَوْلَاةٌ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَةَ تُخْطَبُ؟ قُلْتُ: لَا أَوْ نَعَمْ قَالَتْ: فَاخْطُبْهَا إِلَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ عِنْدِي شَيْءٌ أَخْطُبُهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ تُرَجِّينِي حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَكُنَّا نُجِلُّهُ وَنُعَظِّمُهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أُلْجِمْتُ حَتَّى مَا اسْتَطَعْتُ الْكَلَامَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟"، فَسَكَتُّ، فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ:" لَعَلَّكَ جِئْتَ تَخْطُبُ فَاطِمَةَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" فَمَا فَعَلْتَ بِالدِّرْعِ الَّتِي كُنْتُ سَلَّحْتُكَهَا؟"، قَالَ: عَلِيٌّ وَاللهِ إِنَّهَا لَدِرْعٌ حُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا إِلَّا أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ:" اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا وَابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهِ"، كَذَا فِي كِتَابِي" أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ"، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ:" أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ".
مجاہد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو میری ایک لونڈی نے مجھ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ کو پیغامِ نکاح دیا گیا ہے؟ میں نے «نَعَمْ» ”ہاں“ یا «لَا» ”نہیں“ کہا تو وہ کہنے لگی: آپ بھی پیغامِ نکاح دیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے پاس کیا ہے کہ میں دے کر نکاح کروں؟ لیکن وہ مجھے ترغیب دیتی رہی یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بہت زیادہ کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ کے سامنے بیٹھ کر کلام نہ کر سکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے کوئی کام ہے؟“ میں خاموش رہا یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید آپ فاطمہ کو نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا چیز ہے جس کے ذریعے تو اس کو اپنے لیے حلال کر سکے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: کچھ بھی نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جو میں نے تجھے اسلحہ کے طور پر زرہ دی تھی وہ کدھر ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زرہ کی قیمت صرف چار سو درہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے لیکن وہ زرہ ان کو دے کر اپنے لیے حلال کر لو۔“
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14351]
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14351]
حدیث نمبر: 14352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْدَقَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ وَجَرَّةَ دَوَّارٍ،" وَإِنَّ صَدَاقَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ".
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حق مہر میں لوہے کی زرہ دی اور مٹی کا مٹکا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کا حق مہر پانچ سو درہم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے حق مہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دس اوقیہ یعنی ۴۰۰ درہم ہوا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14353]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: فَتًى، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ:" هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا" قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ:" عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟ فَذَكَرَ شَيْئًا" قَالَ:" فَكَأَنَّكُمْ تَنْحِتُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ مِنْ عَرْضِ هَذِهِ الْجِبَالِ، مَا عِنْدَنَا الْيَوْمَ شَيْءٌ نُعْطِيكَهُ وَلَكِنْ سَأَبْعَثُكَ فِي وَجْهٍ تُصِيبُ فِيهِ"، فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ وَبَعَثَ الرَّجُلَ فِيهِمْ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْيَتْنِي نَاقَتِي أَنْ تَنْبَعِثَ قَالَ: فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَالْمُعْتَمِدِ عَلَيْهِ لِلْقِيَامِ فَأَتَاهَا فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُهَا تَسْبِقُ الْقَائِدَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یا نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کی طرف دیکھا؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے، فرمایا: ”تو نے کتنا حق مہر ادا کیا ہے؟“ اس نے کچھ ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ تم سونے، چاندی کو ان پہاڑوں سے کرید لیتے ہو۔ لیکن آج ہمارے پاس جو کچھ ہے آپ کو دیں گے لیکن میں تجھے اس طرف روانہ کرتا ہوں جہاں سے آپ کچھ حاصل کر لیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی طرف لشکر میں اس کو روانہ کر دیا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری اونٹنی تھک گئی ہے کہ مجھے اٹھائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو پاؤں سے مارا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ باقی سواریوں سے آگے بڑھ گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1424»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ فَقَالَ:" كَمْ أَمْهَرْتَهَا"، فَقَالَ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بُطْحَانَ مَا زِدْتُمْ".
سیدنا ابو حدرد سلمی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عورت کے مہر میں مدد مانگ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کتنا حق مہر مقرر کیا ہے؟“ کہنے لگے: ”دو سو درہم۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بطحان وادی کے پودوں کو کاٹتے تو حق مہر زیادہ نہ کرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14355]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14356
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْمَازِنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٣٨٥⦘ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرَهُنَّ صَدَاقًا"، لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ:" أَيْسَرُهُنَّ مُؤْنَةً".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورتیں برکت کے اعتبار سے بڑی ہیں جن کے حق مہر آسان ہوں۔“
(ب) یزید بن ہارون کی روایت میں ہے: ”خرچے کے اعتبار سے آسان۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14356]
(ب) یزید بن ہارون کی روایت میں ہے: ”خرچے کے اعتبار سے آسان۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14356]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 14357
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، حَدَّثَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَتَيَسَّرَ خِطْبَتُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ صَدَاقُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ رَحِمُهَا"، قَالَ عُرْوَةُ: يَعْنِي يَتَيَسَّرُ رَحِمُهَا لِلْوِلَادَةِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.
عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عورت کا بابرکت ہونا یہ ہے کہ نکاح آسان، حق مہر تھوڑا اور اولاد کے لیے رحم کا آسان ہونا۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی اس کا رحم اولاد کے لیے آسان ہو۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں تو عورت کی پہلی نحوست یہ خیال کرتا ہوں کہ اس کا حق مہر زیادہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14357]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
2952. -- باب: ما يجوز أن يكون مهرا
-- باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14358
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ:" الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ. قَالَ:" وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ".
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کردیا اور وہ بہت زیادہ دیر کھڑی رہی، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو ضرورت نہیں ہے تو میرا نکاح (اس سے) کردیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”حق مہر دینے کے لیے تیرے پاس کیا ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری یہ چادر ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے چادر دے دی تو تیرے پاس کچھ نہ بچے گا، کچھ اور تلاش کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”میرے پاس کچھ نہیں ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ملے۔“ تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے اس قرآن کے عوض کردیا۔“ ابو حازم کی روایت میں ہے: ”اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1425»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14359
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٣٨٦⦘ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ"، فَذَهَبَ فَطَلَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا قَالَ:" اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" قَالَ: فَذَهَبَ فَطَلَبَ، فَقَالَ: لَمْ أَجِدْ شَيْئًا، قَالَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ:" اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
ابوحازم نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک عورت کھڑی ہوئی، اس نے کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کو ایک شخص نے دیکھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا نکاح (اس سے) کر دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا، پھر عورت نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا، پھر اس شخص نے کہا: آپ میرا نکاح کر دیں، پھر تیسری مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو۔“ لیکن تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو۔“ پھر وہ شخص گیا تو آکر کہنے لگا: مجھے کچھ بھی نہیں ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت یاد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا میں نے تیرا نکاح اس قرآن کے عوض کر دیا جو تیرے پاس ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14360
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ:" مَهْيَمْ أَوْ مَهْ؟"، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَالَ:" عَلَى كَمْ؟" قَالَ: عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:" بَارَكَ اللهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کے نشانات دیکھے تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے حق مہر کے عوض؟“ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ» ”اللہ تجھے برکت دے، ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1427»
الحكم على الحديث: صحيح