السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3248. -- باب: عمد القتل بالحجر وغيره مما الأغلب أنه لا يعاش من مثله
-- باب: پتھر یا کسی ایسی چیز سے جان بوجھ کر قتل کرنا جس کی ضرب لگنے سے عموماً جان نہیں بچتی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ⦗٧٧⦘ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ، وَأَبُو سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً وَجَدُوا رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَّ رَأْسَهُ بِحِجَارَةٍ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: بَيْنَ حَجَرَيْنِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بچی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا پایا گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے کیا ہے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے اثبات میں جواب دیا۔ اس یہودی نے اس کا اعتراف کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان کچلا جائے تو کچل دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15985]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَأَلَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ لِي فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ، وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ فَقَتَلَهُ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، وَقَضَى أَنْ تُقْتَلَ الْمَرْأَةُ بِالْمَرْأَةِ وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، فِي كِتَابِ الْعِلَلِ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ حَافَظٌ قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي وَصْلِ الْحَدِيثِ بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، إِلَّا أَنَّ فِي لَفْظِهِ زِيَادَةً لَمْ أَجِدْهَا فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَهِيَ: قَتْلُ الْمَرْأَةِ بِالْمَرْأَةِ وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولًا، وَحَدِيثِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا، وَحَدِيثِ جَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، مَوْصُولًا، ثَابِتًا أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا عَلَى الْعَاقِلَةِ ⦗٧٨⦘.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنین کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اپنی دو بیویوں کے درمیان تھا، دونوں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی تو وہ عورت بھی مرگئی اور بچہ بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں فیصلہ فرمایا کہ ”بچے کی دیت دی جائے اور عورت کے بدلے عورت کو قتل کردیا جائے۔“”
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ اس حدیث کے موصول ہونے کے بارے میں بات ویسی ہی ہے جیسے امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمائی، البتہ اس کے الفاظ میں ایک ایسا اضافہ ہے جو مجھے اس حدیث کی کسی سند میں نہیں ملا، اور وہ ہے عورت کے بدلے عورت کو قتل کرنا۔ عکرمہ عن ابن عباس کی موصول حدیث، ابن طاؤس عن ابیہ کی مرسل حدیث، اور جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی موصول حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت عاقلہ پر ڈالنے کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15986]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صحیح ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ اس حدیث کے موصول ہونے کے بارے میں بات ویسی ہی ہے جیسے امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمائی، البتہ اس کے الفاظ میں ایک ایسا اضافہ ہے جو مجھے اس حدیث کی کسی سند میں نہیں ملا، اور وہ ہے عورت کے بدلے عورت کو قتل کرنا۔ عکرمہ عن ابن عباس کی موصول حدیث، ابن طاؤس عن ابیہ کی مرسل حدیث، اور جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی موصول حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت عاقلہ پر ڈالنے کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15987
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَضَى بِدِيَتِهَا، وَبِغُرَّةٍ فِي جَنِينِهَا، فَقَالَ: لَقَدْ شَكَّكْتَنِي،.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے پچھلی روایت کی مانند ذکر فرمائی، اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے بارے میں ایک غرہ (غلام یا لونڈی) کا فیصلہ فرمایا اور یہ کہ اس (قاتلہ) کو اس کے بدلے قتل کیا جائے۔ (ابن جریج کہتے ہیں:) میں نے عمرو بن دینار سے کہا: مجھے ابن طاؤس نے اپنے والد سے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اور اس کے جنین میں ایک غرہ کا فیصلہ فرمایا تھا، تو وہ فرمانے لگے: ”تو نے تو مجھے شک میں ہی ڈال دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15987]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15988
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَلَا أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: شَكَّكْتَنِي.
ایضاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15988]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15989
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ فَاسْتَقِدْ" فَقَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ چیز تقسیم کر رہے تھے، ایک شخص آیا اور اس چیز پر جھپٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجور کی چھڑی سے مارا تو وہ آدمی زخمی ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”آؤ قصاص لے لو۔“ وہ شخص کہنے لگا: ”میں نے معاف کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15989]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15990
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ الْحَجَّاجُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، أنبأ أَشْيَاخُنَا الَّذِينَ أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِحَجَرٍ فَأَقَادَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ.
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بہت سے شیوخ رضی اللہ عنہم جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر سے زخمی کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قصاص لے کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15990]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15991
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُسَدَّدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ مِرْدَاسٍ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى رَجُلًا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهُ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَهُ مِنْهُ.
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ سیدنا مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کو پتھر مار کر قتل کر دیا، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قصاص دلوایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15991]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15992
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ مِرْدَاسِ بْنِ ⦗٧٩⦘ عُرْوَةَ، قَالَ: رَمَى رَجُلٌ مِنَ الْحِيِّ أَخًا لِي فَقَتَلَهُ، فَفَرَّ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَادَنَا مِنْهُ.
مرداس بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلے کے ایک شخص نے میرے ایک بھائی کو (پتھر) مار کر قتل کر دیا اور بھاگ گیا، پھر ہم نے اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پایا۔ ہم اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے قصاص لے کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15992]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15993
وَرُوِّينَا عَنْ بِشْرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَرَضَ عَرَضْنَا لَهُ، وَمَنْ حَرَقَ حَرَقْنَاهُ، وَمَنْ غَرَّقَ غَرَّقْنَاهُ" وَهُوَ فِيمَا أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، ثنا بِشْرٌ، فَذَكَرَهُ.
یزید بن براء اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو کسی کو جلائے گا ہم اسے جلائیں گے اور جو کسی کو غرق کرے گا ہم اسے غرق کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15993]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ بْنِ حَمِيلٍ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَيَضْرِبَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ بِمِثْلِ آكِلَةِ اللَّحْمِ، ثُمَّ يَرَى أَنِّي لَا أُقِيدُهُ وَاللهِ لَأُقِيدَنَّهُ مِنْهُ تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ جَرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قال يزيد قَالَ الْحَجَّاجُ: آكِلَةُ اللَّحْمِ يَعْنِي عَصًا مُحَدَّدَةً قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْحُكْمِ أَنَّهُ رَأَى الْقَوَدَ فِي الْقَتْلِ بِغَيْرِ حَدِيدَةٍ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ مِثْلُهُ يَقْتُلُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر کوئی اپنے بھائی کو آکلۃ اللحم (یعنی نوکیلی لاٹھی) جیسی چیز سے مارے اور پھر یہ سوچے کہ میں اس سے قصاص نہیں لوں گا، میں اس سے ضرور اس کا قصاص لوں گا۔
ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15994]
ابو عبید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلا کہ اگر لوہے کے بغیر کسی اور چیز سے بھی قتل کیا جائے تو بھی قصاص ہے جب وہ اس کی طرح قتل کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15994]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف