السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3448. -- باب: حد الرجل أمته إذا زنت
-- باب: جب لونڈی زنا کرے تو مالک کا اس پر حد قائم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17105
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ فَجَرَتْ فَقَالَ:" أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ" فَانْطَلَقْتُ فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دِمَائِهَا، فَرَجَعْتُ فَقَالَ:" أَفْرَغْتَ؟" فَقُلْتُ: وَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دِمَائِهَا، قَالَ:" فَإِذَا جَفَّتْ مِنْ دِمَائِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ" قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
یہ حدیث پہلے نمبر 17005 کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17105]
حدیث نمبر: 17106
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلَدَتْ أَمَةٌ لِبَعْضِ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ" فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں کی کسی لونڈی نے بچہ جنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ: ”اس پر حد قائم کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17106]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17107
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَدَّتْ جَارِيَةً لَهَا زَنَتْ".
حسن بن محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ نے اسے حد لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17107]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17108
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو ⦗٤٢٨⦘ الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،" كَانَ إِذَا زَنَى مَمْلُوكُهُ أَمَرَ بَعْضَ بَنِيهِ فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ".
ثمامہ بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب کوئی لونڈی زنا کر لیتی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں سے کہتے کہ اس پر حد قائم کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17108]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17109
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّ جَارِيَةً لَهُ زَنَتْ فَقَالَ لِلَّذِي يَجْلِدُهَا أَسْفَلَ رِجْلَيْهَا: خَفِّفْ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَيْنَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ} [النور: ٢] ؟ قَالَ: أَنَا أَقْتُلُهَا وَالرِّوَايَةُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي قَطْعِهِ عَبْدًا لَهُ سَرَقَ مَذْكُورَةٌ فِي قَطْعِ الْآبِقِ إِذَا سَرَقَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الْأَنْصَارُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَحِدُّونَ إِمَاءَهُمْ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک لونڈی کو حد لگوائی اور جو کوڑے مارنے والا تھا اسے کہا کہ ”دونوں ٹانگوں سے نیچے مارنا اور آہستہ“ تو ہم نے کہا کہ پھر اللہ کے اس فرمان کا کیا (مطلب) ہے: ﴿وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 2] ”ان کے ساتھ اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ برتو؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”کیا پھر میں اس کو قتل کر دیتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار اور ان کے بعد (کے لوگ) غلاموں کو حد لگایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17109]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار اور ان کے بعد (کے لوگ) غلاموں کو حد لگایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17109]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ:" إِذَا زَنَتِ الْأَمَةُ لَمْ تُجْلَدِ الْحَدَّ مَا لَمْ تَزَوَّجْ"، فَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى فَقَالَ: أَدْرَكْتُ بَقَايَا الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَضْرِبُونَ الْوَلِيدَةَ مِنْ وَلَائِدِهِمْ فِي مَجَالِسِهِمْ إِذَا زَنَتْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِهِ، وَأَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَحُدُّ وَلِيدَتَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَضَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ لونڈی اگر زنا کر لے تو اسے اس وقت تک حد نہیں ماری جائے گی جب تک وہ شادی نہ کر لے، تو میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے انصار کے باقی ماندہ لوگوں کو پایا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو جب وہ زنا کر لیتی تھیں اپنی مجلسوں میں کوڑے مارا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیا کرتے تھے اور سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے تو حد لگائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17110]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیا کرتے تھے اور سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے تو حد لگائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17110]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17111
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ" ضَرَبَ أَمَةً لَهُ فَجَرَتْ".
اشعث اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے اپنی زانیہ لونڈی کو حد لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17111]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17112
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ حَدَّ جَارِيَةً لَهُ".
خارجہ بن زید رحمہ اللہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ایک لونڈی کو حد لگائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17112]
حدیث نمبر: 17113
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يَنْتَهِي إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُقِيمَ شَيْئًا مِنَ الْحُدُودِ دُونَ السُّلْطَانِ إِلَّا أَنَّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقِيمَ حَدَّ الزِّنَا عَلَى عَبْدِهِ وَأَمَتِهِ".
ابوزناد فقہائے اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”کوئی کسی کو حد نہ لگائے مگر سلطان، اور اگر آدمی کی اپنی لونڈی یا غلام زنا کر لے تو وہ اسے حد لگائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 17113]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3449. -- باب: ما جاء في حد الذميين
-- باب: ذمیوں (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں) کی حد کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17114
وَمَنْ قَالَ: إِنَّ الْإِمَامَ مُخَيَّرٌ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ، وَإِنْ حَكَمَ حَكَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ قَالَ: عَلَيْهِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ وَلَيْسَ لَهُ الْخِيَارُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ: {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ}، فَفِي هَذِهِ الْآيَةِ بَيَانٌ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ جَعَلَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ فِي الْحُكْمِ بَيْنَهُمْ أَوْ يُعْرِضُ عَنْهُمْ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ إِنْ حَكَمَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ} [المائدة: 49] : إِنْ حَكَمْتَ، لَا عَزْمًا أَنْ تَحْكُمَ.
اور جس نے یہ کہا کہ امام کو ان (اہل کتاب) کے درمیان فیصلہ کرنے میں اختیار ہے، اور اگر وہ فیصلہ کرے تو اسی کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ عزوجل نے نازل فرمایا ہے، اور جس نے یہ کہا کہ اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرنا لازم ہے اور اسے (فیصلہ نہ کرنے کا) اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ’پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں۔‘ [سورة المائدة: 42] تو اس آیت میں، واللہ اعلم، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ لازم کیا کہ اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے اہل علم میں سے ایک ایسے شخص کو، جن (کے علم) سے میں مطمئن ہوں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ﴾ ’اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘ [سورة المائدة: 49] کے بارے میں یہ کہتے سنا: (اس کا مطلب ہے کہ) اگر آپ فیصلہ کریں (تو اس کے مطابق کریں)، یہ لازمی حکم نہیں کہ آپ (ضرور) فیصلہ کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17114]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ ’پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں۔‘ [سورة المائدة: 42] تو اس آیت میں، واللہ اعلم، اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ لازم کیا کہ اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“
انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں نے اہل علم میں سے ایک ایسے شخص کو، جن (کے علم) سے میں مطمئن ہوں، اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ﴾ ’اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔‘ [سورة المائدة: 49] کے بارے میں یہ کہتے سنا: (اس کا مطلب ہے کہ) اگر آپ فیصلہ کریں (تو اس کے مطابق کریں)، یہ لازمی حکم نہیں کہ آپ (ضرور) فیصلہ کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: Q17114]