السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3772. -- باب: الأكل مما أمسك عليك المعلم وإن قتل
-- باب: سدھائے ہوئے جانور کے تمہارے لیے پکڑے ہوئے شکار کو کھانے کا بیان، اگرچہ وہ اسے مار ڈالے۔
حدیث نمبر: 18866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَلْمَى أُمِّ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أُحِلَّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] .
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے اس سے کیا حلال ہے جن کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال ہے، کہہ دیجیے: تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم نے شکاری کتے سدھائے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18866]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18867
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي كِلَابًا أَصْطَادُ بِهَا، فَقَالَ: انْظُرُوا هَذِهِ الْجَوَارِحَ عَلِّمُوهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللهُ وَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرا کتا ہے جس سے میں شکار کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شکار کرنے والوں کی جانب دیکھو، انھیں سکھاؤ جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اور اس شکار کو کھا لو جو تمہارے لیے روکے رکھیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18867]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 18868
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَمَا ⦗٣٩٤⦘ عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ} [المائدة: ٤] ، قَالَ: مِنَ الْكِلَابِ الْمُعَلَّمَةِ وَالْبَازِي وَكُلِّ طَيْرٍ يُعَلَّمُ لِلصَّيْدِ، وَفِي قَوْلِهِ: {مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] ، قَالَ: يَقُولُ ضَوَارِيَ. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: الْجَوَارِحُ: الطَّيْرُ وَالْكِلَابُ، وَعَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ: {مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] قَالَ: يُكَالِبُونَ الصَّيْدَ. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ: {تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ} [المائدة: ٩٤] ، قَالَ: يَعْنِي النَّبْلَ، وَيُقَالُ أَيْدِيكُمْ أَيْضًا صِغَارُ الصَّيْدِ الْفِرَاخُ وَالْبَيْضُ، {وَرِمَاحُكُمْ} [المائدة: ٩٤] يُقَالُ: كِبَارُ الصَّيْدِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم شکار کرنے والوں کو سکھاتے ہو۔“ 1 شکاری کتے سدھائے ہوئے، 2 باز، 3 ہر وہ پرندہ جس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو، «مُكَلِّبِينَ» ”شکاری جانور۔“ مجاہد کہتے ہیں کہ پرندے اور کتے جو شکار کرتے ہو اور قتادہ فرماتے ہیں کہ جن کتوں سے تم شکار کرتے ہو ﴿تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] یعنی تیر، «أَيْدِيكُمْ» سے مراد چڑیا وغیرہ، ﴿وَرِمَاحُكُمْ﴾ [سورة المائدة: 94] سے مراد بڑا شکار۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3773. -- باب: المعلم يأكل من الصيد الذي قد قتل
-- باب: سدھائے ہوئے جانور کا اس شکار میں سے کھانے کا بیان جسے وہ مار چکا ہو۔
حدیث نمبر: 18869
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا". قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَرَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اپنے شکاری سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتے ہیں، وہ شکار کو ہمارے لیے محفوظ کر لیتا ہے، کیا میں اس پر اللہ کا نام ذکر کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا سکھایا ہوا کتا چھوڑے اور تو نے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہو تو کھاؤ۔“ میں نے پوچھا: اگر کتا شکار کو قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شامل نہ ہو تب وہ قتل بھی کر دے تو کھا لو۔“ پھر میں نے عرض کیا کہ میں پھالا مار کر شکار کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ پھالا مار کر شکار کریں اور وہ شکار کو سوراخ کر دے تو کھا لو، اگر اس کو چوڑائی کے بل لگے تو پھر نہ کھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18869]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18870
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيِّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ أَصَبْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلَابِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى كِلَابِ غَيْرِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے لیے روک لے کھا لو کیونکہ اس کا پکڑ لینا ہی ذبح کرنا ہے۔ اگر آپ اپنے شکاری کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا یا کتے پائیں تب نہ کھائیں، آپ نے اپنے شکاری کتے کو چھوڑتے ہوئے «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھا ہے جب کہ دوسرے کتوں کے چھوڑتے ہوئے نہیں پڑھا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18871
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَارِمٌ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ إِذَا أَرْسَلْتُ كَلْبِي فَسَمَّيْتُ فَقَتَلَتِ الصَّيْدَ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ نَافِعٌ: يَقُولُ اللهُ: {إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ} [المائدة: ٣] تَقُولُ أَنْتَ: وَإِنْ قَتَلَ. قَالَ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَمْسَكَ عَلَى سِنَّورٍ فَأَدْرَكْتُ ذَكَاتَهُ كَانَ يَكُونُ ⦗٣٩٥⦘ عَلَيَّ بَأْسٌ؟ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ فِي أِيِّ كِلَابٍ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ فِي كِلَابِ بَنِي نَبْهَانَ مِنْ طَيِّئٍ، وَيْحَكَ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ وَلَيَكُونَنَّ لَكَ نَبَأٌ.
نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے جب میں اپنے سکھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں پھر وہ شکار کو قتل کر دیتا ہے، کیا میں اس شکار کو کھا لوں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کھا لو۔ نافع کہتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] یعنی اس وقت کھاؤ جب تم ذبح کرو، آپ کہتے ہیں کہ اگر شکار قتل بھی کر دیا جائے تو بھی کھا لو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابن ازرق! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اس کو پکڑ کر ذبح کروں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کن کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ بنو نبھان جو قبیلہ طئی سے ہیں، ان کے کتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اے ابن ازرق! تجھ پر افسوس، ضرور تیرے لیے کوئی خبر ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18871]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
3774. -- (إذا قتل الكلبُ المُعَلَّمُ الصيدَ، فإنه يجوز أكلُه)
-- سکھایا ہوا کتا اگر شکار کو قتل کر بھی دے تو اسے کھایا جاسکتا ہے
حدیث نمبر: 18872
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ". قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ". قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ أَكَلَ؟ قَالَ:" فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا حَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يَحْبِسْ عَلَيْكَ". قَالَ: قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي وَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى الْآخَرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوڑائی کے بل شکار کو لگنے والے تیر کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیر دھار کی جانب سے شکار کو لگے تو کھا لیں اور جب تیر چوڑائی کی جانب سے لگ کر شکار کو قتل کر دے تو یہ لکڑی کی چوٹ کھا کر مرا تصور ہوگا، اس شکار کو نہ کھائیں“، راوی کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے کتے کو چھوڑوں؟ فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”بسم اللہ“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ، پھر کھا لو“، راوی کہتے ہیں: اگر کتے نے اس سے کھا لیا؟ فرمایا: ”پھر نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اپنے لیے شکار کیا ہے، تیرے لیے نہیں“، راوی کہتے ہیں: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ اور کتے پاؤں؟ فرمایا: ”تب نہ کھاؤ کیونکہ آپ نے اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18872]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18873
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ وَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیر کی چوڑائی کی جانب سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تیر کی دھار لگے اسے کھاؤ اور جو چوڑائی کی جانب سے تیر لگ کر مرے تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا ہوا تصور ہو گا“ اور میں نے کتے کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور کتا شکار کو تیرے لیے روک لے تو کھا لے، اگر کتے نے شکار سے کچھ کھا لیا ہو تو پھر شکار کو نہ کھاؤ۔ اگر آپ اپنے کتے کے ساتھ کسی دوسرے کتے کو بھی پائیں اور آپ کو ڈر ہو کہ کہیں شکار اس کتے نے پکڑا یا قتل کیا ہو، پھر بھی نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا، دوسرے پر نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18873]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18874
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ ⦗٣٩٦⦘ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ". وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتے کے شکار کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کتا شکار آپ کے لیے روکے، کھائے نہیں، اس شکار کو آپ کھا لیں کیونکہ اس کا پکڑنا ہی ذبح تصور کیا جائے گا۔ اگر اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور یہ ڈر ہو کہ ممکن ہے کہ شکار کو اس نے پکڑا یا قتل کیا ہے تو نہ کھائیں کیونکہ اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے آپ نے اللہ کا نام لیا تھا دوسرے پر نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے چوڑائی کی جانب سے لگنے والے تیر کی وجہ سے شکار ہونے والے جانور کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شکار کو تیر دھار کے بل لگے اسے کھا لو اور جس کو آپ تیر چوڑائی کے بل ماریں تو وہ لکڑی کی چوٹ سے مرا تصور ہو گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18874]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 18875
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَلَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا وَعَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ اور «اَللّٰهُ اَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھ، اگر شکار مرنے سے پہلے آپ پالیں تو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لو اور اگر قتل شدہ شکار پالیں اور کتے نے کھایا بھی نہیں تو آپ کھا لیں، کیونکہ آپ کے لیے اس نے شکار کیا ہے؛ اگر شکار میں سے اس نے کچھ کھایا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ کتے نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 18875]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح