السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3889. -- باب: أدوية النبي صلى الله عليه وسلم سوى ما مضى في الباب قبله
-- باب: پچھلے باب میں گزرنے والی ادویات کے علاوہ نبی کریم ﷺ کی (تجویز کردہ) دیگر ادویات کا بیان۔
حدیث نمبر: 19575
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ، أَوْ قَالَ عَنْهُ مِنَ الْعُذْرَةِ قَالَ:" عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَشْفِيَةٍ، يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ وَغَيْرِهِمَا،.
عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے حلق کی تکلیف کی بنا پر اس کو زور دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم حلق کی بیماری «الْعُذْرَةِ» کی وجہ سے اپنے بچوں کے حلق کو کیوں دباتے ہو؟ تم «الْعُودِ الْهِنْدِيِّ» ”عودِ ہندی“ کے ساتھ دوائی کیا کرو کیونکہ اس میں سات قسم کی بیماریوں سے شفا ہے۔ حلق کی بیماری کی وجہ سے ناک کی جانب سے دوا دیں اور نمونیہ «ذَاتِ الْجَنْبِ» کے مریض کو منہ کی ایک طرف سے دوا دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19575]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19576
عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ فِيهِ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: يَعْنِي الْقُسْطَ، وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: إِنَّ فِيهِ أَشْفِيَةً.
ابن ابی عمر، حضرت سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، اور اس میں کہا: یعنی قسط۔ انہوں نے حدیث بیان کی کہ ”اس میں شفا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19576]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 19577
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَّامِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ مَيْمُونٍ ⦗٥٨٢⦘ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالزَّيْتِ وَالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ". وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْجَنْبِ وَرْسًا وَزَيْتًا وَقُسْطًا.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمونیہ کے مریض کی دوائی زیتون اور قسط بحری سے کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19577]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19578
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْأَشْجَعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَاذَا فِي الْأَمَرَّيْنِ مِنَ الشِّفَاءِ الصَّبِرِ وَالثُّفَّاءِ". أَوْرَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ.
قیس بن رافع اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر بوٹی اور رائی کے دانے میں بھی شفا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19578]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19579
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الدَّوَاءِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ وَالْعَلَقُ". هَذَا مُرْسَلٌ أَوْرَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، وَرَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشِيُّ". وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ".
(ا) شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دوا ناک سے دوائی دینا، منہ کی ایک جانب سے کھلانا، سینگی لگوانا، جلاب لینا اور جونک رکھوانا ہے۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”بہترین دوائی جس سے تم علاج کرتے ہو، ناک کی جانب سے چڑھانا، منہ کی ایک جانب سے کھانا، سینگی لگوانا اور جلاب لینا ہے۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اثمد سرمہ نظر کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“
شعبی رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19579]
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”بہترین دوائی جس سے تم علاج کرتے ہو، ناک کی جانب سے چڑھانا، منہ کی ایک جانب سے کھانا، سینگی لگوانا اور جلاب لینا ہے۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”اثمد سرمہ نظر کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“
شعبی رحمہ اللہ کی یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19580
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا تَسْتَمْشِينَ؟ قُلْتُ: بِالشُّبْرُمِ. قَالَ:" حَارٌّ". قَالَتْ: ثُمَّ قُلْتُ: اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا. قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَخَالَفَهُ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ فِي إِسْنَادِهِ فَقَالَ: عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَيَاضِيِّ الْأَنْصَارِيِّ، وَقِيلَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جلاب کس چیز سے لیتی ہو؟“ میں نے کہا: شبرم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گرم ہوتی ہے۔“ پھر میں نے کہا کہ میں نے سنا سے جلاب لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفا ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19580]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 19581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ⦗٥٨٣⦘ الْفَزَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَدَّادَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِنْ وَلَدِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" السَّنَا وَالسَّنُّوتُ فِيهِمَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ". قَالَ: فَقِيلَ لِإِبْرَاهِيمَ: وَمَا السَّنُّوتُ؟ فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الشَّاعِرِ:.
ابراہیم بن ابی عبلہ کہتے ہیں: میں ابن دیلمی کے ساتھ گیا یہاں تک کہ ہم سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سنا اور سنوت میں ہر قسم کی بیماری کی دوا ہے۔“ ابراہیم سے پوچھا گیا: سنوت کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے شاعر کا قول نہیں سنا؟ (اس شعر میں) سنوت کے ساتھ ایسے گھی کا ذکر ہے جس میں ملاوٹ نہ ہو، اور ان لوگوں کا جو ہمسائے کو بھی اس سے لذت حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19581]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 19582
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ بَحِيرِ بْنِ رَيْسَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا يقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ وَهِيَ أَرْضُ رِيعِنَا وَمِيرَتِنَا، وَهِيَ وَبِيئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ. قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ". قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: الْقَرَفُ: مُدَانَاةُ الْوَبَاءِ وَالْمَرَضِ. قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: وَهَذَا مِنْ بَابِ الطِّبِّ، لِأَنَّ فَسَادَ الْأَهْوَاءِ مِنْ أَضَرِّ الْأَشْيَاءِ وَأَسْرَعِهَا إِلَى أَسَقَامِ الْبَدَنِ عِنْدَ الْأَطِبَّاءِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَهَذَا نَظِيرُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ". وَكُلُّ ذَلِكَ بِمَشِيئَةِ اللهِ وَإِذْنِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ".
فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں ایک زمین ہے جسے ابین کی زمین کہا جاتا ہے، وہ ہماری کھیتی اور غلے کی زمین ہے اور وہ وبا زدہ ہے (یا کہا) اس کی وبا سخت ہے؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو کیونکہ بیماری کے قریب رہنے سے ہلاکت ہوتی ہے۔“
قتیبی کہتے ہیں: «القرف» کا مطلب وبا اور بیماری کے قریب ہونا ہے۔
ابو سلیمان (خطابی) کہتے ہیں: یہ طب کے باب سے ہے، کیونکہ اطباء کے نزدیک ہوا کا خراب ہونا سب سے زیادہ نقصان دہ اور بدن کو جلد بیمار کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے: ”جب تم کسی زمین میں اس (وبا) کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ۔“ اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اذن سے ہوتا ہے، اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19582]
قتیبی کہتے ہیں: «القرف» کا مطلب وبا اور بیماری کے قریب ہونا ہے۔
ابو سلیمان (خطابی) کہتے ہیں: یہ طب کے باب سے ہے، کیونکہ اطباء کے نزدیک ہوا کا خراب ہونا سب سے زیادہ نقصان دہ اور بدن کو جلد بیمار کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے: ”جب تم کسی زمین میں اس (وبا) کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ۔“ اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اذن سے ہوتا ہے، اور اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19582]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3890. -- باب: لا تكرهوا مرضاكم على الطعام والشراب
-- باب: اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو۔
حدیث نمبر: 19583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ بِقَرْيَةِ حَدَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَإِنَّ اللهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي نَصْرٍ إِسْنَادًا وَمَتْنًا، تَفَرَّدَ بِهِ بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ. قَالَهُ الْبُخَارِيُّ. ⦗٥٨٤⦘ وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ الرِّفَاعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا، وَهُوَ بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو کیونکہ اللہ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔“
اس روایت کو موسیٰ بن علی سے صرف بکر بن یونس بن بکیر نے بیان کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری نے کہی ہے۔ علی بن قتیبہ رفاعی اور محمد بن ولید یشکری نے اسے مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور یہ باطل ہے، مالک کی حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19583]
اس روایت کو موسیٰ بن علی سے صرف بکر بن یونس بن بکیر نے بیان کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری نے کہی ہے۔ علی بن قتیبہ رفاعی اور محمد بن ولید یشکری نے اسے مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور یہ باطل ہے، مالک کی حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19583]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3891. -- باب: إباحة الرقية بكتاب الله عز وجل وبما يعرف من ذكر الله
-- باب: اللہ عزوجل کی کتاب اور اللہ کے معروف ذکر کے ذریعے دم (رقیہ) کرنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 19584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ فَقَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ..
عبدالرحمن بن اسود اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زہریلے جانور سے دم کے بارے میں پوچھا، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر زہریلے جانور سے دم کی رخصت دی ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19584]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح