السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4103. -- جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين
-- آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20756
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
ابوزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20756]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 41»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20757
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَأَبُو بَكْرٍ الطَّيَالِسِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي: ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا إِلَّا كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً، وَهَذَا الدَّهْرَ كُلَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کر کے فرض نماز میں حاضر ہو، پھر رکوع و سجود بھی اچھی طرح ادا کرے، اگر وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو صغیرہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحیح۔ مسلم] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20757]
حدیث نمبر: 20758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ يَغْشَ الْكَبَائِرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک درمیانی وقفہ یہ گناہوں کا کفارہ ہے، جب وہ کبائر سے محفوظ رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20758]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 233»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20759
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُمَا إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کا وقت، ایک رمضان سے لے کر دوسرے رمضان تک، یہ گناہوں کا کفارہ ہے جب کبائر سے بچا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20760
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرَ حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرَانِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ سَكَتَ، فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حَزِينًا لِيَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ⦗٣١٦⦘ قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَأْتِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى إِنَّهَا لَتَصْفُقُ"، ثُمَّ تَلَا: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ} [النساء: ٣١] . فَفِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ وَمَا جَانَسَهَا مِنَ التَّغْلِيظِ فِي الْكَبَائِرِ وَالتَّكْفِيرِ عَنِ الصَّغَائِرِ مَا يُؤَكِّدُ قَوْلَ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا بِرَدِّ شَهَادَةِ مَنِ ارْتَكَبَ كَبِيرَةً دُونَ مَنِ ارْتَكَبَ صَغِيرَةً، وَمِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي تَدُلُّ عَلَى أَنَّ الصَّغَائِرَ إِذَا كَثُرَتْ بَلَغَتْ بِصَاحِبِهَا مَبْلَغَ مُرْتَكِبِ الْكَبِيرَةِ فِي رَدِّ الشَّهَادَةِ وَغَيْرِهِ مَا:.
سیدنا ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے تھے، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ تین مرتبہ فرمایا، پھر خاموش ہو گئے تو ہم میں سے ہر آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کی وجہ سے غمگین ہو کر سر جھکائے رونے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [سورة النساء: 31] ”اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہاری غلطیاں مٹا دیں گے۔“
(ان اخبار میں) ان احادیث میں کبیرہ گناہوں کی سختی بیان ہوتی ہے اور صغیرہ گناہوں کا کفارہ۔ بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کی شہادت قبول نہیں کرتے جبکہ مرتکبِ صغیرہ کی شہادت قبول ہے۔
ان احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب صغیرہ گناہ کی کثرت ہو جائے تو یہ کبیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20760]
(ان اخبار میں) ان احادیث میں کبیرہ گناہوں کی سختی بیان ہوتی ہے اور صغیرہ گناہوں کا کفارہ۔ بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے کہ مرتکبِ کبیرہ کی شہادت قبول نہیں کرتے جبکہ مرتکبِ صغیرہ کی شہادت قبول ہے۔
ان احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب صغیرہ گناہ کی کثرت ہو جائے تو یہ کبیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20760]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا غَيْلَانُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا لَهِيَ الْمُوبِقَاتُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
غیلان رحمہ اللہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (انہوں نے فرمایا): تم ایسے بہت سے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں، حالانکہ ہم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہلاک کر دینے والے شمار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6492»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20762
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ، إِنَّهُنَّ لَيُجْمَعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ"، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا:" كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُوَيْدِ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا، ثُمَّ أَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجَتْ مَا قُذِفَ فِيهَا". وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ، غَيْرَ مَرْفُوعٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حقیر اعمال سے بچو، اگر وہ آدمی پر جمع ہو جائیں تو اس کو ہلاک کر دیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال بیان فرمائی ہے کہ ”ایسی قوم جو چٹیل میدان میں ہو اور قوم کے کھانا پکانے کا وقت آ جائے تو لوگ ایک ایک لکڑی لانی شروع کر دیں، انھوں نے زیادہ لکڑیاں جمع کر لیں، پھر انھوں نے آگ روشن کی، پھر وہ جلا ڈالے گی جو بھی اس میں ڈالا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20762]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ مِنْهَا قَلْبُهُ، فَإِنْ عَادَ رَانَتْ حَتَّى يُغْلَقَ بِهَا قَلْبُهُ"، فَذَاكَ الَّذِي ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [المطففين: ١٤] ". ⦗٣١٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ:" وَيُشْبِهُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا جَانَسَهَا فِي التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَنْ أَصَرَّ عَلَى الذُّنُوبِ غَيْرَ مُسْتَغْفِرٍ مِنْهَا، وَلَا مُحَدِّثٍ نَفْسَهُ بِتَرْكِهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے اور گناہ چھوڑ دے اور استغفار کر لے تو نکتہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو دل زنگ آلود ہو جاتا ہے۔“ اس کا تذکرہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [سورة المطففين: 14] ”ہرگز نہیں بلکہ ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہو گئے۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20763]
شیخ فرماتے ہیں: یہ ان کے لیے ڈانٹ ہے جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں، توبہ استغفار نہیں کرتے اور اپنے دل کو گناہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20763]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20764
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، فَغَفَرَ لَهُ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا آخَرَ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ فَاغْفِرْ لِي، قَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ فَغَفَرَ لَهُ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَصَابَ ذَنْبًا آخَرَ"، وَرُبَّمَا قَالَ:" أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا آخَرَ، فَاغْفِرْ لِي، فَقَالَ رَبُّهُ: عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ، فَقَالَ رَبُّهُ: غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے معاف فرما“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کرنے والا رب ہے، جو اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے۔ پھر اللہ اس کو معاف کر دیتے ہیں، پھر کچھ دیر کے بعد وہ دوبارہ گناہ کر لیتا ہے اور بعض اوقات کئی اور بھی گناہ کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! میں نے دوسرا گناہ کر لیا ہے، مجھے معاف فرما“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا اور اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے، اللہ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔ پھر وہ کچھ دیر ٹھہرتا ہے، پھر گناہ کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! مجھے گناہ معاف کر دے“ تو اللہ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دیں گے، اس کا مواخذہ بھی کر سکتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں: «غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ» ”میں نے تجھے معاف کر دیا جو مرضی عمل کر“۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً".
ابو نصیرہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے استغفار کر لیا اس نے (گناہ پر) اصرار نہیں کیا، اگرچہ وہ ایک دن کے اندر ستر مرتبہ (گناہ کی طرف) لوٹے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف