السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4173. -- باب:: الولد يسلم بإسلام أحد أبويه
-- باب: بچہ اپنے والدین میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے مسلمان شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 21292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ الْمُسْلِمِ".
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بچے کا زیادہ حق دار مسلمان والد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21292]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21293
قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا يَحْيَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ اخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي صَبِيٍّ، أَحَدُ أَبَوَيْهِ نَصْرَانِيٌّ، قَالَ:" الْوَالِدُ الْمُسْلِمُ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ".
شعبی رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک بچہ جس کے والدین میں سے ایک عیسائی تھا، اس کا مقدمہ آیا، فرماتے ہیں کہ مسلم والد بچے کا زیادہ حقدار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21293]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21294
قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الصَّغِيرِ قَالَ:" مَعَ الْمُسْلِمِ مِنْ وَالِدَيْهِ". وَقَدْ مَضَى سَائِرُ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ فِي كِتَابِ اللَّقِيطِ..
یونس رحمہ اللہ، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نابالغ بچے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے والدین میں سے مسلمان کے ساتھ ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21294]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
4174. -- باب:: متاع البيت يختلف فيه الزوجان
-- باب: گھر کے سامان کا بیان جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہو جائے۔
حدیث نمبر: Q21295
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يُقِمْ بَيِّنَةً فَالْقِيَاسُ الَّذِي لَا يُعْذَرُ أَحَدٌ عِنْدِي بِالْغَفْلَةِ عَنْهُ عَلَى الْإِجْمَاعِ أَنَّ هَذَا الْمَتَاعَ فِي أَيْدِيهِمَا مَعًا، فَيَحْلِفُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ عَلَى دَعْوَاهُ، فَإِنْ حَلَفَا جَمِيعًا فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس جو شخص اس (سامان) میں سے کسی چیز پر دلیل (گواہی) قائم کر دے تو وہ اسی کی ہے، اور جو دلیل قائم نہ کرے تو وہ قیاس، جس سے غفلت برتنے میں میرے نزدیک کوئی بھی معذور نہیں، اجماع کی بنیاد پر یہ ہے کہ یہ سامان ان دونوں کے مشترکہ قبضے میں ہے، لہٰذا ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے مقابلے میں اس کے دعوے پر قسم کھائے گا، پھر اگر دونوں قسم کھا لیں تو وہ (سامان) ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہو گا...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: Q21295]
حدیث نمبر: 21295
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّاجِرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرِّيِّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ حَمْزَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَالِكِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ قَالَا: ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى. وَهَهُنَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَيْهِ مَا فِي يَدِهِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُهُ مَعَ يَمِينِهِ فِي نَفْيِ مَا يَدَّعِي صَاحِبُهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلِأَنَّ الرَّجُلَ قَدْ يَمْلِكُ مَتَاعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةَ قَدْ تَمْلِكُ مَتَاعَ الرَّجُلِ بِالشِّرَاءِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَقَدِ اسْتَحَلَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَهَذَا مَتَاعُ الرَّجُلِ، وَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي تِلْكَ الْحَالِ مَالِكَةً لِلْبُدْنِ دُونَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى هَذَا فِي رِوَايَةِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا"، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ:" أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ؟"..
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدعی علیہ پر قسم ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (یہ اس لیے بھی ہے کہ) مرد کبھی عورتوں کے سامان کا مالک ہوتا ہے اور عورت کبھی خریدنے، وراثت وغیرہ کی وجہ سے مرد کے سامان کی مالک ہو جاتی ہے، اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لوہے کی ایک زرہ (کے مہر) کے عوض اپنے لیے حلال کیا، اور یہ مرد کا سامان ہے، اور اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس زرہ کی مالکہ تھیں، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
شیخ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ کو کچھ دو۔“ کہنے لگے: میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا: ”آپ کی حطمی زرہ کہاں ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21295]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (یہ اس لیے بھی ہے کہ) مرد کبھی عورتوں کے سامان کا مالک ہوتا ہے اور عورت کبھی خریدنے، وراثت وغیرہ کی وجہ سے مرد کے سامان کی مالک ہو جاتی ہے، اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو لوہے کی ایک زرہ (کے مہر) کے عوض اپنے لیے حلال کیا، اور یہ مرد کا سامان ہے، اور اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس زرہ کی مالکہ تھیں، نہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
شیخ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ کو کچھ دو۔“ کہنے لگے: میرے پاس کچھ نہیں، فرمایا: ”آپ کی حطمی زرہ کہاں ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21295]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21296
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ⦗٤٥٥⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا رَقَبَةُ، قَالَ: قَالَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ مِنْ عِنْدِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: لَقَدْ قَضَى الْأَمِيرُ بِقَضِيَّةٍ، فَقَالَ لَهُ الشَّعْبِيُّ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَ: قَالَ:" مَا كَانَ لِلرَّجُلِ فَهُوَ لِلرَّجُلِ، وَمَا كَانَ لِلنِّسَاءِ فَهُوَ لِلْمَرْأَةِ"، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: قَضَاءُ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: لَا أُخْبِرُكَ، قَالَ: مَنْ هُوَ عَلَى عَهْدِ اللهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا أُخْبِرَهُ، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: صَدَقَ وَيْحَكَ، إِنَّا لَمْ نَنْقِمْ عَلَى عَلِيٍّ قَضَاءَهُ، قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ عَلِيًّا كَانَ أَقْضَاهُمْ.
رقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یزید بن ابی مسلم حجاج کے پاس سے نکلے اور کہنے لگے کہ امیر نے ایک فیصلہ کیا ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: امیر نے کہا: جو مرد کا سامان ہے وہ مرد کا ہے اور جو عورتوں کا ہے وہ عورت کا ہے۔ امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ اہل بدر میں سے ایک آدمی کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔
انہوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ مجھ پر اللہ کا عہد و میثاق ہے کہ میں انہیں (حجاج کو) نہیں بتاؤں گا۔ فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے اور اسے بتا دیا تو حجاج کہنے لگا: تیرا برا ہو، اس نے سچ کہا، ہم نے علی رضی اللہ عنہ پر ان کے فیصلوں کی وجہ سے کوئی عیب نہیں لگایا، ہم جانتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ان سب میں سب سے بڑے قاضی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21296]
انہوں نے کہا: وہ کون ہیں؟ مجھ پر اللہ کا عہد و میثاق ہے کہ میں انہیں (حجاج کو) نہیں بتاؤں گا۔ فرمایا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر وہ حجاج کے پاس گئے اور اسے بتا دیا تو حجاج کہنے لگا: تیرا برا ہو، اس نے سچ کہا، ہم نے علی رضی اللہ عنہ پر ان کے فیصلوں کی وجہ سے کوئی عیب نہیں لگایا، ہم جانتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ان سب میں سب سے بڑے قاضی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21296]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
4175. -- باب: أخذ الرجل حقه ممن يمنعه إياه.
-- باب: آدمی کا اپنا حق اس شخص سے وصول کرنا جو اسے اس سے روکتا ہو۔
حدیث نمبر: 21297
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ - يَعْنِي: الطَّرَائِفِيَّ ثنا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ - وَهُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، أَعَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا؟ قَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میں اس کے مال سے پوشیدہ طور پر لے لوں؟ ”اتنا لے لو جتنا آپ کے بچوں اور تجھے دستور کے مطابق کافی ہو۔“ [صحیح۔ متفق علیہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21297]
حدیث نمبر: 21298
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَا يُنْفِقُ عَلَيَّ وَلَا عَلَى وَلَدِي مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ؟ فَقَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ". وَفِي رِوَايَةِ أَنَسِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَإِنَّهُ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوسفیان کنجوس، بخیل آدمی ہے، وہ مجھ پر اور اپنی اولاد پر اتنا خرچ نہیں کرتا جو مجھے یا میری اولاد کو کفایت کر جائے، تو کیا اس کو معلوم نہ ہو تو اس کا مال لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیری اولاد کو دستور کے مطابق کفایت کر جائے۔“
(ب) انس بن عیاض کی روایت میں ہے کہ وہ مجھے نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کر جائے، لیکن مخفی طور پر جو لے لوں اور اس کو معلوم نہ ہو، تو کیا میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ [صحیح۔ تقدم قبلہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21298]
(ب) انس بن عیاض کی روایت میں ہے کہ وہ مجھے نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کفایت کر جائے، لیکن مخفی طور پر جو لے لوں اور اس کو معلوم نہ ہو، تو کیا میرے اوپر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ [صحیح۔ تقدم قبلہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21298]
حدیث نمبر: 21299
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ح وَأَخْبَرَنَا ⦗٤٥٦⦘ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، قَالَ:" وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ"، ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ فِي أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالًا؟ قَالَ:" لَا، بِالْمَعْرُوفِ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ: فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ حَرَجٍ أَنْ أَطْعَمَ مِنَ الَّذِي لَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، بِالْمَعْرُوفِ". وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ، وَشَكَّ ابْنُ بُكَيْرٍ فِي: إِحْيَاءٍ، أَوْ خِبَاءٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی گھرانا ایسا نہ تھا جس کا ذلیل ہونا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے زیادہ محبوب ہو، پھر آج روئے زمین پر کوئی گھرانا ایسا نہیں جس کا عزت پانا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اسی طرح (میرا حال ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ پھر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، اگر اس کے مال میں سے اس کے عیال کو کھلاؤں تو گناہ تو نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی سے کھلاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21299]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21300
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُهَاجِرِ أَنَّهُ سَمِعَ الْمِقْدَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ".
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے کسی مسلمان کے یہاں قیام کیا اور وہ (مہمان) محروم رہا، تو مسلمانوں کا حق ہے کہ اس کی مدد کریں، یہاں تک کہ وہ اپنی مہمانی کے بقدر اس کے مال اور اس کی کھیتی سے لے لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الدعوى والبينات/حدیث: 21300]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف