السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4186. -- باب:: من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه.
-- باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21376
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ ضَبَطَهُ وَفَصَلَ بَيْنَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبِ الْخِلَافِيَّاتِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ، لَيْسَ مِنْ مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُقْرِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: فَقَدْ أَخْبَرَ هَمَّامٌ أَنَّ ذِكْرَ السِّعَايَةِ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَأَلْحَقَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ الَّذِي مَيَّزَهُ هَمَّامٌ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، فَجَعَلَهُ مُتَّصِلًا بِالْحَدِيثِ..
نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام نے کیا ہی خوب روایت کی ہے، انہوں نے اسے ٹھیک ٹھیک یاد رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق کر دیا۔ اور ابو سلیمان خطابی سے جو مجھے پہنچا ہے، وہ حسن بن یحییٰ سے اور وہ ابن المنذر صاحب الخلافیات سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یہ بات قتادہ کے فتویٰ میں سے ہے، حدیث کے متن کا حصہ نہیں۔ پھر انہوں نے علی بن حسن عن المقری عن ہمام کی حدیث ذکر کی، پھر کہا: ہمام نے بتا دیا ہے کہ سعایہ کا ذکر قتادہ کا قول ہے، اور سعید بن ابی عروبہ نے اس حصے کو، جسے ہمام نے قتادہ کا قول قرار دے کر الگ کیا تھا، حدیث کے ساتھ ملا کر متصل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21376]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21377
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، ثنا أَبُو مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَحَادِيثُ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ، لِأَنَّهُ كَتَبَهَا إِمْلَاءً..
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام رحمہ اللہ جو احادیث قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں وہ دوسروں کی احادیث سے زیادہ صحیح ہیں؛ کیونکہ انہوں نے انہیں املاء کے وقت تحریر کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21377]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ كَامِلٍ الْقَاضِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ الرَّقَاشِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِحَدِيثِ قَتَادَةَ، مَا سَمِعَ مِنْهُ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وهِشَامٌ أَحْفَظُ، وَسَعِيدٌ أَكْثَرُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدِ اجْتَمَعَ شُعْبَةُ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ وَعِلْمِهِ بِمَا سَمِعَ مِنْ قَتَادَةَ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وَهِشَامٌ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ، وَهَمَّامٌ مَعَ صِحَّةِ كِتَابِهِ، وَزِيَادَةِ مَعْرِفَتِهِ بِمَا لَيْسَ مِنَ الْحَدِيثِ عَلَى خِلَافِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَنْ وَافَقَهُ فِي إِدْرَاجِ السِّعَايَةِ فِي الْحَدِيثِ. وَفِي هَذَا مَا يُشْكِلُ فِي ثُبُوتِ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ فَضْلَ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ مَا:.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ قتادہ کی حدیث کو سب لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کیا سنا اور کیا نہیں سنا، ہشام زیادہ حافظ ہیں اور سعید سب سے زیادہ روایت کرنے والے ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21378]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21378]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ، كَاتَبَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَعْتَقَ الْآخَرُ، وَأَمْسَكَ الثَّالِثُ؟ قَالَ: ذُكِرَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِهَذَا الَّذِي أَمْسَكَ نَصِيبَهُ عَلَى الْمُعْتَقِ:" إِنْ كَانَ ذَا يَسَارٍ عَنْ حَظِّهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْمَمْلُوكُ فِي الثُّلُثِ مِنْ قِيمَتِهِ، وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتَقِ وَالْمُكَاتَبِ، لِلْمُعْتِقِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْمُكَاتِبِ الثُّلُثُ". وَمِنْهَا أَنْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قِيلَ لِمَنْ حَضَرَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: لَوِ اخْتَلَفَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَيُّهُمَا كَانَ أَثْبَتَ؟ قَالَ: نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قُلْتُ: وَعَلَيْنَا أَنْ نَصِيرَ إِلَى الْأَثْبَتِ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ نَافِعٍ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِإِبْطَالِ الِاسْتِسْعَاءِ..
عقبہ بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا: ایک نے اسے مکاتب کر لیا، دوسرے نے آزاد کر دیا اور تیسرے نے اپنا حصہ باقی رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ انہوں نے کہا: جس نے اپنا حصہ روکا تھا، اس کے حصے کی قیمت آزاد کرنے والے پر ہے اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ مال دار نہیں تو ثلث قیمت کی مزدوری کروا لیں اور ولاء آزاد کیے ہوئے اور مکاتب کے درمیان ہے، آزاد کرنے والے کو دو تہائی اور مکاتب کے لیے ایک تہائی ثلث ہو گی۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21379]
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21379]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: أَصَحُّ الْأَسَانِيدِ كُلِّهَا: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ..
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام اسانید میں سب سے صحیح سند: مالک، عن نافع، عن ابن عمر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21380]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21381
وَأَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الصُّوفِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيَّ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ أَصَحِّ الْأَسَانِيدِ فَقَالَ: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ابو العباس محمد بن اسحاق ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سب سے صحیح سند کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک، عن نافع، عن ابن عمر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21381]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21382
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ مِنْهُمْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسْعَى فِي الثُّلُثَيْنِ.. فَقَدْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ: هُوَ مُرْسَلٌ، وَلَوْ كَانَ مَوْصُولًا كَانَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ لَا يُعْرَفُ وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَارَضَنَا مِنْهُمْ مُعَارِضٌ بِحَدِيثٍ آخَرَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ، فَقَطَعَهُ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: لَا يَذْكُرُ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ يَعْرِفُ الْحَدِيثَ لِضَعْفِهِ..
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت غلام آزاد کر دیا، اس کے پاس اور مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تیسرا حصہ آزاد کر دیا اور حکم دیا کہ ”باقی دو ثلث میں غلام سے محنت لی جائے۔“
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21382]
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21382]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21383
أَخْبَرَنَا بِجَمِيعِ هَذَا الْكَلَامِ وَمَا نَقَلْتُهُ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ كَلَامِهِ: أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ، وَلَا أَدْرِي أِيَّ حَدِيثٍ عُورِضَ بِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنی سند سے) یہ سارا کلام ہمیں بیان کیا، اور (امام بیہقی رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کون سی حدیث اس کے مقابل پیش کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21384
وَلَعَلَّهُ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ⦗٤٧٩⦘ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ أَعْتَقَهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْعَى فِي الدَّيْنِ.. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
ابو یحییٰ اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو اس کا مالک موت کے وقت آزاد کر دے اور اس کا مال بھی نہ ہو، اس پر قرض بھی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض کے لیے محنت کروائی جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے، اور اس کا راوی حجاج بن ارطاۃ ہے جو قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21384]
یہ روایت منقطع ہے، اور اس کا راوی حجاج بن ارطاۃ ہے جو قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21384]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21385
أَوْ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ:" إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّجُلِ فَهُوَ ضَامِنٌ إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى بِالْعَبْدِ صَاحِبُهُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي السِّعَايَةِ، وَهُوَ مُنْكَرٌ بِمَرَّةٍ..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: اگر ایک آدمی غلام آزاد کر دے جو دو کا مشترک تھا تو وہ (آزاد کرنے والا) ضامن ہے، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو پھر ان سے باقی قیمت میں محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21385]
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21385]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف