السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4217. -- باب:: ما يجوز كتابته من المماليك
-- باب: غلاموں میں سے کن کو مکاتب بنانا جائز ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: Q21600
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا} [النور: 33] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَذِنَ أَنْ يُكَاتِبَ مَنْ يَعْقِلُ مَا يَطْلُبُ، لَا مَنْ لَا يَعْقِلُ أَنْ يَبْتَغِيَ الْكِتَابَةَ مِنْ صَبِيٍّ وَلَا مَعْتُوهٍ.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا﴾ ”اور تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت (کا معاہدہ) کرنا چاہیں تو ان سے مکاتبت کر لو اگر تم ان میں بھلائی جانتے ہو۔“ [سورة النور: 33]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی (غلام) سے مکاتبت کی اجازت دی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے، نہ کہ اس سے جو مکاتبت طلب کرنے کی سمجھ ہی نہ رکھتا ہو، جیسے بچہ یا دیوانہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: Q21600]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی (غلام) سے مکاتبت کی اجازت دی ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے، نہ کہ اس سے جو مکاتبت طلب کرنے کی سمجھ ہی نہ رکھتا ہو، جیسے بچہ یا دیوانہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المدبر/حدیث: Q21600]