مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْإِبْعَادِ عِنْدَ قَضَاءِ الْحَاجَةِ
قضائے حاجت کے وقت دور چلے جانا
حدیث نمبر: 993
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْهَبُ لِحَاجَتِهِ إِلَى الْمُغَمَّسِ. قَالَ نَافِعٌ: نَحْوَ مِيلَيْنِ مِنْ مَكَّةَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے مغمس چلے جاتے تھے۔ نافع بیان کرتے ہیں: یہ مکہ سے تقریبا دو میل کے فاصلے پر ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے راویوں میں سے ایک ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 993]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے راویوں میں سے ایک ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «مسند ابي يعلى الموصلي مسند عبد الله بن عمر، 5494 المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه عمرو 5006 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ومما اسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عمرو بن دينار 13417»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 994
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ، فَانْطَلَقَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَبِسَ أَحَدَ خُفَّيْهِ، فَجَاءَ طَائِرٌ أَخْضَرُ، فَأَخَذَ الْخُفَّ الْآخَرَ فَارْتَفَعَ بِهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ، فَخَرَجَ مِنْهُ أَسْوَدُ سَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كَرَامَةٌ أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ، وَمِنْ شَرِّ مَنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قضائے حاجت کرنا ہوتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور تشریف لے جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (اس سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک موزہ پہن لیا اسی دوران ایک سبز پرندہ آیا، اس نے وہ دوسرا موزہ پکڑ لیا اور اسے لے کر اڑ گیا، پھر اس نے وہ موزہ پھینک دیا، تو اس میں سے سیاہ سانپ نما چیز نکلی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کرامت ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے میری عزت افزائی کی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جو پیٹ کے بل چلتی ہے، اور اس کے شر سے بھی، جو دو ٹانگوں پر چلتی ہے، اور اس کے شر سے بھی جو چار ٹانگوں پر چلتی ہے“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 994]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 994]
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 995
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ - وَكَانَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ يَبْعُدُ - فَأَتَيْتُهُ بِأَدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَانْطَلَقَ، فَسَمِعْتُ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا، فَجَاءَ، فَقَالَ:" بِلَالٌ؟" قُلْتُ: بِلَالٌ. قَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" أَصَبْتَ"، فَأَخَذَهُ مِنِّي فَتَوَضَّأَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ عِنْدَكَ خُصُومَةَ رِجَالٍ وَلَغَطًا مَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْ أَلْسِنَتِهِمْ. قَالَ:" اخْتَصَمَ عِنْدِيَ الْجِنُّ الْمُسْلِمُونَ وَالْجِنُّ الْمُشْرِكُونَ، سَأَلُونِي أَنْ أُسْكِنَهُمْ، فَأَسْكَنْتُ الْمُسْلِمِينَ الْجَلْسَ، وَأَسْكَنْتُ الْمُشْرِكِينَ الْغَوْرَ".
قُلْتُ لِكَثِيرٍ: مَا الْجَلْسُ؟ وَمَا الْغَوْرُ؟ قَالَ: الْجَلْسُ: الْقُرَى وَالْجِبَالُ، وَالْغَوْرُ: مَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالْبِحَارِ.
قَالَ كَثِيرٌ: مَا رَأَيْنَا أَحَدًا أُصِيبَ بِالْجَلْسِ إِلَّا سَلِمَ، وَلَا أُصِيبَ أَحَدٌ بِالْغَوْرِ إِلَّا لَمْ يَكَدْ يَسْلَمُ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَقَطْ.
وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.
قُلْتُ لِكَثِيرٍ: مَا الْجَلْسُ؟ وَمَا الْغَوْرُ؟ قَالَ: الْجَلْسُ: الْقُرَى وَالْجِبَالُ، وَالْغَوْرُ: مَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالْبِحَارِ.
قَالَ كَثِيرٌ: مَا رَأَيْنَا أَحَدًا أُصِيبَ بِالْجَلْسِ إِلَّا سَلِمَ، وَلَا أُصِيبَ أَحَدٌ بِالْغَوْرِ إِلَّا لَمْ يَكَدْ يَسْلَمُ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَقَطْ.
وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ قضائے حاجت کے لئے دور تشریف لے جایا کرتے تھے، میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پاس آیا، آپ گئے ہوئے تھے، میں نے کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آواز سنی، میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی، جب آپ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: تم بلال ہو؟ میں نے عرض کی میں بلال ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کہ تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر آپ نے مجھ سے پانی لیا اور وضو کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے پاس کچھ لوگوں کے بحث کرنے اور شور و غوغا کی آوازیں سنی تھیں، میں نے ان کی زبان کسی سے نہیں سنی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان اور مشرکین جنات میرے پاس بحث کر رہے تھے، انہوں نے یہ درخواست کی کہ میں ان کی رہائش کے لیے جگہ کا تعین کر دوں، تو میں نے مسلمانوں کے لیے ”جلس“ کا تعین کر دیا اور مشرکین کے لیے ”غور“ کا تعین کر دیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) کثیر سے دریافت کیا: جلس سے کیا مراد ہے؟ اور ”غور“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”جلس“ سے مراد بستیاں اور پہاڑ ہیں، اور ”غور“ سے مراد پہاڑوں اور سمندروں کے درمیان کی جگہ ہے۔ کثیر کہتے ہیں: ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس بھی شخص کو ”جلس“ میں کوئی نقصان پہنچتا ہے وہ سلامت رہتا ہے، اور جس کو ”غور“ میں نقصان پہنچتا ہے، وہ کم ہی سلامت رہتا ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے، تو دور چلے جاتے تھے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 995]
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) کثیر سے دریافت کیا: جلس سے کیا مراد ہے؟ اور ”غور“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”جلس“ سے مراد بستیاں اور پہاڑ ہیں، اور ”غور“ سے مراد پہاڑوں اور سمندروں کے درمیان کی جگہ ہے۔ کثیر کہتے ہیں: ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جس بھی شخص کو ”جلس“ میں کوئی نقصان پہنچتا ہے وہ سلامت رہتا ہے، اور جس کو ”غور“ میں نقصان پہنچتا ہے، وہ کم ہی سلامت رہتا ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس روایت کا صرف یہ حصہ نقل کیا ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے، تو دور چلے جاتے تھے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 995]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
2. بَابُ الِارْتِيَادِ لِلْبَوْلِ .
پیشاب کرنے کے لیے (اہتمام کے ساتھ) کہیں جانا
حدیث نمبر: 996
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَبَوَّأُ لِبَوْلِهِ كَمَا يَتَبَوَّأُ لِمَنْزِلِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ بْنِ دُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ بْنِ دُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کا یہ معمول تھا، کہ آپ) پیشاب کرنے کے لیے جگہ مخصوص کرتے تھے، جس طرح آپ پڑاؤ کرنے کے لیے جگہ مخصوص کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اسے یحیی بن عبید نے اپنے والد سے نقل کیا ہے، میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 996]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اسے یحیی بن عبید نے اپنے والد سے نقل کیا ہے، میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 996]
تخریج الحدیث: «المعجم الاوسط للطبراني باب الباء من اسمه بشر 3132»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
3. بَابُ مَا نُهِيَ عَنِ التَّخَلِّي فِيهِ .
کس جگہ قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ہے
حدیث نمبر: 997
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" اتَّقَوُا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ". قِيلَ: مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ، أَوْ فِي طَرِيقٍ، أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: لعنت کا باعث بننے والی تین جگہوں سے بچ کے رہو! عرض کی گئی: یا رسول اللہ! لعنت کا باعث بننے والی جگہ سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس سائے میں بیٹھا جاتا ہے، اس جگہ تم میں سے کوئی ایک بیٹھ کر (قضائے حاجت کرے) یا راستے میں کرے یا پانی پھوٹنے کی جگہ پر کرے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے (جو ضعیف ہے) اور ایک ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 997]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے (جو ضعیف ہے) اور ایک ایسا راوی ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب 2635»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 998
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، کہ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 998]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 998]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 999
وَعَنْ بَكْرِ بْنِ مَاعِزٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يُنْقَعُ بَوْلٌ فِي طَسْتٍ فِي الْبَيْتِ ; فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ بَوْلٌ مُنْتَقَعٌ، وَلَا تَبُولَنَّ فِي مُغْتَسَلِكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
بکر بن ماعز بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ”گھر میں کسی برتن میں پیشاب نہ کیا جائے، کیونکہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں، جس میں برتن میں پیشاب پڑا ہو، اور تم اپنے غسل کی جگہ پر ہرگز پیشاب نہ کرنا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 999]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 999]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1000
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَخَلَّى الرَّجُلُ تَحْتَ شَجَرَةٍ مُثْمِرَةٍ، وَنَهَى أَنْ يَتَخَلَّى عَلَى ضَفَّةِ نَهْرٍ جَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي الْكَبِيرِ الشَّطْرُ الْأَخِيرُ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي الْكَبِيرِ الشَّطْرُ الْأَخِيرُ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی پھل دار درخت کے نیچے قضائے حاجت کرے، آپ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ بہتی ہوئی نہر کے کنارے پر قضائے حاجت کی جائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، معجم کبیر میں اس کا آخری نصف حصہ منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1000]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، معجم کبیر میں اس کا آخری نصف حصہ منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «المعجم الأوسط للطبراني باب الالف باب من اسمه إبراهيم 2432»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1001
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعَنَتُهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص مسلمانوں کو اُن کے راستے میں اذیت پہنچائے (یعنی اُن کے راستے میں قضائے حاجت کر دے) تو ایسے شخص پر ان لوگوں کی لعنت واجب ہو جاتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1001]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1001]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1002
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ، يُوشِكُ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ:" اتَّقَوُا اللَّعَّانِينَ" - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ:" اتَّقَوُا اللَّعَّانِينَ" - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہر چیز کے بارے میں ہمیں حکم بیان کر دیا ہے، قریب ہے کہ آپ ہمیں قضائے حاجت کے بارے میں بھی کوئی حکم بیان کر دیں گے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسلمانوں کے کسی راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے، اُس پر، اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور انسانوں، سب کی لعنت ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اُن کے حوالے سے ”صحیح“ میں یہ حدیث منقول ہیں: ”لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو!“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو انصاری ہے، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1002]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اُن کے حوالے سے ”صحیح“ میں یہ حدیث منقول ہیں: ”لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو!“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو انصاری ہے، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1002]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لِشواھدہ