مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ
حبشی غلام رکھنے کا مکروہ ہونا
حدیث نمبر: 7198
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟". قَالَ: بَرْبَرِيٌّ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ عَنِّي". قَالَ: بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آ کر بیٹھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے جواب دیا: میں بر بری ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اُٹھ جاؤ! راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کہنی کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی، جب وہ شخص آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ایمان ان لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے، یحیی بن معین کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا، ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7198]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے، یحیی بن معین کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا، ایک راوی صالح مولی تو امہ ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7198]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (207) اخرجه احمد فى المسند (8789)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7199
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَةً فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نکالے اور پھر اسے (صدقہ لینے والے کے طور پر) صرف کوئی بر بری ملے، تو وہ اس صدقے (کی چیز) کو واپس لے جائے“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7199]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7199]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (7064)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7200
وَعَنْ مَوْلًى لِرَفِيعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى جَارِيَةً بَرْبَرِيَّةً بِمِائَتَيْ دِينَارٍ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ الْبَدْرِيِّ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؛ وَكَانَ بَدْرِيًّا فَوَهَبَ لَهُ الْجَارِيَةَ الْبَرْبَرِيَّةَ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ: هَذِهِ مِنَ الْمَجُوسِ الَّذِينَ نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا.
فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا فَحَدَّثَنِي: أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ عَمًّا لَهُ مَاتَ بِالْمَغْرِبِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ لَهِيعَةَ.
فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلًا فَحَدَّثَنِي: أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ عَمًّا لَهُ مَاتَ بِالْمَغْرِبِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَابْنُ لَهِيعَةَ.
رفیع بن ثابت کے غلام بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے دو سو دینار کے عوض میں ایک بربری کنیز خریدی اور اسے سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل تھا، انہوں نے ان صاحب کو وہ ہر بری کنیز ہبہ کے طور پر دی تھی، جب وہ کنیز ان کے پاس آئی تو انہوں نے فرمایا: یہ ان مجوسیوں میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور مشرکین (کے بارے میں بھی منع کیا ہے)۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے
یہ روایت ایک شخص کو بیان کی، تو اس نے مجھے یہ بتایا کہ یحیی بن سعید نے اسے یہ بات بتائی ہے کہ ان کے ایک چچا کا انتقال مغرب (یعنی مراکش) میں ہوا تھا اور وہ ”بدری“ تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7200]
یہ روایت ایک شخص کو بیان کی، تو اس نے مجھے یہ بتایا کہ یحیی بن سعید نے اسے یہ بات بتائی ہے کہ ان کے ایک چچا کا انتقال مغرب (یعنی مراکش) میں ہوا تھا اور وہ ”بدری“ تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7200]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7201
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" الْخُبْثُ سَبْعُونَ جُزْءًا فَجُزْءٌ فِي الْجِنِّ وَالْأِنْسِ وَتِسْعَةٌ وَسِتُّونَ فِي الْبَرْبَرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خباثت کے ستر اجزاء ہیں، جن میں سے ایک جزء، جنوں اور انسانوں میں پایا جاتا ہے، اور انہتر اجزاء، بر بریوں میں پائے جاتے ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7201]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7201]
تخریج الحدیث: «الطبراني فى المعجم الكبير (332/20)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7202
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا:" قَسَّمَ اللَّهُ الْخُبْثَ عَلَى سَبْعِينَ جُزْءًا فَجَعَلَ فِي الْبَرْبَرِ تِسْعَةً وَسِتِّينَ جُزْءًا وَلِلنَّاسِ جُزْءًا وَاحِدًا".
وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِيهِ أَيْضًا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ ؛ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا سِوَى حَدِيثِ:" إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ".
وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِيهِ أَيْضًا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ ؛ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا سِوَى حَدِيثِ:" إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ".
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے خباثت کو ستر اجزاء میں تقسیم کیا، تو بربر میں انہتر حصے رکھے اور باقی تمام لوگوں میں ایک حصہ رکھا“۔ پہلی روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن شعیب ہے ابن عدی کہتے ہیں: میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی، صرف یہ حدیث ہے: ”جب کسی قوم کا معزز فرد تمہارے پاس آئے، تو تم اس کی عزت افزائی کرو“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7202]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7203
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْخُبْثُ سَبْعُونَ جُزْءًا لِلْبَرْبَرِ تِسْعَةٌ وَسِتُّونَ جُزْءًا وَلِلْجِنِّ وَالْأِنْسِ جُزْءٌ وَاحِدٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خباثت کے ستر اجزاء ہیں، بربر کے لئے انہتر اجزاء ہیں، اور (تمام) جنوں اور انسانوں کے لئے ایک جزء ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبدالحکم ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7203]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبدالحکم ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (299/17)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7204
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرُوا الرَّقِيقَ وَشَارِكُوهُمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ وَإِيَّاكُمْ وَالزِّنْجِ، فَإِنَّهُمْ قَصِيرَةٌ أَعْمَارُهُمْ قَلِيلَةٌ أَرْزَاقُهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”غلام خریدو! اور ان کے رزق میں انہیں شراکت دار بناؤ، اور زنگیوں سے بچو! کیونکہ اُن کی عمریں تھوڑی ہوتی ہیں اور ان کا رزق کم ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7204]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7204]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10680)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7205
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ذُكِرَ السُّودَانُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" دَعُونِي مِنَ السُّودَانِ، فَإِنَّ الْأَسْوَدَ لِبَطْنِهِ وَفَرْجِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغلَابيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا رَوَى عَنْ ثِقَةٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغلَابيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا رَوَى عَنْ ثِقَةٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیاہ فام افراد کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: سیاہ فام لوگوں کے حوالے سے مجھے رہنے دو! کیونکہ سیاہ فام شخص صرف اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہ کا ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں: جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت کرے، تو اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7205]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں: جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت کرے، تو اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7205]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11463)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7206
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنَّمَا الْأَسْوَدُ لِفَرْجِهِ وَبَطْنِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”سیاہ فام شخص، اپنی شرمگاہ، یا اپنے پیٹ کا ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن محمد ہے، جس کا تعلق آل زبیر سے ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7206]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن محمد ہے، جس کا تعلق آل زبیر سے ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7206]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (89/25)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7207
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُ حَبَشَ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَنْ يَأْتُوكَ إِلَّا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ أَنْ تَرُدَّهُمْ. قَالَ:" لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ. إِذَا جَاعُوا سَرَقُوا، وَإِنْ شَبِعُوا زَنَوْا، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ. إِنْ شَبِعُوا زَنَوْا، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ".
وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَعَوْسَجَةُ الْمَكِّيُّ فِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا خَيْرَ فِي الْحَبَشِ. إِنْ شَبِعُوا زَنَوْا، وَإِنَّ فِيهِمْ لِخَلَّتَيْنِ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَبَأْسٌ عِنْدَ الْبَأْسِ".
وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ وَعَوْسَجَةُ الْمَكِّيُّ فِيهِ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ! بنو مغیرہ کے حبشیوں کے لئے کیا رکاوٹ ہے؟ کہ وہ آپ کے پاس آئیں، صرف یہ وجہ ہے کہ آپ انہیں واپس کر دیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے، جب وہ بھوکے ہوں، تو چوری کر لیتے ہیں اور جب سیر ہوں تو زنا کرتے ہیں، ان کے اندر دو اچھی چیزیں ہیں کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت بہادری۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے، اگر وہ سیر ہوں، تو زنا کرتے ہیں، لیکن ان میں دو خوبیاں ہیں، کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت مضبوطی“۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں، عوسجہ مکی نامی راوی کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7207]
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حبشیوں میں بھلائی نہیں ہے، اگر وہ سیر ہوں، تو زنا کرتے ہیں، لیکن ان میں دو خوبیاں ہیں، کھانا کھلانا اور لڑائی کے وقت مضبوطی“۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں، عوسجہ مکی نامی راوی کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العتق/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2836) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12213)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن