🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. بَابُ خَلْقِ الدَّاءِ وَالدَّوَاءِ
دواء اور بیماری کی تخلیق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8275
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَيْثُ خَلَقَ الدَّاءَ خَلَقَ الدَّوَاءَ، فَتَدَاوُوا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عِمْرَانَ الْعَمِّيَّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک جب اللہ تعالیٰ نے بیماری کو تخلیق کیا، تو اس نے دواء کو بھی تخلیق کیا، تو تم لوگ دواء استعمال کرو۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران عمی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8275]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (156/3)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. كِتَابُ اللِّبَاسِ . 22 - 1 - (بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا) . 8491 - عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " . فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَانْتَهَيْنَا إِلَى السُّوقِ الْكَبِيرِ فَتَوَسَّمَ شَيْخًا مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا شَيْخُ أَحْسِنْ بَيْعَتِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، وَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ .
دواء اور بیماری کی تخلیق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8276
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، خَلَا قَوْلَهُ:" عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس کو جان لیتا ہے، وہ جان لیتا ہے، اور جو شخص نا واقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں جو شخص اس کو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8276]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5183) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10331) اخرجه احمد فى المسند (357,3922,4236,4267,4334)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. كِتَابُ الْخِلَافَةِ . 23 - 1 - 1 - بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ . 8907 عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
دواء اور بیماری کی تخلیق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8277
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِهِ جُرْحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" ادْعُ لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ". قَالَ: فَدَعُوهُ فَجَاءَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا؟ فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ! وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک انصاری شخص بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے گئے جسے زخم لاحق تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لئے بنو فلاں کے طبیب کو بلا کے لاؤ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس کو بلایا وہ شخص آیا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا دواء کسی کام آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے شفاء بھی بنائی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8277]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (371/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8278
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً، عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَ ذَلِكَ مَنْ جَهِلَهُ، إِلَّا السَّامَ".
قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ: صَدُوقٌ يَهِمُ. وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس کو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے، اور جو شخص اس سے ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے، البتہ سام کا معاملہ مختلف ہے لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! سام سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موت۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن شیبہ ہے ذکریا ساجی کہتے ہیں: یہ صدوق ہے، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8278]
تخریج الحدیث: «(93) اخرجه البزار فى المسند (3016) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1587)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8279
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ دَاءٍ إِلَّا وَأَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ، فَإِنَّهَا تَرِمُّ مِنْ كُلِّ الشَّجَرِ".
قُلْتُ: رَوَى مِنْهُ ابْنُ مَاجَهْ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً" فَقَطْ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ: مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرُ بْنُ سَيَّارٍ، وَهُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دواء بھی نازل کی ہے تم پر لازم ہے کہ گائے کا دودھ استعمال کرو کیونکہ گائے ہر قسم کے درخت (کے پتے وغیرہ) کھا لیتی ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے: اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر بن سیار ہے، اور وہ صدوق ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8279]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (3017)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8280
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَدَاوُوا، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَخْلُقْ دَاءً إِلَّا خَلَقَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے لوگو! دواء استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری تخلیق کی ہے اس کے لئے شفاء بھی پیدا کی ہے، البتہ سام کا معاملہ مختلف ہے، اور سام سے مراد موت ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو حضرمی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8280]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11337)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8281
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَنْفَعُ الدَّوَاءُ مِنَ الْقَدَرِ؟ فَقَالَ:
" الدَّوَاءُ مِنَ الْقَدَرِ، وَقَدْ يَنْفَعُ بِإِذْنِ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا دواء تقدیر کے لکھے ہوئے کے حوالے سے فائدہ دیتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دواء بھی تقدیر کا حصہ ہے، اور یہ اللہ کے اذن کے تحت شفاء دیتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8281]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12784)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8282
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُقًى يُسْتَرْقَى بِهَا، وَأَدْوِيَةٌ يُتَدَاوَى بِهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنَ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا؟ قَالَ:
" هِيَ قَدَرُ اللَّهِ تَعَالَى".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو دم کیا جاتا ہے یا دوائیں استعال کی جاتیں ہیں، تو کیا یہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ تقدیر میں سے کسی چیز کو لوٹا دیتی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہی اللہ تعالی کی مقرر کردہ تقدیر ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8282]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3090)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8283
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى يُسْتَرْقَى بِهَا، وَأَدْوِيَةً يُتَدَاوَى بِهَا، تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ؟ قَالَ:" هِيَ قَدَرُ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْحَارِثُ: لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خُزَامَةَ.
حارث بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ جو دم کیا جاتا ہے یا جو دوائیں استعمال کی جاتیں، تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو لوٹا دیتی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اور حارث نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخزامہ کا معاملہ مختلف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8283]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5468)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8284
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَحَ بَابًا مِنَ الْمَغْرِبِ مَسَافَتُهُ سَبْعُونَ خَرِيفًا لِلتَّوْبَةِ، لَنْ يُغْلِقَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَمَا غَدَا رَجُلٌ يَلْتَمِسُ عِلْمًا إِلَّا أَفْرَشَتْهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا ؛ رِضَاءً بِمَا يَعْمَلُ".
قَالَتِ الْعَرَبُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ يُعْطِ اللَّهُ عَبْدًا خَلَّةً وَاحِدَةً خَيْرٌ؟ قَالَ:" حُسْنُ الْخُلُقِ". ثُمَّ قَالُوا لَهُ: أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ:" هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الدَّاءَ أَنْزَلَ الدَّوَاءَ، وَلَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَمَا هُوَ؟ قَالَ:" الْهَرَمُ".
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ التَّدَاوِي وَحُسْنُ الْخُلُقِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مغرب کی سمت میں ایک دروازہ کھولا ہے جس کی (چوڑائی) ستر برس کی مسافت جتنی ہے یہ توبہ کے لئے مخصوص ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا، جو شخص علم کے حصول کے لئے لکھتا ہے، تو فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں، وہ اس عمل کے لئے ایسا کرتے ہیں، اس موقع پر عربوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کو کوئی ایسی عادت عطا نہیں کی ہے، جو زیادہ بہتر ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اچھے اخلاق ہیں، پھر لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم دوا استعمال کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جس ذات نے بیماری کو نازل کیا ہے، اس نے دوا کو بھی نازل کیا ہے، اس نے جو بھی بیماری نازل کی ہے، اس کے لئے دوا بھی نازل کی ہے، البتہ ایک بیماری کا معاملہ مختلف ہے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ (علامہ بیٹی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے جس میں دوا استعمال کرنے اور اچھے اخلاق کا ذکر ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطب/حدیث: 8284]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7395)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں