🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. بَابُ عُلُوِّ الْإِسْلَامِ عَلَى كُلِّ دِينٍ خَالَفَهُ وَظُهُورِهِ عَلَيْهِ
اسلام کا اپنے مخالف ہر دین پر بلند ہونا اور اس پر غالب آنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9805
عَنْ زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ قَالَ: وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ سِلْمٌ أَنْتَ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ.
أَمَّا بَعْدُ: فَلْيُوضَعَنَّ كُلُّ دِينٍ دَانَ بِهِ النَّاسُ إِلَّا الْإِسْلَامَ، فَاعْلَمْ ذَلِكَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدنا زیاد بن جہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک مکتوب آیا جس میں یہ تحریر تھا: اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زیاد بن جمہور کے نام ہے تم سلامت رہو تم پر سلامتی نازل ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے۔ اما بعد! میں تمہیں اللہ اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں۔ اما بعد! لوگوں نے جس بھی دین کو اختیار کیا ہوا ہے اسلام کے علاوہ ہر ایک دین اٹھا لیا گیا ہے تم یہ بات جان لو۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9805]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (422) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (5297)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9806
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" يَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الرُّومِ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى فَارِسَ، وَيَظْهَرُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: مسلمان روم پر غالب آ جائیں گے مسلمان فارس پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ عرب پر غالب آ جائیں گے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9806]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1847)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9807
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لِيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ".
وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ يَقُولُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِيَ، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْيَةُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (کچے گھروں کی) ہر بستی اور (پکے گھروں کے) ہر میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت دار کو عزت نصیب ہو گی ذلیل کو ذلت ملے گی عزت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے گا، اور ذلت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ بات اپنے اہل خانہ میں پا لی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا اسے بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوئی اور جو ان میں سے کافر رہ گیا اسے ذلت کمتری اور جزیہ ملا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9807]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1280) اخرجه احمد فى المسند (103/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9808
وَعَنْ مِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ يُعَزُّ عَزِيزٌ أَوْ يُذَلُّ ذَلِيلٌ، إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهِمْ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهُمْ". إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِمَّا يُعِزُّهُمْ فَيَهْدِيهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيُؤَدُّونَ الْجِزْيَةَ". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا، جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کر دے عزت دار کو عزت ملے گی ذلیل کو ذلت ملے گی جو لوگ اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اہل اسلام میں کر دے گا، اور جو شخص اس کی تحقیر کریں گے وہ حقارت والے دین کو اختیار کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی طرف رہنمائی فرمائے گا، اور جو اس کی تحقیر کریں گے وہ جزیہ ادا کریں گے۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9808]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (254/20) اخرجه احمد فى المسند (4/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ تَبْلِيغِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ
نبی اکرم ﷺ کو جس چیز کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم ﷺ کا اس کی تبلیغ کرنا اور اس حوالے سے صبر سے کام لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9809
عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: يَا أَبَا طَالِبٍ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَأْتِينَا فِي أَفْنِيَتِنَا، وَفِي نَادِينَا، فَيُسْمِعُنَا مَا يُؤْذِينَا بِهِ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّهُ عَنَّا فَافْعَلْ. فَقَالَ لِي: يَا عَقِيلُ، الْتَمَسْ لِي ابْنَ عَمِّكَ، فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ مِنْ أَكْبَاسِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعِي يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ، فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَالِبٍ: يَا ابْنَ أَخِي، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنْ كُنْتَ لِي لَمُطَاعًا، وَقَدْ جَاءَ قَوْمُكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْتِيهِمْ فِي كَعْبَتِهِمْ، وَفِي نَادِيهِمْ تُسْمِعُهُمْ مَا يُؤْذِيهِمْ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُمْ. فَحَلَّقَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ مَا بُعِثْتُ بِهِ مِنْ أَنْ يُشْعِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ هَذِهِ الشَّمْسِ شُعْلَةً مِنْ نَارٍ".
فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: وَاللَّهِ مَا كَذَبَ ابْنُ أَخِي قَطُّ، ارْجِعُوا رَاشِدِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مَنْ جَلْسٍ، مَكَانَ: كِبْسٍ. وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ يَسِيرٍ مِنْ أَوَّلِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش جناب ابوطالب کے پاس آئے اور بولے: اے جناب ابوطالب آپ کے بھتیجے ہمارے گھروں میں اور ہماری بیٹھکوں میں آتے ہیں اور ہمیں وہ بات سناتے ہیں، جو ہمیں تکلیف دیتی ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو آپ انہیں ہمارے پاس آنے سے روک دیں، تو جناب ابوطالب نے مجھ سے فرمایا: اے عقیل! میرے بھتیجے کو ڈھونڈ کے لاؤ! میں جناب ابوطالب کی جگہ سے نکلا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ سایہ تلاش کر کے اس میں چل رہے تھے لیکن وہ نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ جناب ابوطالب کے پاس آ گئے تو جناب ابوطالب نے آپ سے کہا: کہ اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق تو تم میرے مطاع ہو، تمہاری قوم کے لوگ آئے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ تم ان کے گھروں میں اور ان کی بیٹھکوں میں ان کے پاس جاتے ہو اور انہیں وہ چیز سناتے ہو جو انہیں تکلیف دیتی ہے، تو اگر تم یہ مناسب سمجھو تو اس چیز سے باز آ جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے جس چیز کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے میں اسے ترک کرنے کی اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلا لے جناب ابوطالب نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: تم لوگ ہدایت پانے والے ہو کر واپس جاؤ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کیا ہے اسے امام ابویعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9809]
تخریج الحدیث: «اخرجم ابو يعلى فى المسند (6804) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (191/17)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9810
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا زَالَتْ قُرَيْشٌ كَافَّةً عَنِّي حَتَّى مَاتَ أَبُو طَالِبٍ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریش اس وقت تک مجھ سے رکے رہے جب تک جناب ابوطالب کا انتقال نہیں ہو گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9810]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (598)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9811
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ تَحَيَّنُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا أَسْرَعَ مَا وَجَدْتُ فَقْدَكَ يَا عَمِّ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَخْصٍ لَقِيَ ابْنَ سَعِيدٍ الرَّازِيَّ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ، وَعِيسَى بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے چچا! مجھے آپ کی غیر موجودگی کتنی جلدی محسوس ہو رہی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے، جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے: یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9811]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9812
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ؟. قَالَ: حَضَرْتُهُمْ، وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّهَ أَحْلَامَنَا، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ. أَوْ كَمَا قَالُوا.
قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ، فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ:" أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ". فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ، لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنَ مَا يَجِدُ مِنَ الْقَوْلِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا. فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، وَأَنَا مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ، وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَأَطَافُوا بِهِ يَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا؟ لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" نَعَمْ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ". قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ دُونَهُ، يَقُولُ: وَهُوَ يَبْكِي: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقُ بِالسَّمَاعِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عروہ بن زبیر نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ان سے کہا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دشمنی کا رویہ رکھا تھا آپ نے جو دیکھا ہے اس میں سب سے زیادہ شدید کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان لوگوں کے پاس موجود تھا ان کے معززین ایک دن حطیم میں موجود تھے۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے انہوں نے یہ کہا: میں اس نوجوان سے زیادہ اور کسی پر صبر نہیں کرنا پڑا اس نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف بنا لیا ہے ہمارے آبا ؤ اجداد کو برا کہتا ہے ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر چکا ہے ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے ہم نے اس کے حوالے سے ایک بڑی چیز پر صبر سے کام لیا ہے یا جس طرح بھی انہوں نے کہا:، ابھی وہ لوگ وہاں موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے آپ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے رکن کا استلام کیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے جب آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازیں کسیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت کا احساس ہوا پھر آپ تشریف لے گئے لیکن جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر اس طرح کیا مجھے آپ کے چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہو گا لیکن آپ تشریف لے گئے جب آپ تیسری مرتبہ ان کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے پھر ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قریش کے گروہ کیا تم لوگ یہ بات سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح ہونے کا حکم لے کے آیا ہوں (یعنی تم لوگ مار دیے جاؤ گے) لوگوں نے آپ کی بات سنی تو یہ عالم ہوا کہ ہر شخص کے سر پر گویا پرندہ بیٹھا ہوا ہے، یہاں تک کہ جو شخص پہلے آپ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا اس نے بھی اچھے طریقے سے آپ کے ساتھ بات چیت کی اور یہ کہا: کہ اے ابوالقاسم آپ تشریف لے جائیں آپ آرام سے تشریف لے جائیں۔ اللہ کی قسم! آپ تو اتنی سختی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا وہ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے تو میں ان لوگوں کے ساتھ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے، جو تمہاری طرف سے گیا اور جو ان کی طرف سے تم تک آیا؟ یہاں تک کہ انہوں نے تمہارے سامنے وہ چیز ظاہر کی جو تمہیں ناپسند ہے، تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ اسی عالم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے تشریف لائے وہ اکٹھے اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے، اور آپ کے ارد گرد ہو کر یہ کہنے لگے آپ نے ہی یہ یہ بات کہی ہے انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے، جو ان کے معبودوں اور ان کے دین پر اعتراض کے حوالے سے ان تک پہنچی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ لیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ لڑتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے قریش کی طرف سے یہ سب سے زیادہ سختی تھی جو میں نے دیکھی تھی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: صحیح میں اس کا ایک حصہ منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9812]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (7306)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9813
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمًا ائْتَمَرُوا بِهِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ ابْنُ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ، وَظَنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ وَرَائِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ مَرَّ بِهِمْ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكُمْ إِلَّا بِالذَّبْحِ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى حَلْقِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: يَا مُحَمَّدُ مَا كُنْتَ جَهُولًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَنْتَ مِنْهُمْ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے قریش کو کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ اس دن کا معاملہ مختلف ہے جب انہوں نے اس بارے میں باہمی طور پر مشورہ کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے عقبہ بن ابومعیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا اس نے اپنی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے، وہ لوگ چیخیں مارنے لگے، وہ یہ سمجھے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے پیچھے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیا، وہ یہ کہہ رہے تھے: کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ان کے پاس سے گزرے وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے تم لوگوں کی طرف صرف ذبح کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ابوجہل نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: اے محمد! آپ تو سختی کرنے والے نہیں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان لوگوں میں سے ایک ہو (جنہیں ذبح کیا جائے گا)۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9813]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7339)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9814
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ; أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَتْ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ! فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا، وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ فَلَهُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، فَجَعْلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ تَدْرُوسُ جَدُّ أَبِي الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے سب سے زیادہ شدید چیز کیا دیکھی جو مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہو؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا: مشرکین مسجد (یعنی خانہ کعبہ کے پاس) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ ابھی وہ اسی عالم میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران تشریف لے آئے وہ سب لوگ اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے کسی نے بلند آواز میں آ کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے نکلے ان کی چار لٹیں تھیں، اور وہ یہ کہہ رہے تھے: تم لوگوں کا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے: میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آیا ہے، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر لیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، تو ان کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بالوں میں سے جس کو بھی مس کرتے تھے۔ وہ ساتھ آ جاتا تھا، اور وہ یہ کہہ رہے تھے: اے جلال اور اکرام والے! تو برکت والا ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے، جو ابوزبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 9814]
تخریج الحدیث: «اخر جدا بو يعلى فى المسند (52)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں