🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. بَابُ السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
مسلمان کی پردہ پوشی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10472
عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا، فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَعْنَى فِي الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ.
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہے، جو شخص کسی پریشان حال کو نجات دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی دن کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مشغول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی کرتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے علم کے حصول کے لئے سفر کرنے سے متعلق باب میں اس مضمون کی کچھ روایات پہلے گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10472]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (104/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10473
وَعَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ السَّكُونِيِّ:
أَنَّ آتِيًا أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ، فَأَنْهِ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ؟ فَقَالَ: لَقَدْ قَتَلْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ارطاۃ بن منذر سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے یہ بات مذکور ہے: ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا: میرا پڑوسی شراب پیتا ہے، اور برے کام کرتا ہے، تو میں اس کا معاملہ سلطان کے سامنے پیش کروں۔ سیدنا ارطاة رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ننانوے مشرکین کو قتل کیا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ جب میں نے ان جیسے لوگوں کو قتل کیا ہوا ہو، تو اس کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10473]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (998)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10474
وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ أَرْطَاةَ السُّكُونِيِّ:
أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لَهُ: إِنَّ لَنَا جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ، فَأَرْفَعُ أَمْرَهُ إِلَى السُّلْطَانِ؟ قَالَ: لَقَدْ قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أُحِبُّ أَنِّي قَتَلْتُ مِثْلَهُمْ، وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا لقيط بن ارطاۃ سکونی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکور ہے: ایک شخص نے ان سے کہا: ہمارا ایک پڑوسی شراب پیتا ہے، اور برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے کیا میں اس کا معاملہ حکمران کے سامنے پیش کروں تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رہتے ہوئے) ننانوے لوگوں کو (اللہ کی راہ میں) قتل کیا ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اتنے لوگوں کو قتل کرنے کے باوجود میں کسی مسلمان کی پردہ دری کروں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10474]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (217/19)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10475
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:
قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ،، يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَخْلُصِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ" - حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي خُدُورِهِنَّ -" لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَبَّعُوا عَوْرَاتِهِمْ ; فَإِنَّهُ مِنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ، تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَخْرِقَهَا عَلَيْهِ فِي بَطْنِ بَيْتِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اے ان لوگوں کے گروہ! جو اپنی زبان کے ذریعے ایمان لائے ہیں لیکن ایمان ان کے دل تک نہیں پہنچا راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے میں موجود خواتین تک آواز پہنچائی (آپ نے فرمایا:) تم مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ اور ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دے گا، یہاں تک کہ اسے یوں ظاہر کرے گا کہ وہ شخص اپنے گھر میں موجود ہو گا (اور پھر بھی وہ چیز ظاہر ہو جائے گی)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10475]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10476
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:
" لَا يَرَى مُؤْمِنٌ مِنْ أَخِيهِ عَوْرَةً، فَيَسْتُرُهَا عَلَيْهِ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ".
وَفِي رِوَايَةٍ:" إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مومن اپنے بھائی کی قابل پردہ کوئی چیز دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اللہ تعالیٰ اسے اس وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، اور ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10476]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1118) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1503)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10477
وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:
" مَنْ سَتَرَ حُرْمَةً مُؤْمِنَةً سَتَرَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مومن کی حرمت کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے بچائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10477]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (68)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10478
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:
" مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً، فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ أَخَفُّ ضَعْفًا مِنْ طَلْحَةَ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس نے کسی کی پردہ پوشی کی تو گویا اس نے زندہ گاڑی جانے والی بچی کو اس کی قبر میں زندگی دی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے جس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے، اور یہ طلحہ سے کم ضعیف ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10478]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10479
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:
" مَنْ رَأَى مِنْ أَخِيهِ رَتْقَةً فِي دِينِهِ فَسَتَرَهُ عَلَيْهَا، كَانَتْ لَهُ حَسَنَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو صَالِحٍ الْخُوزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی طرف سے اس کے دین میں کوئی خامی دیکھے اور پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو یہ چیز اس کے لئے قیامت کے دن نیکی ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصالح خوزی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10479]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10480
وَعَنْ شِهَابٍ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:
" مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَيِّتًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ عَنْ أَبِي سِنَانٍ الْمَدَنِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا شہاب رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: - جو شخص کسی مومن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو گویا وہ مردہ کو زندگی دیتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے مسلم بن ابوذیال کے حوالے سے ابوسنان مدنی سے نقل کی ہے میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10480]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7231)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10481
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهُمْ: مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُسْتَفْتِيًا فَلْيَجْلِسْ عَلَى ثَفِيَّةٍ، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ مُخَاصِمًا فَلْيُكْرِمْ خَصْمَهُ حَتَّى نَقْضِيَ بَيْنَهُمَا، وَمَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يُطْلِعُنَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهَا اللَّهُ، فَلْيَسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، وَلْيَسْتُرْهَا إِلَى مَنْ يَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ مَغْفِرَتَهَا، أُقِيمُ عَلَيْهِ حَدًّا وَبِأَبْعَارِهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
مسروق بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گھر سے نکل کر باہر موجود افراد کے پاس تشریف لائے انہوں نے ان لوگوں سے فرمایا: تم میں سے جو شخص مسئلہ معلوم کرنے کے لئے آیا ہے وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائے تم میں سے جو شخص کوئی مقدمہ لے کر آیا ہے، تو وہ اپنے مقابل فریق کو بھی لے کر آئے تاکہ ہم ان کے درمیان فیصلہ دیں اور تم میں سے جو شخص ہمیں کسی شخص کے پوشیدہ معاملہ کے بارے میں اطلاع دینے آیا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی ہوئی ہو، تو اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے پردے کو پردے میں رکھنا چاہیے اور اس پردے کی چیز کو اس ذات کے سپرد کرنا چاہیے جو اس کو مغفرت کرنے کی مالک ہے کیونکہ میں اس کی مغفرت کرنے کا مالک نہیں ہوں، میں تو اس شخص پر حد جاری کروں گا، اور سزا دوں گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الحدود والديات/حدیث: 10481]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8906)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں