مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ
فتنوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 11957
عَنْ عِصْمَةَ بْنِ قَيْسٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] - أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَشْرِقِ، قِيلَ لَهُ: فَكَيْفَ فِتْنَةُ الْمَغْرِبِ؟ قَالَ:" تِلْكَ أَعْظَمُ وَأَعْظَمُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
سیدنا عصمہ بن قیس سلمی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ مشرق کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: مغرب کے فتنے کا کیا عالم ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زیادہ بڑا ہو گا، زیادہ بڑا ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11957]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11957]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
2. 33 - كِتَابُ الْأَدَبِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 33 - 1 - بَابُ تَوْقِيرِ الْكَبِيرِ وَرَحْمَةِ الصَّغِيرِ . 12610 - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
فتنوں سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 11958
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صِلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَغْرِبِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران مغرب کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11958]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11959
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا يَشْتَمِلُ عَلَى فِتْنَةٍ، وَلَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِهَا، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.
قاسم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! میں فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کیونکہ تم میں سے ہر ایک شخص کو فتنے کا تو سامنا کرنا ہی ہو گا، جس شخص نے پناہ مانگنی ہو، وہ فتنے کی گمراہیوں سے پناہ مانگے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس روایت کی سند منقطع ہے، لیکن اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11959]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس روایت کی سند منقطع ہے، لیکن اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11959]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8931)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
3. بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَغَيْرِ ذَلِكَ .
ستّرویں سال اور دیگر امور سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 11960
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ، وَمِنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ". وَقَالَ:" لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ بْنِ لُكَعَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَامِلِ بْنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كَامِلِ بْنِ الْعَلَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سترویں سال اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگو!“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: ”دنیا اُس وقت تک ختم نہیں ہو گی، جب تک یہ احمق ابن احمق کو نہیں ملے گی۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ کامل بن العلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11960]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ کامل بن العلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11960]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (326/2)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
4. بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ يَوْمِ السُّوءِ وَنَحْوِهِ .
برے دن اور اُن جیسے دیگر امور سے پناہ مانگنا
حدیث نمبر: 11961
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْمِ السَّوْءِ، وَمِنْ لَيْلَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ سَاعَةِ السَّوْءِ، وَمِنْ صَاحِبِ السَّوْءِ، وَمِنْ جَارِ السَّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں برے دن سے اور بری رات سے اور بری گھڑی سے اور برائی والے فرد سے، اور اقامت کے مقام میں برے پڑوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11961]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11961]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (294/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
5. بَابُ نُقْصَانِ الْخَيْرِ .
بھلائی میں کمی ہونا
حدیث نمبر: 11962
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ يَنْقُصُ إِلَّا الشَّرَّ فَإِنَّهُ يُزَادُ فِيهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر چیز کم ہو جاتی ہے، صرف برائی کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11962]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے اور ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11962]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (441/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
6. بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُخَاصَمَةِ النَّاسِ .
لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 11963
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِيَّاكَ وَمُشَارَّةَ النَّاسِ، فَإِنَّهَا تَدْفِنُ الْعِزَّةَ، وَتُظْهِرُ الْعَوْرَةَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنَ هُدَيْمٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ بْنَ هُدَيْمٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے سے بچو! کیونکہ یہ چیز عزت کو دفن کر دیتی ہے اور پوشیدہ معاملات کو ظاہر کر دیتی ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن حسن بن ہدیم کا معاملہ مختلف ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11963]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ امام طبرانی کے استاد محمد بن حسن بن ہدیم کا معاملہ مختلف ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11963]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1055)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
7. بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ .
ارشاد باری تعالیٰ ہے:”یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو“۔
حدیث نمبر: 11964
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ - فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِكُمْ هَذَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَشَارَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ. فَقُلْتُ: دَعَا" بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، وَأَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ". فَأُعْطِيهِمَا. وَدَعَا" بِأَنْ لَا يُجْعَلَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ". فَمُنِعَهَا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس بنو معاویہ کے علاقے میں آئے، راوی کہتے ہیں: یہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز ادا کی تھی؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! پھر میں نے مسجد کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جو دعا مانگی تھی، اس میں وہ تین چیزیں کیا تھیں؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: تم مجھے ان کے بارے میں بتاؤ! میں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے، اور انہیں قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے، تو یہ دونوں چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کر دی گئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں، تو یہ چیز قبول نہیں ہوئی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا: ہے، اور قیامت کے دن تک مسلسل (مسلمانوں کے درمیان باہمی طور پر) قتل و غارت گری ہوتی رہے گی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11964]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11964]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1781) اخرجه احمد فى المسند (445/5)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11965
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا [ وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ] ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَبْيَضَ وَالْأَحْمَرَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيُهْلِكَهُمْ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ. فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً [ فَإِنَّهُ ] لَا يُرَدُّ، وَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا [ مِمْنَ سِوَاهُمْ ] فَيُهْلِكُوهُمْ بِعَامَّةٍ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَا يُرْفَعُ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا، اور زمین کا جتنا حصہ میرے لئے لپیٹا گیا تھا، میری اُمت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی، مجھے سفید اور سرخ دو قسم کے خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی: وہ میری امت کو عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے، اور وہ ان لوگوں پر ان کے دشمن کو یوں مسلط نہ کرے کہ وہ لوگ عمومی طور پر ہلاکت کا شکار ہو جائیں، اور وہ انہیں باہمی اختلاف کا شکار نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں، تو پروردگار نے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ دے دوں، تو اُسے ختم نہیں کیا جا سکتا، میں نے تمہیں تمہاری امت کے حوالے سے یہ چیز دیدی ہے کہ میں عمومی قحط کے ذریعے انہیں ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا کہ وہ دشمن انہیں عمومی طور پر ہلاک کر دے، البتہ وہ لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی، تو وہ قیامت کے دن تک اُن سے نہیں اُٹھائی جائے گی۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11965]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11965]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (3291) اخرجه احمد فى المسند (123/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11966
وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْبَعًا، فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً. سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”میں نے اپنے پروردگار سے چار چیزیں مانگی تھیں، اس نے تین چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک عطا نہیں کی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ میری امت گمراہی پر اکٹھی نہ ہو، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ مجھے (یعنی میری امت کو) قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے، جس طرح اس نے ان سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ ان لوگوں پر (یعنی میری امت پر) ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی، اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ چیز مانگی کہ وہ انہیں گروہوں میں یوں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا نہیں کی۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11966]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الفتن - أعاذنا الله منها/حدیث: 11966]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (3964)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف