🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1. بَابٌ فِي كَرَامَةِ أَصْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نبی اکرم ﷺ کی اصل (یعنی آپ کے آباؤ اجداد) کے معزز ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13819
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ) قَالَ: مِنْ صُلْبِ نَبِيٍّ إِلَى نَبِيٍّ حَتَّى صِرْتَ نَبِيًّا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) اور سجدہ کرنے والوں میں تمہارا منتقل ہونا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی پشت سے، دوسرے نبی کی طرف منتقل ہوتے رہے، یہاں تک کہ آپ نبی بن گئے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13819]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2362)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13820
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إِلَى أَنْ وَلَدَنِي أَبِي وَأُمِّي". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، صَحَّحَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میری پیدائش نکاح کے نتیجے میں ہوئی ہے، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک میں کسی زنا کے نتیجے میں (اگلی پشت میں منتقل) نہیں ہوا، یہاں تک کہ میرے ماں باپ کے ہاں میری پیدائش ہو گئی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہے، امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی نقل کردہ حدیث کو مستدرک میں صحیح قرار دیا ہے، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13820]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13821
وَعَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا وَلَّدَنِي مِنْ سِفَاحِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْءٌ، وَمَا وَلَّدَنِي إِلَّا نِكَاحٌ كَنِكَاحِ الْإِسْلَامِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، وَلَمْ أَعْرِفِ الْمَدِينِيَّ وَلَا شَيْخَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ز مانہ جاہلیت کے زنا سے متعلق کوئی چیز میری پیدائش میں حصہ نہیں بنی، میں صرف نکاح کے نتیجے میں پیدا ہوا ہوں، جو اسلام کے نکاح کی مانند ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے مدینی کے حوالے سے حویرث سے نقل کی ہے، اور میں نہ مدینی سے واقف ہوں اور نہ اس کے استاد سے واقف ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13821]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10812)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13822
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَسَّمَ الْخَلْقَ قِسْمَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمَا قِسْمًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: (أَصْحَابُ الْيَمِينِ) (وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ) فَأَنَا مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَنَا مِنْ خَيْرِ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، ثُمَّ جَعَلَ الْقِسْمَيْنِ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ: (فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ) فَأَنَا مِنْ خَيْرِ السَّابِقِينَ، ثُمَّ جَعَلَ الْبُيُوتَ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهَا قَبِيلَةً فَذَلِكَ قَوْلُهُ: (شُعُوبًا وَقَبَائِلَ) فَأَنَا أَتْقَى وَلَدِ آدَمَ وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ، ثُمَّ جَعَلَ الْقَبَائِلَ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهَا بَيْتًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ: (إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا) ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِبْعِيٍّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان دونوں میں سے زیادہ بہتر حصے میں رکھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: دائیں طرف والے لوگ اور بائیں طرف والے لوگ تو میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے ہوں اور میں دائیں طرف والے لوگوں میں سے سب سے بہتر ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں حصوں کو مختلف گھروں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھر میں رکھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: دائیں طرف والے لوگ، دائیں طرف والے لوگ کیا ہیں اور بائیں طرف والے لوگ، بائیں طرف والے لوگ کیا ہیں، اور سبقت والے لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں۔ تو میں سبقت لے جانے والے بہتر افراد میں سے ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف گھروں کو مختلف قبائل کی شکل میں تقسیم کیا تو اس نے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: گروہ اور قبیلے۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے سب سے بہتر گھرانے میں رکھا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی سے دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور ایک راوی عبایہ بن ربعی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13822]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2674)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13823
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذِهِ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ فِي بَنِي هَاشِمٍ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ فِي وَسَطِ النَّتَنِ. فَانْطَلَقَتِ الْمَرْأَةُ فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَالٍ تَبْلُغُنِي عَنْ أَقْوَامٍ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَسَكَنَهَا، وَأَسْكَنَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، [ وَخَلَقَ الْأَرْضَ سَبْعًا فَاخْتَارَ الْعُلْيَا مِنْهَا فَأَسْكَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ ] وَخَلَقَ الْخَلْقَ فَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ، وَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَيْشًا، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا مِنْ خِيَارٍ إِلَى خِيَارٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَلِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَلِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ". وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ بِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران ایک خاتون وہاں سے گزری، حاضرین میں سے کسی نے کہا: یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں، تو حاضرین میں سے ایک شخص بولا: بنو ہاشم میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس طرح ہے، جس طرح ریحانہ (نامی پھول) گندگی کے درمیان میں موجود ہو، وہ خاتون گئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ان اقوال کا کیا معاملہ ہے؟ جو کچھ لوگوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچے ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اور ان میں سے سب سے اوپر والے کو اختیار کیا، پھر اس نے ان آسمانوں میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا، وہاں رہائش دی، اس نے سات زمینیں پیدا کیں اور اس نے سب سے اوپر والی (زمین) کو منتخب کر کے ان میں جس مخلوق کو چاہا، وہاں رہنے دیا، اس نے مخلوق کو پیدا کیا اور تمام مخلوق میں اولاد آدم کو منتخب کیا اور اولاد آدم میں عربوں کو منتخب کیا، اور عربوں میں مضر قبیلے کے لوگوں کو منتخب کیا اور مضر میں قریش کو منتخب کیا اور قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا، تو میں بہترین لوگوں سے بہترین لوگوں کی طرف سے منتقل ہوتا رہا، جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا، وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے، ان کے ساتھ بغض رکھے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: جو شخص عربوں سے محبت رکھے گا، تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے گا اور جو شخص عربوں سے بغض رکھے گا وہ میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حماد بن واقد ہے، اور وہ ضعیف ہے، اور اس کی روایت کا اعتبار کیا جائے گا، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13823]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13650)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13824
وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: أَتَى نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّا نَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: إِنَّمَا مَثَلُ مُحَمَّدٍ مَثَلَ نَخْلَةٌ نَبَتَتْ فِي الْكِبَا - قَالَ حُسَيْنٌ: الْكِبَا: الْكُنَاسَةُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟". قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ:" أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ". قَالَ: فَمَا سَمِعْنَاهُ يَنْتَمِي قَبْلَهَا" إِلَّا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا، فَأَنَا خَيْرُهُمْ بَيْتًا وَخَيْرُهُمْ نَفْسًا". - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے عرض کی: ہم نے آپ کی قوم کے افراد کو باتیں کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے یہ کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے جو کوڑے میں اگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں کون ہوں؟ لوگوں نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، راوی کہتے ہیں: ہم نے اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نسب اس طرح بیان کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا، پھر اس نے اس مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان دونوں حصوں میں سے بہتر حصے میں رکھا، پھر اس نے اس کو مختلف قبائل میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، پھر اس نے ان کو مختلف گھرانوں میں تقسیم کیا، تو مجھے ان میں سب سے بہتر گھرانے میں رکھا، تو میں گھرانے کے اعتبار سے، اُن سب میں بہتر ہوں، اور ذاتی اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13824]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (165/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13825
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَثَلِي وَمَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي مَزْبَلَةٍ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّبَيْرِ، إِنْ صَحَّ عَنْهُ، فَإِنَّ فِيهِ ابْنَ لَهِيعَةَ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میری اور میرے اہل بیت کی مثال، کھجور کے اُس درخت کی مانند ہے جو کوڑے کی جگہ میں اُگ جاتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور یہ منکر ہے، بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قول ہے، تو یہ مستند طور پر ان سے منقول ہو گا، کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13825]

الحكم على الحديث: إسنادہ منکر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13826
وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: إِنَّ مَثَلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَثَلُ نَخْلَةٍ فِي كَبْوَةٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَهَذَا الظَّنُّ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قریش نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کھجور کے اس درخت کی مانند ہے، جو گندی جگہ میں ہوتا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے، اور اس کے بارے میں یہی گمان ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13826]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2400)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13827
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ ابْنٌ لِصَفِيَّةَ، عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ عَلَيْهِ وَصَاحَتْ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا:" يَا عَمَّةُ، مَا يُبْكِيكِ؟". قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي. قَالَ:" يَا عَمَّةُ، مَنْ تُوَفِّيَ لَهُ وَلَدٌ فِي الْإِسْلَامِ فَصَبَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ". فَسَكَتَتْ. ثُمَّ خَرَجَتْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَقْبَلَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا صَفِيَّةُ، قَدْ سَمِعْتُ صُرَاخَكَ، إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. فَبَكَتْ فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُكْرِمُهَا وَيُحِبُّهَا فَقَالَ:" يَا عَمَّةُ، أَتَبْكِينَ وَقَدْ قُلْتُ لَكِ مَا قُلْتُ؟". قَالَتْ: لَيْسَ ذَاكَ أَبْكَانِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَقْبَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: إِنَّ قَرَابَتَكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَنْ تُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا. قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" يَا بِلَالُ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ". فَهَجَّرَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ؟ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي، فَإِنَّهَا مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ". فَقَالَ عُمَرُ: فَتَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْهُ سَبَبٌ وَنَسَبٌ. ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَرْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَإِذَا هُمْ يَتَفَاخَرُونَ وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْتُ: مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالُوا: إِنَّ الشَّجَرَةَ لِتَنْبُتَ فِي الْكِبَا. وَقَالَ: فَمَرَرْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، هَجِّرْ بِالصَّلَاةِ". فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أَنَا؟". قَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ:" انْسُبُونِي". قَالُوا: أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ:" أَجَلْ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْتَذِلُونَ أَصْلِي؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَفْضَلُهُمْ أَصْلًا وَخَيْرُهُمْ مَوْضِعًا". قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ بِذَلِكَ قَالَتْ: قُومُوا فَخُذُوا السِّلَاحَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أُغْضِبَ. قَالَ: فَأَخَذُوا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى مِنْهُمْ إِلَّا الْحَدَقَ، حَتَّى أَحَاطُوا بِالنَّاسِ فَجَعَلُوهُمْ فِي مِثْلِ الْحَرَّةِ، حَتَّى تَضَايَقَتْ بِهِمْ أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ وَالسِّكَكِ، ثُمَّ قَامُوا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَأْمُرُنَا بِأَحَدٍ إِلَّا أَبَرْنَا عِتْرَتَهُ. فَلَمَّا رَأَى النَّفَرُ مِنْ قُرَيْشٍ ذَلِكَ، قَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرُوا وَتَنَصَّلُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" النَّاسُ دِثَارٌ وَالْأَنْصَارُ شِعَارٌ". فَأَثْنَى عَلَيْهِمْ وَقَالَ خَيْرًا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں، ان کا بیٹا فوت ہو گیا، وہ اس پر رونے لگیں اور چیخ و پکار کرنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: اے پھوپھی جان! آپ کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: میرا بیٹا فوت ہو گیا ہے، آپ نے فرمایا: اے پھوپھی جان! جس کا اسلام میں بچہ فوت ہو جائے اور وہ صبر سے کام لے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔ تو وہ خاتون خاموش ہو گئیں، پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلیں، ان کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا، تو انہوں نے کہا: اے صفیہ! میں نے آپ کے رونے کی آواز سنی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی رشتہ داری آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں دے پائے گی، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رونے کی آواز سنی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور ان سے محبت بھی رکھتے تھے، آپ نے فرمایا: اے پھوپھی جان! میں نے آپ کو ایک بات بتائی ہے اور اس کے باوجود آپ رو رہی ہیں؟ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس وجہ سے نہیں رو رہی ہوں، عمر بن خطاب کا مجھ سے سامنا ہوا، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی رشتہ داری، اللہ کی بارگاہ میں، آپ کے کسی کام نہیں آئے گی، راوی کہتے ہیں، تو آپ غصے میں آ گئے، آپ نے فرمایا: اے بلال! لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کرو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے جمع ہونے کا اعلان کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی، قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا، صرف میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ دنیا اور آخرت میں ملا رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسی وجہ سے میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم کلثوم کے ساتھ شادی کی تھی، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن یہ بات سنی تھی، تو میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرا بھی رشتہ قائم ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا، تو میرا گزر قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس سے ہوا، وہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے اور زمانہ جاہلیت کے امور کا ذکر کر رہے تھے، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ہم میں سے ہیں، انہوں نے کہا: بعض اوقات درخت کسی کوڑے میں بھی اگ جاتا ہے، راوی کہتے ہیں: میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! لوگوں کو جمع ہونے کے لئے کہو، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: میں کون ہوں؟ لوگوں نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرا نسب بیان کرو! لوگوں نے عرض کی: آپ سیدنا محمد بن عبدالله بن عبدالمطلب ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! میں محمد بن عبداللہ ہوں، اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں، لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ کہ وہ میری اصل کو ہلکا قرار دیتے ہیں، اللہ کی قسم! میں اصل کے اعتبار سے ان سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہوں، اور مقام کے اعتبار سے اُن سب میں بہتر ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب انصار نے اس بارے میں سنا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اٹھو اور ہتھیار اٹھا لو! کیونکہ اللہ کے رسول کو غصہ دلایا گیا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: ان لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، ان کا ہجوم بہت زیادہ تھا، انہوں نے لوگوں کو گھیر لیا اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مسجد کے دروازے اور گلیاں ان سے بھر گئے، پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں جس شخص کے بارے میں حکم دیں گے، ہم اس کی نسل فنا کر دیں گے، جب قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور آپ کے سامنے معذرت پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوسرے لوگ اوپر اوڑھنے والی چادر ہیں، اور انصار جسم کے ساتھ لگنے والا لباس ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف کی اور ان لوگوں کے بارے میں بھلائی کی بات ارشاد فرمائی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13827]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2363)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13828
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ بَعَثَ جِبْرِيلَ فَقَسَّمَ النَّاسَ قِسْمَيْنِ، فَقَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمًا وَقَسَّمَ الْعَجَمَ قِسْمًا، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي الْعَرَبِ، ثُمَّ قَسَّمَ الْعَرَبَ قِسْمَيْنِ، فَقَسَّمَ الْيَمَنَ قِسْمًا وَقَسَّمَ مُضَرَ قِسْمًا وَقُرَيْشًا قِسْمًا، وَكَانَتْ خِيَرَةُ اللَّهِ فِي قُرَيْشٍ، ثُمَّ أَخْرَجَنِي مِنْ خَيْرِ مَنْ أَنَا مِنْهُ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، تو اس نے جبرائیل کو بھیجا، اس نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، اس نے عربوں کو ایک قسم بنایا اور عجمیوں کو ایک قسم بنایا، اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری (یا منتخب ہونا) عربوں میں ہے، پھر اس نے عربوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا، یمن کو ایک قسم بنایا اور مضر کو ایک قسم بنایا، اور قریش کو ایک قسم بنایا، تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہتری قریش میں ہے، پھر اس نے مجھے بہتر (خاندان) میں سے نکالا، جس سے میرا تعلق ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب علامات النبوة/حدیث: 13828]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں