المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. مجاهد، عن عبد الرحمن
مجاہد کی عبدالرحمن سے روایات
حدیث نمبر: 16287
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَانْسُكْ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوا لو اور قربانی کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھلاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16287]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 115، حدیث 237»
حدیث نمبر: 16288
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَارَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَ صَالِحٌ أَبُو الْخَلِيلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي وَهَوَامُّ رَأْسِي تَسَّاقَطُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «احْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ أَوِ اذْبَحْ ذَبِيحَةً»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے سر کی جوئیں جھڑ رہی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہاری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، یا ایک ذبیحہ ذبح کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16288]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 115، حدیث 238»
حدیث نمبر: 16289
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «احْلِقْ رَأْسَكَ» ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ أَوْ أَنْسُكُ مَا تَيَسَّرَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں ان کے پاس رکے جبکہ ان کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں تمہاری سر کی جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا لو۔“ پھر مجھے حکم دیا کہ میں تین دن کے روزے رکھوں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں یا جو میسر ہو قربانی کروں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16289]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 115، حدیث 239»
حدیث نمبر: 16290
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16290]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 115، حدیث 240»
حدیث نمبر: 16291
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟، قَالَ:" قُولُوا: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد اور آلِ محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بےشک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16291]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 116، حدیث 241»
حدیث نمبر: 16292
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّهُ قَالَ لَهُ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟، قَالَ:" قُلْ: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے راوی سے کہا: کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ راوی نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں معلوم ہو گیا کہ آپ کو سلام کیسے کریں، تو آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو: اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر رحمت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی، بےشک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے، اور محمد پر برکت نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بےشک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16292]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 116، حدیث 242»
38. الشعبي، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى
شعبی کی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایات
حدیث نمبر: 16293
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَلَهُ وَفْرَةٌ وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَبِأَعْلَاهُ قَمْلَةٌ أَوْ صَؤَابٌ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَأَذًى، أَتَجِدُ نُسُكًا؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ أَوْجِزْهُ، فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ، بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا جبکہ وہ احرام میں تھے، ان کے سر کے بال گھنے تھے، اور ہر بال کی جڑ اور اوپری سرے پر جوئیں یا اس کے انڈے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ضرور تکلیف دہ ہے، کیا تمہیں قربانی میسر ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے چھوٹا کر دو (یعنی بال کاٹ دو)، اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع کھجور۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16293]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 117، حدیث 243»
حدیث نمبر: 16294
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «إِنْ شِئْتَ فَانْسُكْ نَسِيكَةً، وَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ سِتَّ مَسَاكِينٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر چاہو تو قربانی کرو، اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، اور اگر چاہو تو چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16294]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 117، حدیث 244»
حدیث نمبر: 16295
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَلَيَّ وَفْرَةٌ مِنْ أَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ إِلَى فَرْعِهَا قَمْلٌ وَصِئْبَانٌ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَأَذًى» ، قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَاحْلِقْ وَاذْبَحْ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال میرے پاس سے گزرے جبکہ میرے سر کے بال گھنے تھے اور ہر بال کی جڑ سے لے کر سرے تک جوئیں اور ان کے انڈے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو تکلیف دہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو سر منڈوا لو اور قربانی کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور صدقہ دو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16295]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 117، حدیث 245»
حدیث نمبر: 16296
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ، وَلَمْ يَدْخُلْ وُهَيْبٌ وَلَا بِشْرٌ بَيْنَ الشَّعْبِيِّ وَكَعْبِ بْنِ أَبِي لَيْلَى
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال میرے پاس سے گزرے - پھر راوی نے وہیب کی حدیث کی طرح آگے بیان کیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہیب اور بشر، دونوں نے شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان سند میں ابن ابی لیلیٰ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16296]
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہیب اور بشر، دونوں نے شعبی اور کعب بن عجرہ کے درمیان سند میں ابن ابی لیلیٰ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16296]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 117، حدیث 246»