🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
22. محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابن كعب بن مالك
محمد بن عمرو بن عطاء کی ابن کعب بن مالک سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16247
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لَا يَأْتُونَهَا أَوْ لَيَطْبَعَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ جمعہ کے دن اذان کی پکار سنتے ہیں مگر پھر بھی نماز کے لیے نہیں آتے، وہ ضرور اس سے باز آ جائیں، ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16247]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 99، حدیث 197»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16248
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ أَبْصَارَهُمْ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16248]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 99، حدیث 198»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن ابن كعب بن مالك
اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ کی ابن کعب بن مالک سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16249
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزْيَدٍ الْعُمَرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: يُمَارِي بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُبَاهِي بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ يَسْتَجِيرُ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ"، فَقَالَ فِيهِ كَلَامًا شَدِيدًا
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص علم ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے لیے حاصل کرے: بےوقوفوں سے جھگڑنے کے لیے، یا علماء کے سامنے فخر جتانے کے لیے، یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے“ - اور اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں وعید کی بات فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16249]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 100، حدیث 199»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. عميرة بنت عبيد الله بن كعب، عن أبيها
عمیرہ بنت عبیداللہ بن کعب کی اپنے والد سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمِيرَةُ بِنْتُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَصِرْنَا إِلَى الشِّعْبِ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ عَرَفَهُ، فَقُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنِ اسْكُتْ، ثُمَّ أَلْبَسَنِي لَأْمَتَهُ، وَلَبِسَ لَأْمَتِي، فَلَقَدْ ضُرِبْتُ حَتَّى جُرِحْتُ عِشْرِينَ"، أَوْ قَالَ: «بِضْعَةَ عَشَرَ جُرْحًا، كُلُّ مَنْ يَضْرِبُنِي يَحْسِبُنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب غزوہ احد کا دن ہوا اور ہم گھاٹی میں پہنچے تو میں سب سے پہلے شخص تھا جس نے انہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) پہچانا، میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو انہوں نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کو کہا، پھر مجھے اپنی زرہ پہنا دی اور میری زرہ خود پہن لی، تو مجھے اتنا مارا گیا کہ میں بیس زخم کھا گیا“ - یا کہا: ”دس سے زیادہ زخم“ - ”ہر شخص جو مجھے مارتا وہ سمجھتا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16250]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 100، حدیث 200»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. معبد بن كعب بن مالك، عن أبيه
معبد بن کعب بن مالک کی اپنے والد سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16251
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمَلِيحِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَقَبَةِ، وَقَدْ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَافُوهُ سَبْعِينَ رَجُلًا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، أَقَمْنَا سَنَةً يَمْشِي أَحَدُنَا إِلَى صَاحِبِهِ بِالسَّمْعِ وَالرَّحْلِ وَالْمَطْعَمِ حَتَّى وَافَاهُ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب (پہلی) عقبہ سے بارہ آدمی واپس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ اگلے سال ستر آدمی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملیں، تو ہم ایک سال اس حال میں رہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے پاس جا کر بیعت، سواری اور کھانے کی بات چیت کرتا رہا، یہاں تک کہ ہم میں سے ستر آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16251]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 101، حدیث 201»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. عمر بن كثير بن أفلح، عن كعب بن مالك
عمر بن کثیر بن افلح کی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16252
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: مَا كُنْتُ فِي غَزَاةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَتَجَهَّزُ غَدًا ثُمَّ أَلْحَقُهُ، فَأَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، ثُمَّ قُلْتُ أَجِدُّ فِي جَهَازِي غَدًا وَالنَّاسُ قَرِيبٌ بَعْدُ فَأَلْحَقُهُمْ، فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ أَخَذْتُ فِي جَهَازِي فَأَمْسَيْتُ وَلَمْ أَفْرَغْ، فَقُلْتُ هَيْهَاتَ، سَارَ النَّاسُ ثَلَاثًا، فَأَقَمْتُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ النَّاسُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ، فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ فِي غَزْوَةٍ أَيْسَرَ لِلظَّهْرِ وَالنَّفَقَةِ مِنِّي فِي هَذِهِ الْغَزَاةِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ لَا يُكَلِّمُونَا، وَأَمَرَ نِسَاءَنَا أَنْ يَتَجَنَّبْنَ عَنَّا، قَالَ: فَتَسَوَّرْتُ حَائِطًا ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا أَنَا بِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَقُلْتُ: أَيْ جَابِرُ‍ نَشَدْتُكَ بِاللهِ هَلْ عَلِمْتَنِي غَشَشْتُ اللهَ وَرَسُولَهُ يَوْمًا قَطُّ؟، فَسَكَتَ عَنِّي، فَجَعَلَ لَا يُكَلِّمُنِي، فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا عَلَى الثَّنِيَّةِ يَقُولُ: كَعْبًا كَعْبًا، فَدَنَا مِنِّي، فَقَالَ: بَشِّرُوا كَعْبًا
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اتنا آسودہ نہیں تھا جتنا اس غزوے میں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے سوچا: کل تیاری کر لوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گا۔ چنانچہ میں اپنی تیاری میں لگ گیا، شام ہو گئی اور میں فارغ نہ ہو سکا، پھر میں نے سوچا: کل اپنی تیاری میں محنت کروں گا، لوگ ابھی قریب ہی ہوں گے تو انہیں جا ملوں گا، پھر شام ہو گئی اور میں فارغ نہ ہو سکا۔ جب تیسرا دن آیا تو میں نے پھر تیاری شروع کی، شام ہو گئی اور میں پھر فارغ نہ ہو سکا، تو میں نے کہا: افسوس! لوگ تین دن پہلے نکل چکے ہیں، تو میں وہیں رک گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت کرنے لگے، تو میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا، اور کہا: میں کسی غزوے میں سواری اور خرچ کے اعتبار سے اتنا آسودہ نہیں تھا جتنا اس غزوے میں تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ ہم سے بات نہ کریں، اور ہماری عورتوں کو حکم دیا کہ وہ ہم سے دور رہیں۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن میں ایک باغ کی دیوار پھلانگا تو اچانک میرا سامنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہوا، تو میں نے کہا: اے جابر! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کبھی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ کیا ہو؟ تو وہ خاموش رہے اور مجھ سے بات نہ کی۔ ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میں نے ایک شخص کو ٹیلے پر یہ کہتے سنا: کعب! کعب! تو وہ میرے قریب آیا اور کہا: کعب کو خوشخبری دو۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16252]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 101، حدیث 202»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. أبو جعفر محمد بن علي بن حسين، عن كعب بن مالك
ابوجعفر محمد بن علی بن حسین کی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِيسَى التَّنُوخِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرَّ عَلِيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْزَمُ غَرِيمًا لِي، فَأَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ، فَقَالَ: «يَا كَعْبُ خُذِ الشَّطْرَ، وَدَعِ الشَّطْرَ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے ایک مقروض کو پکڑے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”اے کعب! آدھا لے لو اور آدھا چھوڑ دو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16253]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 102، حدیث 203»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. عمر بن الحكم بن ثوبان، عن كعب بن مالك
عمر بن حکم بن ثوبان کی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ يَعُودُهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا أَبَا حَفْصٍ حَدِّثْنَا حَدِيثًا لَيْسَ فِيهِ اخْتِلَافٌ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مِنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَشْفَعَ فِيهَا»
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ، عمر بن حکم رحمہ اللہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، تو ابوبکر نے کہا: اے ابوحفص! ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کریں جس میں کوئی اختلاف نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: مجھے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے وہ رحمت میں داخل ہو جاتا ہے، اور جب اس کے پاس بیٹھ جائے تو اس (رحمت) میں شفاعت طلب کرتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16254]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 102، حدیث 204»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. علي بن أبي طلحة، عن كعب بن مالك
علی بن ابی طلحہ کی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16255
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تُحْصِنُكَ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کسی یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا اور فرمایا: ”وہ تمہیں گناہ سے بچا نہیں سکے گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16255]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 103، حدیث 205»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. أم حميدة بنت عبد الله بن كعب بن مالك، عن كعب
ام حمیدہ بنت عبداللہ بن کعب بن مالک کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16256
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَتْنِي حُمَيْدَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أُمِّهَا، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «رَقِيتُ عَلَيْهِ وَقَدْ عَلِمْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ»
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، تو فرمایا: ”میں اس پر چڑھا جبکہ مجھے لیلۃ القدر کا علم ہو چکا تھا، پھر مجھے بھلا دی گئی، لہٰذا اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16256]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 103، حدیث 206»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں