الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5295. 5- باب قوله: وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (51) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ (52) وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ (53) أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (54)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں ہے کہ ”اور یقیناً ہم نے ان کے لیے کلام (نصیحت) کو مسلسل پہنچا دیا تاکہ وہ دھیان دیں، وہ لوگ جنہیں ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور جب ان پر اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، بے شک یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے اور ہم تو اس سے پہلے ہی سے اطاعت گزار تھے، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا، اور وہ نیکی کے ذریعے برائی کو ٹال دیتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 12965
12965- عن رفاعة القرظي قال: نزلت هذه الآية في عشرة، أنا أحدهم وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (51) الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ (52) وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ (53) أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (54) .
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه ابن جرير في تفسيره (18/276)، وابن أبي حاتم في تفسيره (9/2987-2988)، والطبراني في الكبير (5/46-47) كلهم من طريق حماد بن سلمة، قال: حدثنا عمرو بن دينار، عن يحيى بن جعدة، عن رفاعة القرظي فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12965 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه ابن جرير في تفسيره (18/276)، وابن أبي حاتم في تفسيره (9/2987-2988)، والطبراني في الكبير (5/46-47) كلهم من طريق حماد بن سلمة، قال: حدثنا عمرو بن دينار، عن يحيى بن جعدة، عن رفاعة القرظي فذكره.
0
وإسناده صحيح.
0
قوله: أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ فأهل الكتاب لإيمانهم بنبيهم ثم لإيمانهم بالنبي صلى الله عليه وسلم يؤتون أجرهم مرتين، وقد جاء في الصحيح:
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12965 in Urdu