الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5364. 22- باب قوله: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا (53)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، اس حال میں کہ تم اس کے تیار ہونے کا انتظار کرنے والے نہ ہو، لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو داخل ہو جایا کرو، پھر جب تم کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو، یقیناً یہ عمل نبی کو ایذا دیتا تھا تو وہ تم سے شرماتے تھے اور اللہ حق بات واضح کرنے سے نہیں شرماتا، اور جب تم ان (ازواجِ مطہرات) سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے، اور تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ ہی یہ کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی ازواج سے نکاح کرو، بے شک اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔“
حدیث نمبر: 13100
13100- عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا دعا أحدُكم أخاه فليُجِبْ عُرسا كان أو نحوه
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في النكاح (1429: 100) عن محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13100 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في النكاح (1429: 100) عن محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر فذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13100 in Urdu