🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5578. 1- باب قوله: سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ (2) وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ (3) ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (4) مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ (5) وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (6)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں ہے کہ ”اللہ ہی کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور وہی نہایت زبردست، کمال حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے ان کافروں کو پہلے ہی حشر یعنی پہلی جلا وطنی کے موقع پر ان کے گھروں سے نکال دیا، تمہیں یہ گمان تک نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ خود بھی یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے، مگر اللہ کا حکم ان پر وہاں سے آ پہنچا جہاں سے انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں برباد کرنے لگے، پس اے بصیرت والو! عبرت حاصل کرو۔ اور اگر اللہ نے ان کے مقدر میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ انہیں دنیا ہی میں عذاب دے دیتا، اور ان کے لیے آخرت میں تو آگ کا عذاب یقینی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرے تو یقیناً اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، وہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔ اور جو مال اللہ نے ان سے اپنے رسول کو بطورِ فئی عطا فرمایا، اس کے حصول کے لیے تم نے نہ تو گھوڑے دوڑائے اور نہ ہی اونٹ، لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ و تسلط عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13514
13514- عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حرَّق نخل بني النضير وقطع، وهي البويرة، فأنزل الله تعالى: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4884) ومسلم في الجهاد والسير (1746: 29) كلاهما عن قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث (هو ابن سعد)، عن نافع، عن ابن عمرفذكره.»

الحكم على الحديث: متفق عليه

الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13514 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4884) ومسلم في الجهاد والسير (1746: 29) كلاهما عن قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث (هو ابن سعد)، عن نافع، عن ابن عمرفذكره.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13514 in Urdu