الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5578. 1- باب قوله: سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ (2) وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ (3) ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (4) مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ (5) وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (6)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں ہے کہ ”اللہ ہی کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور وہی نہایت زبردست، کمال حکمت والا ہے۔ وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے ان کافروں کو پہلے ہی حشر یعنی پہلی جلا وطنی کے موقع پر ان کے گھروں سے نکال دیا، تمہیں یہ گمان تک نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ خود بھی یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے، مگر اللہ کا حکم ان پر وہاں سے آ پہنچا جہاں سے انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں برباد کرنے لگے، پس اے بصیرت والو! عبرت حاصل کرو۔ اور اگر اللہ نے ان کے مقدر میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ انہیں دنیا ہی میں عذاب دے دیتا، اور ان کے لیے آخرت میں تو آگ کا عذاب یقینی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرے تو یقیناً اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، وہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کر دے۔ اور جو مال اللہ نے ان سے اپنے رسول کو بطورِ فئی عطا فرمایا، اس کے حصول کے لیے تم نے نہ تو گھوڑے دوڑائے اور نہ ہی اونٹ، لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غلبہ و تسلط عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 13515
13515- عن ا بن عباس في قول الله عز وجل: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا قال: اللينة: النخلة، وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ قال: استزلوهم من حصونهم، قال: أُمِروا بقطع النخل، فحكَّ في صدورهم، فقال المسلمون: قد قطعنا بعضا وتركنا بعضا، فلنسألن رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل لنا فيما قطعنا من أجر؟ وهل علينا فيما تركنا من وزر؟ فأنزل الله تعالى: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا الآية
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه الترمذي (3303) والنسائي في الكبرى (11510) كلاهما عن الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، قال: حدثنا حفص بن غياث، قال: حدثنا حبيب بن أبي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13515 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه الترمذي (3303) والنسائي في الكبرى (11510) كلاهما عن الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان بن مسلم، قال: حدثنا حفص بن غياث، قال: حدثنا حبيب بن أبي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، فذكره.
0
وإسناده صحيح.
0
ولكن قال الترمذي: "هذا حديث حسن غريب، وروى بعضهم هذا الحديث عن حفص بن غياث، عن حبيب بن أبي عمرة، عن سعيد بن جبير مرسلا، ولم يذكر فيه عن ابن عباس" وقال: "حدثنا بذلك عبد الله بن عبد الرحمن، عن هارون بن معاوية، عن حفص بن غياث، عن حبيب بن أبي عمرة، عن سعيد بن جبير، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا، سمع مني محمد بن إسماعيل هذا الحديث".
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13515 in Urdu