الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5615. 5- باب قوله: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ (10) وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (11) وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ (12)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ”اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں، پھر ان دونوں نے ان سے خیانت کی، تو وہ (انبیاء) اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے اور ان (عورتوں) سے کہہ دیا گیا کہ تم دونوں آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ (جہنم میں) داخل ہو جاؤ۔ اور اللہ نے ایمان لانے والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، جب اس نے التجا کی کہ اے میرے پروردگار! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر تعمیر فرما اور مجھے فرعون اور اس کے (بد) عمل سے نجات عطا فرما اور مجھے ظالم قوم سے مخلصی دے۔ اور عمران کی بیٹی مریم (کی مثال دی) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اللہ کی فرماں بردار بندوں میں سے تھی۔“
حدیث نمبر: 13592
13592- عن المغيرة بن شعبة قال: لما قدمتُ نجران سألوني فقالوا: إنكم تقرؤون: يا أخت هارون، وموسى قبل عيسى بكذا وكذا، فلما قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم سألته عن ذلك، فقال: إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين قبلهم.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الآداب (2135) من طرق عن ابن إدريس عن أبيه عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل، عن المغيرة بن شعبة قال، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 13592 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح: رواه مسلم في الآداب (2135) من طرق عن ابن إدريس عن أبيه عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل، عن المغيرة بن شعبة قال، فذكره.
0
يعني أن مريم أم عيسى ليست أخت هارون أخي موسى، وإنما هي أخت هارون آخر سُمّيَ باسم هارون أخي موسى، لأنه كان من قبيلته.
0
وقد جاءت في فضائل آسية ومريم أحاديث أخرى، وهي مذكورة في كتاب أخبار الماضين.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 13592 in Urdu