السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2120. -- باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم
-- باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10047
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ" وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَدْ سَمِعَهُ غَيْرُهَا يَأْمُرُ بِقَتْلِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھپکلی چھوٹا موذی جانور ہے۔“ لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے قتل کا حکم دیتے نہیں سنا۔
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10047]
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10047]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2238»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10047 in Urdu