السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2120. -- باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم
-- باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، فِي قَوْلِهِ:" وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ"، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: مَعْنَاهُ" كُلُّ سَبُعٍ يَعْقِرُ، وَلَمْ يَخُصَّ بِهِ الْكَلْبَ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ يَجُوزُ فِي الْكَلَامِ أَنْ يُقَالَ لَلسَّبُعِ: كَلْبٌ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَرْوُونَ فِي الْمَغَازِي أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ كَانَ شَدِيدَ الْأَذَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اللهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبًا مِنْ كِلَابِكَ" فَخَرَجَ عُتْبَةُ إِلَى الشَّامِ مَعَ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَطَرَقَهُمُ الْأَسَدُ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلَهُ، فَصَارَ الْأَسَدُ هَا هُنَا قَدْ لَزِمَهُ اسْمُ الْكَلْبِ، قَالَ: وَمِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] فَهَذَا اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنَ الْكَلْبِ، ثُمَّ دَخَلَ فِيهِ صَيْدُ الْفَهْدِ وَالصَّقْرِ وَالْبَازِيِّ فَلِهَذَا قِيلَ: لِكُلِّ جَارِحٍ أَوْ عَاقِرٍ مِنَ السِّبَاعِ كَلْبٌ عَقُورٌ، ⦗٣٤٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ:" أَمَرَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَقْتُلَ الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفَأْرَةَ وَالزُّنْبُورَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ".
ابوعبید «كَلْبٌ عَقُورٌ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہر کاٹنے والا درندہ مراد ہے، یہ کتے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔“
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10052]
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10052]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 355»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10052 in Urdu