🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2124. جماع أبواب الإحصار -- باب: من أحصر بعدو وهو محرم
0احصار (حج یا عمرہ سے روکے جانے) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جس شخص کو دشمن کی وجہ سے روکا جائے درآں حالیکہ وہ محرم ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10074
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَمْ أَسْمَعْ مِمَّنْ حَفِظْتُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالتَّفْسِيرِ مُخَالِفًا فِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ الْمُشْرِكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَحَلَقَ، وَرَجَعَ حَلَالًا وَلَمْ يَصِلْ إِلَى الْبَيْتِ وَلَا أَصْحَابُهُ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحْدَهُ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ”اور اللہ کے لیے حج اور عمرے کو پورا کرو، پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)، اور اپنے سر نہ منڈواؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پہنچ جائے، پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزے یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دے۔“ [سورة البقرة: 196]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میں نے علم تفسیر کے ماہرین میں سے جن علمائے کرام سے (علم) محفوظ کیا ہے، ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بات میں اختلاف کرتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ آیت مقام حدیبیہ پر نازل ہوئی تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا گیا تھا اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کی اور سر منڈوایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال ہو کر واپس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام پہنچ سکے، سوائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے جو اکیلے وہاں پہنچے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10074]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10074
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَالْقُمَّلُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَهُمْ ⦗٣٥٢⦘ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللهُ الْفِدْيَةَ، وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ نُسُكُ شَاةٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے سر سے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ تجھے تکلیف دیتی ہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے کا حکم دے دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ حدیبیہ میں تھے، ان کے لیے وضاحت نہ کی گئی کہ اس کی وجہ سے وہ حلال ہو جائیں گے اور دخولِ مکہ کا بھی طمع تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فدیہ نازل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک (فرق، سولہ رطل یا تین صاع) کھانے کا چھ مسکینوں کو دینے کا حکم فرمایا، یا تین دن کے روزے رکھنے یا ایک بکری قربانی کرنے کا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10074]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1712»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10074 in Urdu