🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2126. -- باب: : لا قضاء على المحصر إلا أن لا يكون حج حجة الإسلام فيحجها
-- باب: محصر پر قضا لازم نہیں، سوائے اس کے کہ وہ فرض حج (حجۃ الاسلام) نہ ہو تو پھر اسے وہ حج کرنا ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10089
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِنْ قِبَلِ قَوْلِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ} [البقرة: 196] لَمْ يَذْكُرْ قَضَاءً، قَالَ: وَالَّذِي أَعْقِلُ فِي أَخْبَارِ أَهْلِ الْمَغَازِي شَبِيهٌ بِمَا ذَكَرْتُ مِنْ ظَاهِرِ الْآيَةِ، وَذَلِكَ أَنَّا قَدْ عَلِمْنَا فِي مُتَوَاطِئِ أَحَادِيثِهِمْ أَنْ قَدْ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ رِجَالٌ مَعْرُوفُونَ بِأَسْمَائِهِمْ، ثُمَّ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةَ الْقَضِيَّةِ، وَتَخَلَّفَ بَعْضُهُمْ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ وَلَوْ لَزِمَهُمُ الْقَضَاءُ لَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شَاءَ اللهُ بِأَنْ لَا يَتَخَلَّفُوا عَنْهُ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِهِ: وَقَالَ رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّمَا الْبَدَلُ عَلَى مَنْ نَقَضَ حَجَّهُ بِالتَّلَذُّذِ، فَأَمَّا مَنْ حَبَسَهُ عُذْرٌ وَغَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يَحِلُّ وَلَا يَرْجِعُ وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَهُوَ مُحْصَرٌ نَحَرَهُ إِنْ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ، وَإنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(یہ) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے: ﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ ”پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)۔“ [سورة البقرة: 196] (اس میں اللہ تعالیٰ نے) قضا کا ذکر نہیں فرمایا۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور اہلِ مغازی (سیرت و غزوات کے ماہرین) کی روایات سے جو بات میری سمجھ میں آتی ہے وہ اسی کے مشابہ ہے جو میں نے آیت کے ظاہر سے ذکر کی، اور وہ یہ کہ ہمیں ان کی متواتر اور باہم موافق روایات سے یہ معلوم ہے کہ حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو اپنے ناموں سے معروف ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرۃ القضیہ ادا فرمایا اور ان میں سے بعض لوگ بغیر کسی مجبوری کے مدینہ ہی میں پیچھے رہ گئے، اور اگر ان پر قضا لازم ہوتی تو ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہ رہیں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا: اور روح نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”بدل (قضا) صرف اس شخص پر ہے جس نے لذت اندوزی (جماع) کے ذریعے اپنا حج توڑ دیا ہو، رہا وہ شخص جسے کسی عذر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز نے روک دیا ہو تو وہ حلال ہو جائے گا اور (قضا کے لیے) دوبارہ نہیں آئے گا، اور اگر اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو اور وہ روکا گیا ہو تو اگر وہ اسے (حرم کی طرف) بھیجنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے (وہیں) ذبح کر دے، اور اگر اسے بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہو تو حلال نہ ہو یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ پہنچ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q10089]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10089
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَنَحَرُوا الْهَدْيَ وَحَلَقُوا رُءُوسَهُمْ وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ الْهَدْيُ، ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ وَلَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا أَنْ يَعُودُوا لِشَيْءٍ".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حدیبیہ کے مقام پر حلال ہوئے، انہوں نے قربانیاں کیں اور سر منڈائے، اور وہ بیت اللہ کے طواف سے پہلے اور قربانیوں کے بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہر چیز سے حلال ہو گئے، پھر ہمیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے یا اپنے ساتھ والوں میں سے کسی کو کسی چیز کی قضا کا یا کسی چیز کو دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10089]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10089 in Urdu