🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2133. -- باب: المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة
-- باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10131
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثنا النَّضْرُ، أنا إِسْرَائِيلُ، أنا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَشَكَا قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟" قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا، قَالَ:" فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللهَ" قُلْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: فَأَيْنَ دُعَّارُ طَيِّئٍ الَّذِينَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ" وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ:" كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفَّيْهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ، وَلَيَلْقَيَنَّ اللهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، فَيَقُولُ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولًا يُبَلِّغُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ، وَيَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ" قَالَ عَدِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شِقَّ تَمْرَةٍ فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ" قَالَ عَدِيٌّ: قَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ ⦗٣٧٠⦘ الْكُوفَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللهَ، وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ سَتَرَوْنَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُخْرِجُ الرَّجُلُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَافَرَ بِمَوْلَاةٍ لَهُ لَيْسَ هُوَ لَهَا بِمَحْرَمٍ وَلَا مَعَهَا مَحْرَمٌ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ ایک آدمی نے آکر فاقے کی اور دوسرے نے راستے کاٹے جانے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! کیا آپ نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں دیکھا، لیکن مجھے اس کے بارے میں خبر دی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا ایک عورت حیرہ سے کوچ کر کے کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا خوف ہوگا۔“ میں نے اپنے دل ہی میں کہا کہ قبیلہ طئی کے ڈاکو کہاں جائیں گے، جنہوں نے شہروں کو آگ لگا رکھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو کسریٰ کے خزانے فتح کیے جائیں گے“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسریٰ بن ہرمز! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز۔ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا، ایسے شخص کو تلاش کرے گا جو اسے اس سے قبول کر لے تو اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور تم میں سے کوئی ایک جس دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو ان کے درمیان ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا میں نے تیری طرف رسول نہ مبعوث کیا جس نے تجھے (میری بات) پہنچائی؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، وہ اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو صرف جہنم اور اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو صرف جہنم۔“
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک آزاد کردہ لونڈی کے ساتھ سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10131]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1728»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10131 in Urdu