السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2141. -- باب: جواز الجذع من الضأن
-- باب: بھیڑ میں سے جذع (چھ ماہ یا سال بھر کے بچے) کی قربانی کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 10165
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ مَعَنَا، أَوْ ⦗٣٧٨⦘ عَلَيْنَا مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُوَفِي الْجَذَعُ مِمَّا يُوَفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ".
نافع رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جو قربانی کی نذر مانے وہ اس کو دو جوتوں کا ہار پہنائے اور «شِعَار» کرے (یعنی کوہان کی دائیں جانب کو چیرا دے کر خون نکال کر مل دینا) پھر اس کو چلائے، پھر بیت اللہ یا منیٰ میں قربانی کے دن ذبح کرے۔ اس کے پہنچنے کی یہی جگہ ہے اور جس نے اونٹ یا گائے کی قربانی کی نذر مانی وہ جہاں مرضی اس کو «نَحْر» کر دے، قربانی کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 8804»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10165 in Urdu