السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2153. -- باب: ما يستحب من ذبح صاحب النسيكة نسيكته بيده وجواز الاستنابة فيه ثم حضوره الذبح؛ لما يرجى من المغفرة عند سفوح الدم
-- باب: قربانی کرنے والے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی ذبح کرنے کے مستحب ہونے کا بیان، اور اس میں کسی کو نائب بنانے اور پھر ذبح کے وقت وہاں موجود ہونے کے جواز کا بیان، اس مغفرت کی امید میں جو خون بہتے وقت متوقع ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 10224
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدٌ، وَيَعْلَى، ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثُلُثَيْنِ بِيَدِهِ وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا" قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَرِوَايَةُ جَعْفَرٍ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ نحر کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تہائی اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے باقی تمام کو نحر کر دیا۔
اسی طرح محمد بن اسحاق بن یسار نے روایت کیا ہے، اور جعفر کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10224]
اسی طرح محمد بن اسحاق بن یسار نے روایت کیا ہے، اور جعفر کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10224]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الحاكم: 4/ 247»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10224 in Urdu