🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
228. -- باب: البداية بالوجه ثم باليدين
-- باب: تیمم میں چہرے اور پھر دونوں ہاتھوں سے ابتدا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1032
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ يَعْنِي الْعَبْدِيَّ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَاجَةٍ لِابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى مِنَ السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ". لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَهُوَ أَتَمُّهُمَا.
نافع نے بیان کیا کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کسی کام کے لیے گیا، جب آپ رضی اللہ عنہما نے اپنی حاجت کو پورا کر لیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ ایک شخص کسی گلی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب قریب تھا کہ وہ شخص گلی میں چھپ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیوں کو دیوار پر مارا، اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر دوسری مرتبہ ہتھیلیوں کو مارا اور اپنے بازوؤں کا مسح کیا، پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”مجھے تیرے سلام کا جواب دینے سے صرف اس بات نے روکا تھا کہ میں طہارت کی حالت میں نہیں تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1032 in Urdu