السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2190. -- باب: في الجنائب
-- باب: جنائب (ساتھ لے جائے جانے والے اضافی جانوروں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10339
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ، فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيبَاتٍ مَعَهُ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُو بَعِيرًا مِنْهَا وَيَمُرُّ بِأَخِيهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهِ فَلَا يَحْمِلُهُ، وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَهَا" كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هَذِهِ الْأَقْفَاصَ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ اور گھر شیطانوں کے لیے بھی ہوتے ہیں۔“
(١) ”شیطانوں کے اونٹ کو میں نے دیکھا ہے، تم میں سے کوئی عمدہ قسم کے اونٹ اپنے ساتھ لے کر نکلتا ہے، وہ موٹے تازے ہیں، وہ کسی پر سواری نہیں کرتا، وہ اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے جس کی سواری تھک گئی، وہ اس کو سوار نہیں کرتا اور شیاطین کے گھر میں نے نہیں دیکھے۔“ سعید کہتے ہیں: میرے خیال میں یہ پنجرے ہیں جن پر لوگ ریشم کے پردے ڈال دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10339]
(١) ”شیطانوں کے اونٹ کو میں نے دیکھا ہے، تم میں سے کوئی عمدہ قسم کے اونٹ اپنے ساتھ لے کر نکلتا ہے، وہ موٹے تازے ہیں، وہ کسی پر سواری نہیں کرتا، وہ اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے جس کی سواری تھک گئی، وہ اس کو سوار نہیں کرتا اور شیاطین کے گھر میں نے نہیں دیکھے۔“ سعید کہتے ہیں: میرے خیال میں یہ پنجرے ہیں جن پر لوگ ریشم کے پردے ڈال دیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10339]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 2568»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10339 in Urdu