السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
231. -- باب: ما روي في الحائض والنفساء أيكفيهما التيمم عند انقطاع الدم إذا عدمتا الماء
-- باب: حائضہ اور نفاس والی عورت کے متعلق وارد شدہ احادیث کا بیان کہ خون بند ہونے پر پانی نہ ملنے کی صورت میں کیا ان کے لیے تیمم کافی ہے
حدیث نمبر: 1038
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ⦗٣٣٣⦘ الثَّوْرِيَّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ فِي الرَّمْلِ وَفِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ فَيَأْتِي عَلَيْنَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا نَجْدِ الْمَاءَ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ" يَعْنِي التَّيَمُّمَ. هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِالْمُثَنَّى ابْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، وَالْمُثَنَّى غَيْرُ قَوِّيٍّ، وَقَدْ رَوَاهُ الْحَجَّاجُ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: ہم ریت (والے علاقے) میں تھے اور ہم میں حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتیں موجود تھیں۔ ہم پر چار ماہ ایسے آئے کہ ہم نے پانی نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑتے یعنی تیمم کرتے۔“
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ» . اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ» . اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو يعليٰ 5870»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1038 in Urdu